Hakeem Rai Khalid
اس پیج پر ہم صحت کے لیے قدرتی علاج ۔وڈیو
youtube.com/@hakeemraikhalid4099?si=FfMGExOOEupNn6Ka
27/09/2026
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
وقت ایک قیمتی سرمایہ ہے اور ہم اسے کہاں اور کیسے صرف کرتے ہیں، یہی ہماری زندگی میں کامیابی یا ناکامی کا تعین کرتا ہے۔
جب انسان کے پاس کوئی مثبت مقصد نہیں ہوتا یا وہ اپنی ذات پر غور و فکر نہیں کرتا، تو اس کا ذہن بلاوجہ دوسروں کی خامیاں تلاش کرنے، غیبت اور غیر ضروری تبصروں میں ضائع ہونے لگتا ہے۔
اس کے برعکس ایک مصروف، باہمت اور مقصد پرست انسان کی تمام تر توجہ صرف اپنی منزل، اپنے خوابوں اور اپنی ذاتی و روحانی اصلاح پر ہوتی ہے۔
دوسروں پر بے جا تنقید کرنے سے کہیں بہتر ہے کہ انسان اپنی تمام تر توانائی اپنے مقصد کو حاصل کرنے میں لگائے۔
اپنے آپ کو ہمیشہ مثبت اور کارآمد کاموں میں مصروف رکھیں۔
حکمت اور فکرِ انسانی کے خزانوں سے دو خوبصورت اشعار:
اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی
تو اگر میرا نہ بنتا نہ بن اپنا تو بن
بے کار ہے وہ زندگی جو بے مقصد گزر جائے
انسان وہی ہے جو کسی کے کام آئے
طبی معلومات اور علاج و معالجہ:
نظریہ مفرد اعضاء، طبِ یونانی، طبِ اسلامی اور آیو ویدک فلسفہِ صحت کے بنیادی اصولوں کے مطابق انسان کی جسمانی و روحانی صحت کا دارومدار اس کے مزاج کے توازن اور وقت کی درست تقسیم پر ہے۔
جب جسم اور ذہن کو مثبت سرگرمیوں اور متوازن غذا میں مشغول رکھا جائے تو انسان کثیر بیماریاں، ذہنی تناؤ اور نفسیاتی الجھنوں سے محفوظ رہتا ہے۔
معالجین کا تعارف و مطب کی تفصیلات:
پروفیسر ساہیوال طبیہ کالج، حکیم ابنِ طبیب رائے خالد
پچھلے پانچ عشروں (50 سال) سے اوکاڑہ میں حکمت و طب کے ذریعے خلقِ خدا کی خدمت میں مصروفِ عمل ہیں۔
طبیبہ ام حبیبہ (فائنبوس فزیشن)
مطب کا پتہ:
خالد دواخانہ
چوک ہارنیاں والا، نزدیک غلہ گودام، ضلع اوکاڑہ شہر
رابطہ نمبر: 03127530789
اگر آپ کو یہ تحریر پسند آئی ہو تو اس پوسٹ کو لائک کریں، شیئر کریں اور مزید طبی و اصلاحی رہنمائی کے لیے ہمارے پیج کو فالو کریں۔
27/09/2026
صحبت کا انسان کی زندگی پر گہرا اور ناگزیر اثر ہوتا ہے۔
آپ جیسے لوگوں میں اٹھتے بیٹھتے ہیں، آپ کی سوچ، رویہ اور شخصیت آہستہ آہستہ ویسے ہی سانچے میں ڈھلنے لگتی ہے۔
اگر آپ دولت مند لوگوں کی مجلس اختیار کرتے ہیں تو آپ میں مالی شعور اور دولت کمانے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اور آپ بھی دولت مندی کی طرف گامزن ہو جاتے ہیں۔
اگر آپ دانشوروں، علمائے کرام اور فاضل شخصیات کی صحبت میں وقت گزارتے ہیں تو آپ کا علم، حکمت اور فکر روشن ہوتی ہے اور آپ بھی صاحبِ علم و دانش بن جاتے ہیں۔
اسی طرح جب آپ کامیاب اور پرعزم لوگوں کی کمپنی میں بیٹھتے ہیں تو ان کی محنت اور سوچ کا اثر آپ پر پڑتا ہے اور آپ بھی آہستہ آہستہ کامیابی کی بلندیوں کو چھونے لگتے ہیں۔
لیکن حکمت کا یہ اصول دونوں طرف کام کرتا ہے۔
اگر انسان کا طرزِ عمل اس کے برعکس ہو تو بری اور منفی صحبت بھی اپنا پورا اثر دکھاتی ہے۔
وہ کامیاب لوگ جو اپنا زیادہ تر وقت ناکام، مایوس اور بے مقصد لوگوں میں گزارتے ہیں، ان کی صلاحیتیں زائل ہونے لگتی ہیں۔
وہ دانشور جو اپنا وقت جاہلوں اور بے وقوفوں کی محفلوں میں ضائع کرتے ہیں، ان کا اپنا علمی معیار اور تفکر متاثر ہوتا ہے۔
