The novels book
reading books is my hobby
Agedifference
Agedifference
Agedifference #
Agedifference interesting story
"کون ہے یہ۔۔"اس نے بے چینی سے اپنے شوہر کو دیکھا جس کے چہرے پر زرا سی بھی ملامت نہیں تھی۔۔
"تیری سوکن ۔۔"
سیف کا انداز تماشائیوں جیسا تھا اور عورت خواہ کہیں کی بھی ہو، گاؤں کی یا شہر کی، اس کا تعلق اپر کلاس سے ہو یا مڈل کلاس سے، اپنی پوری زندگی میں یہ ایک ہی لفظ نہیں سننا چاہتی اور اگر سن لے تو پاگل ہو جاتی ہے۔ وہ بھی جیسے پاگل ہو گئی، اپنے حواس کھو بیٹھی، تیتر کی تیزی سے لپکی اور سیف کا گریبان پکڑ کر پوری قوت سے جھٹکے دیتے ہوئے چیخی۔
"کیوں کیا ہے تم نے ایسا؟ مجھے دھوکا دیا، تم کتنے فریبی ہو، کیا سمجھا ہے تم نے مجھے؟" چٹاخ! پھر وہی تھپڑ، وہ لڑکھڑاتی ہوئی دور جا گری۔ "چھوڑ دے اسے پاگل ہو گی یے یہ ۔سیف کی دوسری بیوی نے کہا۔ وہ شاید اس کی طرف بڑھ رہا تھا کہ اس عورت کی سفارش پر رک گیا۔ اور پہلی بار اس کے تھپڑ پر وہ چلاتی ہوئی اس کے پیچھے بھاگی تھی اور اب بہت خاموشی سے اور کچھ وحشت زدہ سی ہو کر ان دونوں کو اندر جاتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔ "مجھے چپ چاپ سسکنا اور مظلومیت کی تصویر بننا زہر لگتا ہے۔" یہ خود اس کا دعویٰ تھا اور کبھی کبھی تقدیر یوں بھی ستم ڈھاتی ہے کہ اپنے ہی دعوے کا بھرم توڑ دیتی ہے۔ اسے اب بھی نفرت تھی چپ چاپ سسکنے اور مظلومیت کی تصویر بننے سے، کیونکہ وہ کمزور نہیں تھی، اپنے حق کے لیے آواز اٹھا سکتی تھی، احتجاج کر سکتی تھا، لیکن المیہ یہ تھا کہ
مقابل انتہائی اجڈ اور گنوار تھا
جس نے تعلیم صرف اس لیے حاصل کی تھی کہ یہ اس کے باپ کی خواہش تھی، تعلیم اسے کیا سکھا رہی ہے یہ جاننے کی اس نے ضرورت ہی نہیں سمجھی۔ اس کی ذہنی پسماندگی گواہ تھی کہ اس پر ماحول کا رنگ گہرا ہے، تبھی تو اس جیسی نفیس اور ایجوکیٹڈ لڑکی نے اسے اٹریکٹ نہیں کیا تھا اور اس کے سامنے وہ کیا احتجاج کرتی۔ پہلے مرحلے پر ہی جان گئی کہ لاکھ گلا پھاڑ کے چیخنے چلانے سے کہیں شنوائی نہ ہوگی، یہی سوچ کر اپنی آواز دبا گئی، ہونٹوں کو سختی سے بھینچ لیا لیکن اندر جو گھاؤ لگا تھا،
یہ اس کا مداوا نہیں تھا اور مداوے کی دوسری صورت آنسو تھے جو اس روانی سے بہہ نکلے کہ بند باندھنا مشکل ہو گیا، تب اس نے گھٹنوں پر سر رکھ لیا تو اپنی ذات کا سارا اعتماد آنسوؤں کے ساتھ مٹی میں ملتا گیا۔ وہ بیچ آنگن میں کچی زمین پر بیٹھی تھی اور اس ستمگر سے تو امید نہیں تھی
" وہ مسلسل اپنے آپ کو سمجھاتی رہی، لیکن آخر کب تک؟ ہر نیا دن اس کے لیے ایک نئی اذیت لے کر طلوع ہوتا اور ہر رات وہ اپنے بستر پر تنہا ہوتی، اپنا قصور کھوجتی۔ کب، کہاں، غلطی کس سے ہوئی؟ دادا دادی جنہوں نے بچپن میں اس کا نکاح کر دیا تھا؟ ڈیڈی جنہیں صرف بھائی کی ناراضگی کا خیال رہا، اس کی ذات کو یکسر نظر انداز کر دیا؟ ممی جو اس کی خاطر ڈیڈی سے لڑ نہ سکیں؟ غلطی کسی سے بھی ہوئی، خمیازہ وہ بھگت رہی تھی۔
اس روز اس کی دوسری بیوی غالباً اپنے میکے گئی ہوئی تھی، تبھی سیف اس کے کمرے میں چلا آیا۔ فوری طور پر وہ کچھ نہیں بول سکی، بس بے خیالی میں اسے دیکھنے لگی۔ "نظر لگاؤ گی کیا؟" وہ شوخ ہو کر بولا تو وہ ایک دم چونک گئی، پیشانی پر شکنیں ڈال کر بولی۔
"تمہیں کیا نظر لگے گی، ہر وقت تو نظر بٹو ساتھ ہوتی ہے۔"
"اہاہاہا!" وہ اس کا اشارہ سمجھ کر بجائے خفا ہونے کی بجائے زور زور سے ہنسنے لگا تو وہ خفگی سے بولی۔
"میرے کمرے میں کیوں آئے ہو؟"
"کیوں، کیا میں یہاں نہیں آ سکتا؟" "نہیں"، وہ سختی سے بولی۔ "میرا تم سے کوئی واسطہ نہیں، چلے جاؤ یہاں سے۔"
"تمہاری یہی باتیں مجھے طیش دلاتی ہیں، بھول جاتی ہو کہ کس سے مخاطب ہو۔"
"نہیں، مجھے اچھی طرح یاد رہتا ہے کہ میرا مخاطب کون ہے۔" وہ بے حد چبا چبا کر بولی۔ "ایک انتہائی درجے کا بزدل مرد جو اپنی مردانگی کے زعم میں دوسری بیوی تو لے آیا ہے، لیکن اس میں اتنی جرات نہیں کہ اس کی موجودگی میں پہلی سے بات کر سکے۔"
"تم نے مجھے بزدل کہا؟" شاید اسے بے حد توہین کا احساس ہوا تھا، چہرہ ایک دم سرخ ہو گیا۔ اس کی طرف بڑھنا چاہتا تھا کہ وہ چیخ کر بولی۔
"ایک بار نہیں، ہزار بار کہوں گی، تم بزدل ہو۔ اگر میری بات غلط ثابت کر سکتے ہو تو زینو کی موجودگی میں میرے پاس آنا، تب تمہاری جرات مندی کا اعتراف کرتے ہوئے میں تمہیں اپنی غلامی میں لکھ دوں گی۔"
"تو ایسے ہی میری غلام ہے۔"
Like and comment for novel
One of my favourite novel
Novels
Click here to claim your Sponsored Listing.
Telephone
Website
Address
Somewhere In A World
Peshawar