Abid Hussain Shihar e Madinah
I live in Madinah and will send Islamic videos
8 sitesدریائے چناب کا یہ بڑا سیلابی ریلا ملتان کے قریب واقع شیر شاہ لنک (Sher Shah Bridge) اور شیر شاہ فلڈ بند تک 8 سے 9 اگست 2026 کے درمیان پہنچنے کا امکان ہے۔پاکستان کے محکمہ موسمیات (PMD) اور فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کی ہائیڈرولوجیکل رپورٹ کے مطابق، بھارت کی جانب سے چھوڑا گیا پانی اس وقت بالائی ہیڈورکس (مرالا اور قادر آباد) سے گزر رہا ہے۔ چونکہ بالائی علاقوں سے ملتان (جنوبی پنجاب) تک پانی پہنچنے میں 6 سے 7 دن کا وقت لگتا ہے، اس لیے یہاں پانی کا عروج اگلے ہفتے کے آغاز میں متوقع ہے۔شیر شاہ اور ملتان کے گردونواح کے لیے اہم ترین اپڈیٹس درج ذیل ہیں:🌊 متوقع سیلابی ریلے کی شدتہیڈ محمد والا اور شیر شاہ برج: جب یہ ریلا تریموں ہیڈورکس سے گزر کر نیچے آئے گا، تو شیر شاہ برج کے مقام پر پانی کا بہاؤ 6,00,000 سے 7,00,000 کیوسک (ہائی فلڈ) تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔دوہرا خطرہ (Dual Threat): خانوال اور ملتان کے قریب دریائے راوی اور دریائے چناب کا پانی آپس میں ملتا ہے۔ چونکہ راوی میں بھی بلوکی کے مقام پر سیلابی صورتحال ہے، اس لیے شیر شاہ بند پر پانی کا دباؤ بہت زیادہ بڑھ جائے گا۔🚨 الرٹ اور انتظامیہ کے اقداماتبریفنگ پوائنٹس (Breaching Points): اگر شیر شاہ فلڈ بند یا اکبر فلڈ بند پر پانی کا دباؤ خطرناک حد (417 فٹ) کو چھو گیا، تو ملتان شہر کی شہری آبادی کو بچانے کے لیے انتظامیہ متبادل مقامات پر کنٹرولڈ شگاف (طبیعی طور پر بند توڑنا) ڈال سکتی ہے۔متاثرہ ہونے والے قریبی علاقے: بند ٹوٹنے یا پانی اوور فلو ہونے کی صورت میں بستی کھوکھرا، گاجرا، خانپور قاضیاں، اور شجاع آباد کے نشیبی علاقے زیر آب آ سکتے ہیں۔🗺️ شیر شاہ بند اور ملتان کا جغرافیہدریائے چناب، شیر شاہ ٹول پلازہ اور ملتان بائی پاس کے گردونواح کی اہم لوکیشنز نیچے نقشے پر دیکھی جا سکتی ہیں:⚠️ مقامی آبادی کے لیے ضروری ہدایاتاگر آپ کا کوئی قریبی رشتہ دار یا جاننے والا شیر شاہ بند کے قریبی دیہاتوں یا نشیبی بستیوں میں مقیم ہے، تو انہیں فوری طور پر درج ذیل ہدایات دیں:مال مویشی اور قیمتی سامان: کسی بھی ہنگامی صورتحال سے پہلے مویشیوں اور اناج کو ملتان بائی پاس یا کسی اونچی جگہ منتقل کر لیں۔انتظامیہ کی ہدایات: پی ڈی ایم اے (PDMA) یا فلڈ وارننگ کیمپوں کی منادی پر دھیان دیں اور خطرہ بڑھنے پر گھر خالی کرنے میں تاخیر نہ کریں۔
09/07/2026
شارجہ سے کراچی آنے والا ایک نجی کمپنی کا کارگو طیارہ بحیرہ عرب میں حادثے کا شکار ہو گیا ہے۔ پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (PAA) اور پاک بحریہ کے مطابق، یہ حادثہ منگل کی رات پیش آیا اور اب گہرے سمندر سے اس طیارے کا ملبہ تلاش کر لیا گیا ہے۔اس دردناک واقعے کی مکمل تفصیلات درج ذیل ہیں:طیارے اور فلائٹ کی معلوماتکمپنی اور ماڈل: یہ کے ٹو ایئرویز (K2 Airways) کا بوئنگ 737 کارگو طیارہ تھا۔روٹ: طیارہ متحدہ عرب امارات کے شہر شارجہ سے کراچی آ رہا تھا۔عملہ: جہاز پر 5 پاکستانی ارکان سوار تھے، جن میں پائلٹ کیپٹن محمد رضوان ادریس، کو-پائلٹ فیصل جتوئی، دو انجینئرز (محمد عارف صدیقی اور محمد حامد) اور لوڈ ماسٹر محمد توفیق شامل ہیں۔حادثہ کیسے پیش آیا؟خرابی کی اطلاع: منگل کی رات 9 بج کر 18 منٹ پر پائلٹ نے نیویگیشن سسٹم میں فنی خرابی کی اطلاع دی۔رابطہ منقطع: کراچی ایئر ٹریفک کنٹرول نے طیارے کی رہنمائی کی کوشش کی، لیکن ٹھیک 3 منٹ بعد 9 بج کر 21 منٹ پر اس کا رابطہ اچانک منقطع ہو گیا۔تیزی سے گرنا: فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق، طیارے نے سمندر کے اوپر غیر معمولی طور پر اپنی سمت بدلی اور چند سیکنڈز میں ہزاروں فٹ نیچے کی طرف آیا اور بحیرہ عرب میں گر گیا۔ یہ جگہ کراچی سے تقریباً 155 ناٹیکل میل دور مغرب میں واقع ہے۔سرچ آپریشن اور موجودہ صورتحالملبے کی برآمدگی: پاکستان بحریہ اور میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی نے 12 گھنٹے کے طویل آپریشن کے بعد بلوچستان کے علاقے اورماڑہ کے ساحل سے 53 ناٹیکل میل جنوب میں سمندر سے طیارے کا ملبہ تلاش کر لیا ہے۔
🍂🌿الصلوة وَالسَلَام عَلَيكَ يَا سَيَدِي يَا حَبِيبَ اللہ ﷺ✨🌿✨️🥀صَلَّى ٱللَّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ 🥀✨️
Click here to claim your Sponsored Listing.
Contact the business
Telephone
Website
Address
Riyadh