اسی طرح وہ بچے جو غیر صحت مندانہ عادات، غلط محفلوں یا آوارہ مزاج بچوں میں وقت گزارتے ہیں، وہ بہت جلد انہی برائیوں اور عادتوں کے شکار ہو جاتے ہیں۔
حکمت اور دانش کے علمی خزانوں میں بھی صحبت کی اہمیت کو بہترین انداز میں بیان کیا گیا ہے:
صحبتِ صالح تو را صالح کند
صحبتِ طالح تو را طالح کند
(نیک لوگوں کی صحبت تمہیں نیک بنا دیتی ہے اور برے لوگوں کی صحبت تمہیں برا بنا دیتی ہے)
پسرِ نوح با بدان بنشست
خاندانِ نبوتش گم شد
سگِ اصحابِ کہف روزے چند
پیِ نیکاں گرفت و آدَم شد
(حضرت نوح علیہ السلام کا بیٹا برے لوگوں میں بیٹھا تو نبوت کے گھرانے سے ہونے کے باوجود گمراہ ہو گیا، جبکہ اصحابِ کہف کا کتا چند دن نیک لوگوں کے پیچھے چلا تو انسانوں جیسی صفت پا گیا)
انسان کا مزاج، اس کی صحت اور اس کی نفسیات سب صحبت اور ماحول کے تابع ہیں۔ طب کے قوانین میں بھی مزاج کا اثر بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
نظریہ مفرد اعضاء، طبِ یونانی، طبِ اسلامی اور آیو ویدک فلسفے کے تحت انسان کا جسمانی و نفسیاتی توازن اس کے ماحول اور صحبت سے ہی قائم رہتا ہے۔
جس طرح غلط غذا اور غلط ماحول جسم میں اخلاط اور اعضاء کا توازن بگاڑ کر بیماریوں کا سبب بنتے ہیں، بالکل اسی طرح منفی سوچ اور بری صحبت انسان کے اعصاب، جگر اور دل کے نظام پر اثر انداز ہو کر اس کا مزاج بگاڑ دیتی ہے۔
بہترین صحت اور متوازن زندگی کے لیے مثبت ماحول، پاکیزہ سوچ اور طبی توازن بے حد ضروری ہے۔
پروفیسر ساہیوال طبیہ کالج حکیم ابنِ طبیب رائے خالد پچھلے پانچ عشروں سے مطب کر رہے ہیں۔
خالد دواخانہ
چوک ہارنیاں والا غلہ گودام ضلع اوکاڑا شہر
طبیبہ ام حبیبہ (فائنبوس فزیشن)
رابطہ: 03127530789
27/09/2026
چینی دانشوروں کا ایک مشہور قول ہے کہ اگر آپ ایک سال کی منصوبہ بندی کرنا چاہتے ہیں تو مکئی يا فصل اگائیں، اگر آپ دس سال کی منصوبہ بندی کرنا چاہتے ہیں تو درخت لگائیں، لیکن اگر آپ صدیوں کی منصوبہ بندی کرنا چاہتے ہیں تو انسانوں کی تربیت کریں اور انہیں تعلیم دیں۔
یہ حکمت سے بھرپور قول انسان کو یہ سبق دیتا ہے کہ عارضی فائدے اور لمبی مدت کے ثمرات میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔
انسان کی تربیت اور اس کا شعور ہی اصل سرمایہ ہے۔ جب ہم طب، حکمت اور انسانی صحت کی بات کرتے ہیں تو یہ قول اور بھی گہرا ہو جاتا ہے۔
کسی بیمار کو ایک بار دوا دے دینا ایک سال کی فصل اگانے جیسا ہے، لیکن اسے صحت کے بنیادی قوانین سکھانا، اس کے مزاج اور جسم کی تربیت کرنا، نسل در نسل حکمت کی تدریس کرنا صدیوں کی تعمیرِ نو کے مترادف ہے۔
حکمت اور طب کے علمی خزانوں سے دو عالمگیر اشعار اس حقیقت پر مہر تصدیق ثبت کرتے ہیں:
درسِ معلم، تربیتِ استاد و شفیق
زندہ کند روح را، دهد جانِ دقیق
علامہ اقبال فرماتے ہیں:
وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ دروں
سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
مختلف طبائعی، علمی اور فلسفیانہ مکاتبِ فکر کا مطالعہ بھی یہی بتاتا ہے کہ انسان کی جسمانی و روحانی تربیت ہی اصل شفا ہے۔
نظریہ مفرد اعضا کے تحت انسانی جسم کے تمام تر افعال تین بنیادی مفرد اعضا یعنی دل، دماغ اور جگر کے تحت کام کرتے ہیں۔
اگر ان اعضا کے تحریک، تسکین اور تحلیل کے نظام کو سمجھ کر انسان کی خلطی تربیت اور علاج کیا جائے تو جسم خود اپنا دفاع کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔
طب یونانی میں مزاج، اخلاط (بلغم، سودا، صفرا، خون) اور اسبابِ ستہ ضروریہ کی تربیت پر زور دیا گیا ہے۔
