fahd azam
music
*اے اللہ!*
جو لوگ پریشان ہیں اور تیری مدد کے طلبگار ہیں انکی مشکلوں کو ختم کر دے۔
*آمین، یا ربّ العالمین!* 🤲 ❤️
Fahd💛💛
It's my work @ # #
20/08/2026
مجھے سب سے زیادہ ترس امریش پوری پر آتا ہے۔
تقریباً 35 سالہ فلمی کیریئر میں 400 سے زائد فلمیں کیں، مگر اکثر ولن بن کر فلموں میں مار کھاتے رہے اور تشدد برداشت کرتے رہے۔
حقیقی زندگی میں تو نہیں، مگر کم از کم شوٹنگ کے دوران تو مار ہی کھاتے رہے۔ اور ویسے اپنی پوری زندگی تو شوٹنگ میں ہی گزار دی انہوں نے ۔
میری تمام تر تعزیتیں امریش پوری کے ساتھ۔ 😂
It's my village @ #
20/08/2026
ضلع بهكر میں کون سا ایسا پولیس آفیسر /اہلكار / ملازم ہے جو رشوت نہیں لیتا ۔۔۔؟؟
18/08/2026
My daughter
15/08/2026
کیا یہ 1960 کے ریٹ سہی ہیں یہی قیمت تھی اس وقت؟ کسی نے خریدا ہے اس ریٹ پر جس جس کو پتہ ہے کمنٹ میں ضرور بتائیں پرانی یادیں
یہ وہ دور تھا جب سنار کی دکان پر صرف زیورات کی خرید و فروخت نہیں ہوتی تھی، بلکہ نسل در نسل قائم رہنے والے اعتماد کا سودا ہوا کرتا تھا۔ دکاندار گاہک کے خاندان کے ہر فرد کو نام سے جانتا تھا، اور لین دین میں بول ہی سب سے بڑی ضمانت مانا جاتا تھا۔ کسی کاغذ پر لکھی ایک چھوٹی سی رقم یا ایک دستخط ہی سب سے بڑی سند ہوتی تھی، کیونکہ نیتوں میں خلوص اور زبان میں سچائی ہوا کرتی تھی۔
اُن دنوں شادی بیاہ کے موقع پر سونے چاندی کا زیور محض نمائش یا دکھاوے کے لیے نہیں خریدا جاتا تھا، بلکہ یہ بزرگوں کی دعاؤں اور معصوم خواہشوں کی علامت ہوتا تھا۔ گھر کی بڑی بوڑھیاں اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی سے کچھ بچا کر، بڑی تگ و دو کے بعد، عبد الغفور چچا کی دکان پر آتیں اور اپنی پوتی یا نواسی کے لیے پازیبیں یا بالیاں بنواتیں۔ ان زیورات کی چمک سے زیادہ ان کے پیچھے چھپی محبت اور خلوص کی چمک اہم ہوتی تھی۔
اس رسید پر لکھی چیزوں کو دیکھیں: "سونا فی تولہ" اور "چاندی فی تولہ"۔ اُن دنوں ان کی قیمتیں آج کے مقابلے میں اتنی کم تھیں کہ سن کر حیرت ہوتی ہے۔ لیکن اس وقت کی برکت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک عام آدمی بھی اپنی حلال کی کمائی سے، تھوڑی تھوڑی بچت کر کے، اپنے گھر والوں کے لیے یہ 'سنہری' خوشیاں خرید سکتا تھا۔ برکت صرف پیسوں میں نہیں، بلکہ وقت اور نیتوں میں بھی تھی۔
آج کے دور میں جب ہم ہر طرف افرا تفری، دکھاوا اور مادیت پرستی دیکھتے ہیں، تو کاغذ کا یہ بوسیدہ ٹکڑا ہمیں خاموشی سے یہ یاد دہانی کراتا ہے کہ زندگی کی اصل خوبصورتی چیزوں کی کثرت میں نہیں، بلکہ دل کی سادگی، باہمی محبت، قناعت اور ایک دوسرے پر اٹوٹ بھروسے میں تھی۔ وہ وقت، وہ مخلص لوگ، وہ باہمیاں اور وہ بے ساختہ مسکراہٹیں شاید کہیں کھو گئی ہیں، لیکن یہ سادہ داستان ہمیں ان یادوں میں زندہ رکھتی ہے اور ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ کیا ہم دوبارہ اس سادگی کی طرف لوٹ سکتے ہیں؟ کاش وہ دور، وہ شفاف نیتیں، اور وہ رشتوں کا مان ایک بار پھر لوٹ آئے
پرانی یادیں
Category
Website
Address
Jhang Road
Bhakkar