Beautiful Poetry
Beautiful Poetry
جُستَجُو کھوئے ہوؤں کی عُمر بَھر کرتے رہے
چاند کے ہم رَاہ ہم ہر شَب سفر کرتے رہے
راستوں کا عِلم تھا ہم کو نہ سِمتوں کی خبر
شہر نا معلوم کی چاہت مگر کرتے رہے
ہم نے خُود سے بھی چُھپایا اور سارے شِہر کو
تیرے جانے کی خبر دیوار و دَر کرتے رہے
وہ نہ آئے گا ہمیں معلوم تھا اُس شام بھی
اِنتظار اُس کا مگر کُچھ سُوچ کر کرتے رہے
آج آیا ہے ہمیں بھی اُن اُڑانوں کا خیال
جِن کو تیرے زُعْم میں بے بال و پر کرتے رہے
جھکی جھکی سی نظر بے قرار ہے کہ نہیں
دبا دبا سا سہی دل میں پیار ہے کہ نہیں
تو اپنے دل کی جواں دھڑکنوں کو گن کے بتا
مری طرح ترا دل بے قرار ہے کہ نہیں
وہ پل کہ جس میں محبت جوان ہوتی ہے
اس ایک پل کا تجھے انتظار ہے کہ نہیں
تری امید پہ ٹھکرا رہا ہوں دنیا کو
تجھے بھی اپنے پہ یہ اعتبار ہے کہ نہیں
کیفی اعظمی
ساحر لدھیانوی
کبھی کبھی میرے دِل میں خیال آتا ھے
ہہ زندگی تیری زُلفوں کی نرم چھاؤں میں
گزرنے پاتی تو شاداب ھو بھی سکتی تھی
یہ تیرگی جو میری زیست کا مقدر ھے
تیری نظر کی شعاعوں میں کھو بھی سکتی تھی
مگر یہ ھو نہ سکا اور اب یہ عالم ھے
کہ تُو نہیں ، تیرا غم ، تیری جستجُو بھی نہیں
گزر رھی ھے کچھ اِس طرح زندگی جیسے
اِسے کسی کے سہارے کی آرزو بھی نہیں
نہ کوئی جادہ و منزل ،نہ روشنی کا سراغ
بھٹک رھی ھے خلاؤں میں زندگی میری
اِنہی خلاؤں میں رہ جاؤں گا کبھی کھو کر
میں جانتا ھُوں میری ھم نفس ، مگر یوں ھی
کبھی کبھی میرے دل میں , خیال آتا ھے۔
"ساحر لدھیانوی"
01/11/2023
جو تھکن تھی کسی سے محبت کی!!!
وہ تھکن بھی اتار دی میں نے
اک خواہش تھی اس سے ملنے کی
پھر وہ "خواہش" بھی مار دی میں نے
پوچھتے کیا ہو 'زندگی' کے بارے میں؟؟؟
مجھ پر گزری۔۔۔۔گزار دی میں نے۔۔۔!
نُکتہ چِیں ! شوق سے دن رات مِرے عَیب نکال
کیونکہ جب عَیب نکل جائیں ، ھُنَر بچتا ھے
سارے ڈر بس اِسی ڈر سے ھیں کہ کھو جائے نہ یار
یار کھو جائے تو پھر کونسا ڈر بچتا ھے !!
غزل
من لیا ڈھیر کسیرے ھاسے
سمجھیں ھا تاں تیرے ھاسے
تیرے بخت دے ڈیوے تھلے
بھانوی وانگ ہنیرے ھاسے
ھکا بج ھائی غربت آلی
ظرف دے ڈھیر اچیرے ھاسے
دل دی نینہ دا توں ھائیں مالک
اساں فقط موذیرے ھاسے
پل وچ تروڑ دیتونی سجنڑاں
تیتھے مانڑ چوکھیرے ھاسے
رکھیں ھا تاں نوکری کیتے
اساں راج بہتیرے ھاسے
اعجازراج
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
29/08/2023
نگری نگری پھرا مسافر گھر کا رستا بھول گیا
کیا ہے تیرا کیا ہے میرا اپنا پرایا بھول گیا
کیسے دن کیسی راتیں کیسی باتیں گھاتیں تھیں
من بالک ہے پہلے پیار کا سندر سپنا بھول گیا
کلام شاعر بزبانِ شاعر
ایک غزل
انتخاب از حسرتیں۔
ہم اک طرف ہیں تو دنیا تمام اور کہیں
یہاں نہیں تو ملے گا مقام اور کہیں
دیار غیر بھی تھا اور مسافری بھی تھی
صبح کہیں پہ گزاری تو شام اور کہیں
میرے دریچے کا منظر ہے کچھ ادھورا سا
دمک رہا ہے وہ ماہ تمام اور کہیں
تمھارے عشق کی جولاں میں ایسا جکڑا ہے
کہ بھاگ سکتا نہیں یہ غلام اور کہیں
یہاں تو ساری نشستوں پہ غیر بیٹھے ہیں
کیا ہی ہو گا مرا انتظام اور کہیں
اسے نصیب کا لکھا سمجھ کے مان لیا
مقام اور جگہ تھا قیام اور کہیں۔۔
7.4.2018
Clicca qui per richiedere la tua inserzione sponsorizzata.
Digitare
Telefono
Sito Web
Indirizzo
Brescia
25124