یونانی فلسفے کا بنیادی اصول ہے کہ طبیب کا کام صرف دوا دینا نہیں بلکہ طبیعتِ مدبرۂ بدن (جسم کی ذاتی قوتِ مدافعت) کی معاونت اور تربیت کرنا ہے۔
طب اسلامی کی بنیاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد مبارک پر ہے جس میں روح، قلب اور جسم تینوں کی پاکیزگی کو شفا کا ذریعہ بتایا گیا ہے۔
جسمانی علاج کے ساتھ ساتھ اخلاقی اور روحانی تربیت طب اسلامی کا روحِ رواں ہے۔
آیویدک اور سنسکرت فلسفہ کے مطابق تر دوش یعنی واتا، پتا، اور کپھا کا توازن ہی زندگی ہے۔
سنسکرت کے قدیم ویدک فلسفے میں شفا کو صرف دوا تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ پرانایام، یوگ اور من کی تربیت کو صحت کی بقا کے لیے لازمی قرار دیا گیا ہے۔
منطق اور فلسفہ طب ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ کسی بھی مرض کی وجہ کو ختم کرنا اصل حکمت ہے۔
بوعلی سینا اور سقراط و افلاطون کے منطقی اصولوں کے مطابق حقیقت کو جاننا اور علم کے ذریعے جہالت و مرض کو دور کرنا ہی انسانی ترقی کا راز ہے۔
خالد دواخانہ پر ہماری پچھلے پانچ عشروں سے یہی کوشش رہی ہے کہ ہم صرف بیماری کا علاج نہ کریں بلکہ مریض کی کونسلنگ اور تربیت کریں تاکہ وہ صحت مند طرزِ زندگی اختیار کر سکے۔
سرپرست اعلیٰ: پروفیسر ساہیوال طبیہ کالج، حکیم ابنِ طبیب رائے خالد (پچھلے پانچ عشرے سے شعبہ طب و مطلب سے وابستہ)
معالج: سکالر طبیبہ ام حبیبہ (فائنبوس فزیشن)
پتہ: خالد دواخانہ، چوک ہارنیاں والا، غلہ گودام، اوکاڑا، پنجاب، پاکستان
رابطہ نمبر: 03127530789
اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ لائک، شیئر اور فالو کریں تاکہ حکمت اور صحت کا یہ پیغام ہر گھر تک پہنچ سکے۔
27/09/2026
لیکن کون یقین کرے گا کہ تم اپنے اس نرم دل کے ساتھ تباہی کے ایک لشکر سے لڑے اور پھر بھی بچ نکلے...✨✌🏻
یہ بات بالکل سچ ہے کہ جب بیماریاں اور جسمانی معذوریاں انسان کو گھیر لیتی ہیں، تو شفا صرف وہی حکیم یا معالج دے سکتا ہے جس کے دل میں مخلوقِ خدا کے لیے بے پناہ درد، نرمی اور خلوص ہو۔
تباہی کے ان بیماریوں والے لشکر سے انسان تب ہی فتح یاب ہو کر نکلتا ہے جب اسے بہترین علمی رہنمائی اور سچی حکمت میسر آئے۔
شفا کے اس سفر میں قدماء کی حکمت اور باعمل معالجین کا تجربہ ہی اصل روشنی ہے۔ حکیم المشرق اور اطبائے کاملین نے کیا خوب فرمایا ہے:
وجودِ انسان ایک بحرِ بے کنار ہے
شفا وہی پاتا ہے جس کا معالج بیدار ہے
ایک اور مقام پر حکمت کے موتی یوں نچھاور کیے گئے:
مرض کی اصل کو جو سمجھ نہ پائے کبھی
وہ صرف دوا دے گا شفا کبھی نہ ہوگی
الحمدللہ، ضلع اوکاڑہ اور گردونواح کے عوام کے لیے گزشتہ پانچ عشروں (50 سال) سے طب و حکمت کی سچی خدمت کا روشن نام:
پروفیسر ساہیوال طبیہ کالج، حکیم ابنِ طبیب رائے خالد
جو نصف صدی سے مطب کی مسند پر براجمان ہیں اور بے شمار پیچیدہ بیماریوں کے علاج میں ایک استاد کا درجہ رکھتے ہیں۔
ان کے ساتھ طبیبہ ام حبیبہ (فائنبوس فزیشن) بھی اپنے وسیع علمی و عملی تجربے کے ساتھ مریضوں کی شفا یابی کے لیے ہمہ وقت کوشاں ہیں۔
ہمارا علاج کن علمی اصولوں پر مبنی ہے؟
ہم روایتی اور جدید طبی علوم کے حسین امتزاج سے مریض کا علاج کرتے ہیں۔ جس میں:
نظریہ مفرد اعضاء (جسم کے بنیادی اعضاء اور مزاج کی درست تشخیص)
طب یونانی (طبیعیاتی شفا اور متوازن ادویات)
طب اسلامی (سنتِ نبوی کے مطابق علاج اور پرہیز)
آیو ویدک فلسفہ (قدرتی جڑی بوٹیوں اور دیسی منافع سے علاج)
اگر آپ یا آپ کا کوئی پیارا طویل عرصے سے بیماریوں کا مقابلہ کر رہا ہے اور مایوس ہو چکا ہے، تو ایک بار مکمل تشخیصی مشاورت کے لیے تشریف لائیں۔
پتہ:
خالد دواخانہ
چوک ہارنیاں والا، غلہ گودام، ضلع اوکاڑہ شہر
رابطہ نمبر:
03127530789
اگر آپ کو ہماری یہ تحریر پسند آئی ہو اور آپ بھی قدرتی طب سے منسلک رہنا چاہتے ہیں تو اس پوسٹ کو لائک کریں، اپنے پیاروں کی بھلائی کے لیے شیئر کریں اور ہمارے اس پیج کو لازمی فالو کریں۔
27/09/2026
زندگی میں رفتار سے زیادہ سمت اہم ہے، آہستہ چلو مگر ایسے راستے پر جہاں دل کو پچھتاوا نہ ہو۔
انسانی زندگی کا سفر محض تیز دُوڑنے یا جلدی منزل تک پہنچنے کا نام نہیں ہے، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ انسان کس سمت میں قدم اٹھا رہا ہے۔
اگر سمت غلط ہو تو رفتار کتنی ہی تیز کیوں نہ ہو، انسان صرف گمراہی اور پچھتاوے کے سوا کچھ حاصل نہیں کرتا۔
اس کے برعکس، اگر سمت درست اور اصول واضح ہوں تو سست رفتار قدم بھی انسان کو سکون، شفا اور کامیابی کی منزل تک پہنچا دیتے ہیں۔
یہی اصول انسان کی جسمانی اور روحانی صحت پر بھی نافذ ہوتا ہے۔
جلد بازی میں کی گئی تدبیریں اور عارضی فائدے کے لیے جسم کے قدرتی نظام سے کھلواڑ اکثر انسان کو طویل بیماری اور پچھتاوے کی طرف لے جاتا ہے۔
اصل شفا اور صحت مند زندگی کا راز صبر، درست سمت اور فطری اصولوں کی پیروی میں پنہاں ہے۔
اس حکمت اور دانائی کو بیدار کرنے کے لیے صوفیانہ اور علمی خزانوں سے دو اشعار پیشِ خدمت ہیں:
دائرے ہی میں گھومتا ہے وہ
جس کو سمتوں کا علم ہی نہ ہوا
رو روی میں تو کٹ گیا رستہ
پچھتائے گا گر سمت بدل گئی
نظریہ مفرد اعضاء، طب یونانی، طب اسلامی اور آیو ویدک فلسفہ ہمیں یہی سکھاتے ہیں کہ جسم انسانی کا اپنا ایک نظام ہے، جسے بگاڑ کر نہیں بلکہ اس کی اصل سمت اور مزاج کو سمجھ کر علاج کیا جاتا ہے۔
جب انسان کا دل، دماغ اور جگر اپنے مزاج کے مطابق درست سمت میں کام کرتے ہیں، تو بیماری خود بخود دور ہو جاتی ہے۔
خالد دواخانہ (اوکاڑہ) پچھلے پانچ عشروں یعنی 50 سال سے حکمت اور فطری طب کے انہی زریں اصولوں پر گامزن ہے، جہاں مریض کو عارضی تسکین کے بجائے مستقل شفا کی درست سمت فراہم کی جاتی ہے۔
پروفیسر ساہیوال طبیہ کالج، حکیم ابنِ طبیب رائے خالد (پچھلے 50 سال سے مصروفِ مطب)
طبیبہ ام حبیبہ (فائنبوس فزیشن)
پتہ: خالد دواخانہ، چوک ہارنیاں والا، غلہ گودام، ضلع اوکاڑہ شہر
رابطہ نمبر: 03127530789
اگر آپ کو یہ تحریر پسند آئی ہو تو پیج کو لائک، فالو اور دوستوں کے ساتھ شیئر ضرور کریں۔
27/09/2026
خون کی صفائی کے لیے ایک لاجواب اور آزمودہ نسخہ: جوشاندہ مصفیٰ خون
طب یونانی، آیووریدک سنسکرت ویدانت، طب اسلامی اور نظریہ مفرد اعضاء کی روشنی میں خون کا فاسد مادوں سے پاک ہونا صحت مند زندگی کا بنیادی راز ہے۔
جب خون میں حرارت، اسیدیت (تیزابیت) یا فاسد مادے بڑھ جاتے ہیں تو جلد پر دانے، خارشت، پھوڑے پھنسیاں اور دیگر بیماریاں جنم لیتی ہیں۔
حکمت کے علمی خزانوں سے دو اشعار:
پہلا شعر:
تندرستی ہے تو دنیا میں ہر ایک شے میں خوشی
خون صافی ہو تو ہر رنگ میں آتی ہے رنگینی
دوسرا شعر:
علاجِ دردِ دل تو صبر و تسلیم سے ہوا
لیکن علاجِ خونِ فاسد، شربت و جوشاندہ سے ہوا
نسخہ کے اجزاء:
چرائتہ نپالی آدھا گرام
برگِ شیشم 5 گرام
منڈی بوٹی 5 گرام
تمر ہندی تازہ 5 گرام
شاترہ 1 گرام
سنا مکی 1 گرام
ایرانی عناب 7 عدد
ترکیبِ تیاری اور طریقہ استعمال:
تمام ادویات کو آدھا لیٹر پانی میں ڈال کر ہلکی انچ پر جوش دیں۔
جب پانی اچھی طرح پک جائے تو اسے چولہے سے اتار کر ٹھنڈا ہونے دیں۔
ٹھنڈا ہونے پر مل چھان کر پن لیں اور حسبِ ذائقہ کوزہ مصری سے شیریں کر لیں۔
یہ جوشاندہ روزانہ صبح نہار منہ استعمال کریں۔
غذائی پرہیز اور ہدایت:
دورانِ علاج ہر قسم کا گوشت، تلی ہوئی، بھنی ہوئی اور ثقیل غذاؤں سے مکمل اجتناب کریں۔
اپنی خوراک میں مولی اور میتھی کا استعمال زیادہ کریں۔
اس نسخہ کو باقاعدگی سے 2 ہفتے استعمال فرمائیں۔ انشاء اللہ تعالیٰ یہ آپ کی صحت کے لیے انتہائی موثر اور مفید ثابت ہوگا۔
پیشکش:
پروفیسر ساہیوال طبیہ کالج حکیم ابنِ طبیب رائے خالد
پچھلے پانچ عشروں (50 سال) سے اوکاڑہ میں مطب اور انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں۔
ہمراہ: سکالر طبیبہ ام حبیبہ (فائنبوس فزیشن)
پتہ:
خالد دواخانہ، چوک ہارنیاں والا، غلہ گودام، اوکاڑہ، پنجاب، پاکستان
رابطہ نمبر: 03127530789
اگر آپ کو یہ معلومات پسند آئیں تو اس پوسٹ کو لائک، شیئر اور ہمارے پیج کو فالو ضرور کریں تاکہ دیگر لوگ بھی اس طبی خزانے سے مستفید ہو سکیں۔
27/09/2026
جب تک آپ خود ذمہ داری نہیں لیتے، اپنے اہداف اور مقاصد کے ساتھ سچے عزم کا اظہار نہیں کرتے اور اپنے ذہن کو نئی سوچ، نئے مواقع اور عمل کے لیے نہیں کھولتے، تب تک آپ کی موجودہ صورتحال میں کوئی بہتری آئے گی نہ ترقی ہوگی۔
صورتحال جوں کی توں رہے گی اور کچھ بھی نہیں بدلے گا، چاہے آپ دن رات کتنی ہی دعائیں کیوں نہ مانگ لیں۔ دعا تب ہی اثر دکھاتی ہے جب اس کے ساتھ عزم اور عمل کی دوا شامل ہو۔
حکمت کے علمی خزانوں سے دو شاہکار اشعار:
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
فلسفہ صحت، سائنس اور طبی علوم کا نچوڑ:
طب اسلامی اور نظریہ مفرد اعضا کے تحت انسانی جسم میں مدبرہ بدن، یعنی جسم کا قدرتی دفاعی نظام، اسی وقت متحرک ہوتا ہے جب انسان اپنے مزاج، خوراک اور عمل کو درست سمت دیتا ہے۔
جب تک انسان اپنی بائیو کیمسٹری اور افعال اعضا کی درستگی کے لیے خود عمل نہ کرے، صرف اچھے حالات کی خواہش بیماری کا علاج نہیں بن سکتی۔
طب یونانی اور قدیم فلسفہ منطق و حکمت ہمیں سکھاتے ہیں کہ حرکت ہی زندگی ہے اور جمود موت ہے۔ سبب کے بغیر مسبب کا وجود ممکن نہیں۔
آپ کا عمل وہ بنیادی سبب ہے جو کامیابی اور صحت کا مسبب بنتا ہے۔
آیویدک اور سنسکرت فلسفہ حکمت کے مطابق انسان کا کرما یعنی عمل ہی اس کا بھاگیہ یعنی مقدر بناتا ہے۔
پراکرتی یعنی قدرت انہی کی مدد کرتی ہے جو اپنے سنکلپ یعنی پختہ ارادے کے ساتھ اپنے اندر کی اَگنی اور صلاحیتوں کو بیدار کرتے ہیں۔
تصور، تمنا اور صرف دعاؤں پر تکیہ کر کے بیٹھے رہنے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ رب العزت نے بھی اسی کو عطا کیا ہے جس نے کوشش اور عزم کی راہ چنی۔
رہنمائی و علاج کے لیے رابط کریں۔
استاد الحکماء پروفیسر ساہیوال طبیہ کالج
حکیم ابن طبیب رائے خالد
پچھلے پانچ عشروں سے یعنی پچاس سال سے خلق خدا کی خدمت اور کامیاب مطب میں مصروف عمل۔
سکالر طبیبہ ام حبیبہ (فائنبوس فزیشن)
مطب کا پتہ:
خالد دواخانہ، چوک ہارنیاں والا، غلہ گودام، اوکاڑا، پنجاب، پاکستان।
رابطہ نمبر:
03127530789
اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ لائک، شیئر اور پیج کو فالو کریں۔
27/09/2026
دھندے سے بڑا کوئی دھرم نہیں (انڈیا)
دھرم سے بڑا کوئی دھندا نہیں (پاکستان)
مشرقی حکمت، فلسفہ، اور اجتماعی نفسیات کا بغور مطالعہ کیا جائے تو انسان کی دو بڑی ترجیحات واضح نظر آتی ہیں:
ایک معیشت یعنی رزق، اور دوسرا عقیدہ یعنی دین۔
ہندوازم اور سنسکرت فلسفے میں چار بنیادی انسانی مقاصد بیان کیے گئے ہیں جنہیں دھرم (فرض و مذہب)، ارتھ (معیشت و مادیت)، کام (خواہشات)، اور موکش (نجات) کہا جاتا ہے۔ آیو بیدک اور سنسکرت روایت میں معیشت کو زندگی کا بنیادی ستون مانا گیا ہے کیونکہ جب تک انسان کا دھندا یعنی کاروبار اور روزگار مضبوط نہ ہو، وہ اجتماعی فرائض ادا نہیں کر سکتا۔
یہی وجہ ہے کہ وہاں دھندے کو ہی دھرم یعنی سب سے بڑا فرض قرار دیا گیا۔
دوسری طرف اسلامی طب اور طب یونانی کے فکری و فلسفیانہ اصولوں پر غور کریں تو انسانی مزاج، نفسیات اور اخلاقیات کا گہرا تعلق نظر آتا ہے۔ فلسفہ منطق کے مطابق جب کسی مقدس جذبے یا عقیدے کو بغیر حکمت اور اخلاص کے محض مادیت کا ذریعہ بنا لیا جائے تو وہ مقصد سے ہٹ جاتا ہے۔
بدقسمتی سے معاشرتی رویوں میں جب دین اور روحانیت کو دنیاوی مفادات اور کاروبار کا ذریعہ بنایا جائے تو دھرم سے بڑا کوئی دھندا نہیں کا منفی پہلو سامنے آتا ہے۔ تاہم، اصل حکمت یہ ہے کہ انسان کا ہر عمل، چاہے وہ پیشہ ہو یا عبادات، اخلاص، سچائی اور مخلوقِ خدا کی خدمت پر مبنی ہو۔
نظریہ مفرد اعضا کے تحت جیسے جسم کے تین بنیادی اعضا دل، دماغ اور جگر کے افعال میں اعتدال ہی صحت کی ضامن ہے، بالکل اسی طرح کسی بھی معاشرے کی روحانی اور مادی صحت کا انحصار اس بات پر ہے کہ تجارت میں سچائی ہو اور عقیدے میں پاکیزگی ہو۔ جب دل میں درد، دماغ میں حکمت اور جگر میں عمل کی طاقت یکجا ہوتی ہے تو انسان سچائیت کے راستے پر گامزن ہوتا ہے۔
حکمت اور معرفت کے دو بیدار کن اشعار:
کارِ دنیا کے لیے دین کو رسوا نہ کرو
مالِ فانی کے لیے عاقبت برباد نہ کرو
روزگار اپنا بناؤ تو صداقت کے ساتھ
خدمتِ خلق ہی حکمت کا ہے اصل راز
پچھلے پانچ عشروں سے طب و حکمت کی سچی خدمت کا روشن منار، جہاں سائنسی تحقیق اور روایتی طب کا حسین امتزاج دستیاب ہے۔
پروفیسر ساہیوال طبیہ کالج حکیم ابن طبیب رائے خالد
پچھلے ۵۰ سال سے مسلسل مطب اور مخلوقِ خدا کی خدمت میں مصروف۔
سکالر طبیبہ ام حبیبہ (فائنبوس فزیشن)
پتہ: خالد دواخانہ، چوک ہارنیاں والا، نزد غلہ گودام، اوکاڑا، پنجاب، پاکستان۔
رابطہ و واٹس ایپ: 03127530789
اس پوسٹ کو لائک، شیئر اور پیج کو فالو ضرور کریں تاکہ حکمت اور صحت کا یہ پیغام ہر گھر تک پہنچ سکے۔
27/09/2026
بیوی اپنے شوہر سے نفرت کیوں کرنے لگتی ہے؟ سائنس اور حکمت کے وہ ۵ سچ جو ہر شوہر کو جاننے چاہئیں
کوئی بھی بیوی ایک دن میں نفرت نہیں کرتی۔
وہ پہلے محبت کرتی ہے، پھر صبر کرتی ہے، پھر روتی ہے، پھر خاموش ہو جاتی ہے اور یہی خاموشی وقت کے ساتھ نفرت بن جاتی ہے۔
گوٹ مین انسٹیٹیوٹ نے چالیس سال میں تین ہزار جوڑوں کا مطالعہ کیا اور نتائج سے معلوم ہوا کہ نفرت کی شروعات محض لڑائی سے نہیں بلکہ عزت اور احترام ختم ہونے سے ہوتی ہے۔
حکمت اور سائنس کے پانچ اہم حقائق:
سچ نمبر ۱: روز کی چھوٹی بے عزتی بڑی نفرت بنتی ہے
بات بات پر طعنے دینا، تجھے کچھ نہیں آتا کہنا یا میکے پر باتیں کسنا عورت کے دل کو توڑ دیتا ہے۔
یونیورسٹی آف مشی گن کی تحقیقی رپورٹ کے مطابق جب شوہر ہفتے میں دو بار بھی بیوی کو تحقیر کا نشانہ بناتا ہے تو عورت کے دماغ میں محبت اور تعلق کا ہارمون یعنی آکسی ٹوسن ۵۲ فیصد تک گر جاتا ہے۔ جہاں تحقیر آ جائے وہاں سے رشتے کی بنیادیں ہل جاتی ہیں۔
سچ نمبر ۲: سنا نہیں، صرف حکم دیا
سائنس اور روایتی طب دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ عورت کی نفسیات اور مزاج کو توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔
ڈیٹا سے معلوم ہوتا ہے کہ جن عورتوں کو ان کے شوہر روزانہ ۱۵ منٹ بھی توجہ سے نہیں سنتے، ان میں اپنے شریک حیات سے دوری ۶۱ فیصد زیادہ ہو جاتی ہے۔
عورت کو محض گھر یا زیور نہیں بلکہ سب سے پہلے ایک سچا اور ہمدرد سننے والا چاہیے۔
سچ نمبر ۳: دوسروں کے سامنے بیوی کو نیچا دکھانا
ساس، سسر، دوستوں یا بچوں کے سامنے بیوی کا مذاق اڑانا یا اس کی خامیوں کو اجاگر کرنا وہ زخم ہے جو عورت کبھی بھول نہیں پاتی۔ آکسفورڈ کی تحقیق کے مطابق ۷۴ فیصد عورتوں کا کہنا ہے کہ محفل میں ہونے والی بے عزتی ان کے دل سے شوہر کا احترام ختم کر دیتی ہے۔
سچ نمبر ۴: جھوٹ اور دھوکہ
چھوٹا جھوٹ بھی عورت کے اندر خوف اور بے اعتمادی پیدا کرتا ہے۔ کینزی انسٹیٹیوٹ کے مطابق مسلسل جھوٹ اور بے وفائی سے عورت کے دماغ میں تناؤ کا ہارمون کارٹیسول دو گنا بڑھ جاتا ہے اور کچھ ہی عرصے میں نفرت، محبت پر حاوی ہو جاتی ہے۔
سچ نمبر ۵: جذباتی دوری اور صرف ضرورت پر بات
شوہر صرف تب بات کرے جب کھانا، کپڑے یا جسمانی ضرورت ہو۔ باقی وقت موبائل یا دوستوں میں گزرے۔ ایک مہینے سے زیادہ جذباتی دوری کے باعث ۶۷ فیصد شادی شدہ خواتین کا کہنا ہے کہ وہ صرف مجبوری میں رشتہ نبھا رہی ہوتی ہیں۔
مرد کو لگتا ہے سب ٹھیک ہے، لیکن عورت اندر سے ٹوٹ چکی ہوتی ہے۔
حکمت کے خزانے سے دو اشعار:
تمہاری بے رخی نے کر دیا خاموش ورنہ ہم
ذرا سی بات پر گھنٹوں سخن آرا ہی رہتے تھے
دلوں کی قدر کرو اس جہانِ فانی میں
کہ ٹوٹے شیشے پھر اکثر جڑا نہیں کرتے
نظریہ مفرد اعضاء، طب یونانی، طب اسلامی اور آیو ویدک فلسفہ کے تحت اس کا حل:
طب اسلامی اور قدیم حکمت کے مطابق میاں بیوی کا تعلق سکون، مودت اور رحمت پر مبنی ہے۔
جب ذہنی دوری اور کشیدگی بڑھتی ہے تو انسان کے جسم میں مزاجی غیر توازن یعنی اعصابی، عضلاتی یا غدی نابرابری پیدا ہوتی ہے جس سے غصہ، چڑچڑاپن اور تنہائی کی کیفیت جنم لیتی ہے۔
نفرت کو واپس محبت اور سکون میں بدلنے کے چند سنہرے اصول:
۱. عزت واپس لائیں۔ سب کے سامنے تعریف کریں اور اگر کوئی غلطی ہو تو صرف اکیلے میں بات کریں۔
۲. روزانہ کم از کم ۲۰ منٹ صرف اس کی بات سنیں، فوری حل یا مشورہ دیے بغیر صرف توجہ دیں۔
۳. ہر قسم کے جھوٹ سے پرہیز کریں۔ سچ کڑوا ضرور ہوتا ہے لیکن رشتہ بچا لیتا ہے۔
یاد رکھیں، عورت نفرت سے نہیں بلکہ مسلسل جذباتی تھکن سے دور ہوتی ہے۔
جس دن آپ اسے دل سے عزت اور توجہ دیں گے، اسی دن اس کے دل میں محبت کا چراغ پھر سے روشن ہو جائے گا۔
اگر آپ بھی ان مسائل سے گزر رہے ہیں:
ڈپریشن، ذہنی پریشانی، محبت میں ناکامی، دھوکہ، احساس کمتری، شوہر کی بے عزتی، ازدواجی مسائل، گھبراہٹ، بے چینی، چڑچڑاپن، نیند کی کمی، خوف، حد سے زیادہ سوچنا، خود اعتمادی کی کمی، رشتوں میں الجھن، ماضی کو بھلا نہ پانا، غصہ، تنہائی یا شوہر سے نفرت۔
مکمل مشاورت اور فطری علاج کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔
معالجین:
پروفیسر ساہیوال طبیہ کالج حکیم ابنِ طبیب رائے خالد
پچھلے پانچ عشروں سے مطب کا وسیع تجربہ
طبیبہ ام حبیبہ (فائنبوس فزیشن)
پتہ:
خالد دواخانہ
چوک ہارنیاں والا، غلہ گودام، ضلع اوکاڑہ شہر
رابطہ نمبر: 03127530789
اس تحریر کو لائک کریں، شیئر کریں اور ہمارے پیج کو فالو کریں۔
27/09/2026
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
یورین کی سوزش، جلن، اور مجاری البول کے امراض کے لیے ایک مجرب اور بے خطا طبی نسخہ
حکمت کے علمی خزانوں سے دو اشعار:
علاجِ دردِ دل زاں چشمِ بیمار آرزو دارم
کہ درمانِ مریضاں از طبیبانِ حاذق می آید
نورِ حق پیدا بود اندر دوا
تا ببینی قدرِ استاد و صفا
طبی و فلسفیانہ پس منظر:
یورین یعنی پیشاب کی سوزش، جلن، اور درد انسان کو شدید بے چین کر دیتے ہیں۔ اس مرض کی اصل وجہ جسم میں حرارت اور حدت کا غیر معمولی بڑھ جانا یا خلطِ صفرا کا غلبہ ہے۔
طبِ یونانی اور طبِ اسلامی کے بنیادی اصولوں کے مطابق یہ مرض سوزشِ مجاری البول اور حدتِ صفرا کی علامت ہے۔ جب جسم میں صفراوی مادے بڑھ جاتے ہیں تو گردہ و مثانہ کی نالیوں میں سوجن اور جلن پیدا ہو جاتی ہے۔
نظریہ مفرد اعضا کے تحت یہ عضلاتی غدد تحریک یا غدی عضلاتی سوزش کا نتیجہ ہوتا ہے، جس میں غدی نظام میں سوزش پیدا ہو کر پیشاب قطرہ قطرہ اور جلن کے ساتھ آتا ہے۔
آیویدک اور سنسکرت فلسفے کے مطابق اس حالت کو "پت دوش" کی خرابی کہا جاتا ہے، جہاں جسم کا اگنی (حرارت) کا توازن بگڑ جاتا ہے اور پیشاب میں داہ (جلن) پیدا ہوتی ہے۔
منطق اور طبی استدلال کے تحت جب تک جسم سے فاضل حرارت کو زائل نہ کیا جائے اور سوزش کو ختم نہ کیا جائے، مریض کو مستقل افاقہ نہیں ہو سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ اس نسخے میں مصفیٰ اور مسکنِ حرارت جڑی بوٹیوں کو یکجا کیا گیا ہے۔
نسخہ کے اجزاء:
برگِ نیم: 1 تولہ (مصفیٰ خون، اینٹی سیپٹک اور سوزش کو دور کرنے والا)
سکِ سنبھالو: 1 تولہ (سوزش اور ورم کو ختم کرنے والی بوٹی)
دھماسہ: 1 تولہ (مصفیٰ خون، مخرجِ صفرا اور بہترین اینٹی بائیوٹک)
انبَہ ہلدی: آدھا تولہ (دافعِ ورم، مصفیٰ اور سوزشِ مجاری کو فوراً شفا دینے والی)
ترکیبِ تیاری و طریقہ استعمال:
تمام ادویات کو صاف ستھرا کر کے باریک پیس لیں اور سفوف بنا لیں۔ اس سفوف کو 1000 ایم جی کے کیپسول میں بھر لیں یا 1000 ایم جی کی مقدار (تقریباً آدھا چھوٹا چمچ) دن میں تین بار تازہ پانی کے ساتھ استعمال کریں۔
فوائد:
یہ نسخہ پیشاب کی جلن، سوزش، قطرہ قطرہ پیشاب آنے، اور مثانے کی گرمی کو دنوں میں ختم کرتا ہے۔ جسم کی فاضل حرارت کو اعتدال پر لاتا ہے اور سوزش کو جڑ سے اکھاڑ پھینکتا ہے۔
زیرِ سرپرستی:
پروفیسر ساہیوال طبیہ کالج، حکیم ابنِ طبیب رائے خالد
پچھلے پانچ عشروں (50 سال) سے مسلسل مطب اور خدمتِ خلق میں مصروف۔
مطب کا پتہ:
خالد دواخانہ، چوک ہارنیاں والا، غلہ گودام، اوکاڑا، پنجاب، پاکستان۔
تحریر و تحقیق:
سکالر طبیبہ ام حبیبہ (فائنبوس فزیشن)
رابطہ و واٹس ایپ نمبر:
03127530789
اگر آپ کو یہ معلومات اور طبی رہنما پسند آئے تو اس پوسٹ کو لائک، شیئر اور ہمارے پیج کو فالو ضرور کریں تاکہ دیگر لوگ بھی اس فیض سے مستفید ہو سکیں۔
Category
Contact the business
Telephone
Website
Address
Chownk Harniya Wala Ghala Godam
Okara
56300
Opening Hours
| Monday | 09:00 - 19:00 |
| Tuesday | 09:00 - 19:00 |
| Wednesday | 09:00 - 19:00 |
| Thursday | 09:00 - 19:00 |
| Friday | 09:00 - 11:00 |
| Saturday | 09:00 - 19:00 |
| Sunday | 09:00 - 19:00 |