Dr Atta Ur Rahman

Dr Atta Ur Rahman

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Dr Atta Ur Rahman, Health/Beauty, .

Dedicated to spreading health awareness and promoting a better lifestyle, this platform aims to educate people about disease prevention, safe use of medicines, and the importance of timely medical care.📚🩺

06/09/2026

🚫Avoid / Use caution with these combinations:
Ondansetron + Azithromycin → QT prolongation → Torsades/ventricular arrhythmia

Ondansetron + Tramadol → ↑ serotonergic effect → Serotonin syndrome → agitation, sweating, tremor, hyperreflexia/clonus, fever

Spironolactone + K⁺ supplements → Hyperkalaemia → arrhythmia

Simvastatin + Clarithromycin → CYP3A4 inhibition → ↑ simvastatin → Rhabdomyolysis

Sildenafil + Nitrates → Severe hypotension/syncope/shock — contraindicated

Sedating antihistamine + Sleeping pills/sedatives → Additive CNS depression → excessive sedation ± respiratory depression

04/09/2026

ایک باپ کا ایسا دکھ، جسے الفاظ بیان نہیں کر سکتے
کبھی کبھی انسان کے پاس آنسو بھی ختم ہو جاتے ہیں، مگر درد ختم نہیں ہوتا۔

یہ تصویر صرف ایک قبر کے پاس لیٹے ہوئے شخص کی نہیں، بلکہ ایک ایسے باپ کے ٹوٹ جانے کی تصویر ہے جس نے اپنی زندگی لوگوں کے دل بچانے میں گزاری۔
یہ ڈاکٹر غلام فاروق، کارڈیالوجسٹ ہیں، جنہوں نے پوری زندگی مریضوں کے دلوں کا علاج کیا۔ مگر آج اپنے ہی دل پر لگنے والے زخم کا کوئی علاج ان کے پاس نہیں۔
کچھ دن پہلے ان کے اکلوتے بیٹے برہان اللہ کو شہید کر دیا گیا۔
بیٹے کی جدائی کا غم شاید دنیا کا وہ دکھ ہے جس کے سامنے ہر لفظ بے معنی ہو جاتا ہے۔

کچھ قبریں صرف ایک انسان کو دفن نہیں کرتیں،
وہ ایک باپ کی پوری دنیا اپنے اندر سمیٹ لیتی ہیں۔

اللہ تعالیٰ شہید برہان اللہ کی قبر کو نور سے بھر دے،
اور اس کے والد کو یہ ناقابلِ برداشت صدمہ سہنے کا صبر عطا فرمائے۔ 🤲🏻 💔

22/08/2026

⚠️ ہائی بلڈ پریشر— ایک خاموش قاتل!

کیا آپ جانتے ہیں کہ ہائی بلڈ پریشر اکثر بغیر کسی واضح علامت کے جسم کو نقصان پہنچاتا رہتا ہے؟ بہت سے لوگ خود کو بالکل ٹھیک محسوس کرتے ہیں، لیکن ان کا بلڈ پریشر مسلسل بڑھا ہوا ہوتا ہے۔ اسی لیے اسے "Silent Killer" کہا جاتا ہے۔

ہائی بلڈ پریشر صرف ایک نمبر کا بڑھ جانا نہیں، بلکہ اگر طویل عرصے تک کنٹرول نہ ہو تو یہ آہستہ آہستہ جسم کے اہم اعضا کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

🚨 کن لوگوں کو ہائی بلڈ پریشر کا زیادہ خطرہ ہو سکتا ہے؟

🔹 جن کے خاندان میں ہائی بلڈ پریشر کی بیماری ہو
🔹 زیادہ نمک، فاسٹ فوڈ اور غیر صحت بخش غذا استعمال کرنے والے
🔹 موٹاپے یا زیادہ وزن والے افراد
🔹 جسمانی سرگرمی اور ورزش کی کمی والے لوگ
🔹 سگریٹ نوشی کرنے والے
🔹 ذیابیطس یا گردوں کے مریض
🔹 مسلسل ذہنی دباؤ میں رہنے والے افراد
🔹 عمر بڑھنے کے ساتھ بھی خطرہ بڑھ سکتا ہے

⚠️ ہائی بلڈ پریشر کے کیا نقصانات ہو سکتے ہیں؟

اگر بلڈ پریشر کنٹرول نہ کیا جائے تو یہ خون کی نالیوں اور اہم اعضا کو نقصان پہنچا سکتا ہے، جس کے نتیجے میں:

🧠 فالج (Stroke) ہو سکتا ہے
❤️ ہارٹ اٹیک یا دل کی کمزوری ہو سکتی ہے
🫘 گردے خراب ہو سکتے ہیں
👁️ آنکھوں اور بینائی کو نقصان پہنچ سکتا ہے
⚡ بعض صورتوں میں اچانک اور خطرناک پیچیدگیاں بھی پیدا ہو سکتی ہیں

✅ ہائی بلڈ پریشر سے بچاؤ اور کنٹرول کیسے کریں؟

🩺 اپنا بلڈ پریشر باقاعدگی سے چیک کروائیں، خاص طور پر اگر خطرے کے عوامل موجود ہوں۔
🧂 کھانے میں نمک کم استعمال کریں۔
🥗 زیادہ سبزیاں، پھل اور متوازن غذا استعمال کریں۔
🚶 روزانہ جسمانی سرگرمی یا ورزش کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔
⚖️ اپنا وزن مناسب حد میں رکھنے کی کوشش کریں۔
🚭 سگریٹ نوشی سے پرہیز کریں۔
💊 اگر ڈاکٹر نے بلڈ پریشر کی دوا تجویز کی ہے تو اسے باقاعدگی سے لیں اور اپنی مرضی سے بند نہ کریں۔

یاد رکھیں: ہائی بلڈ پریشر ہمیشہ علامات نہیں دیتا، اس لیے علامات کا انتظار کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔

❤️ اپنا بلڈ پریشر جانیں، اسے کنٹرول میں رکھیں، اور اپنے دل، دماغ اور گردوں کو محفوظ رکھیں۔

Check Your BP Today — Protect Your Health Tomorrow!

— Dr. Atta Ur Rahman

30/07/2026

🚨 زخم پر مٹی یا اور دیگر دیسی ٹوٹکے نہ لگائیں!

ایک لمحے کی غلطی... زندگی بھر کا پچھتاوا بن سکتی ہے!

بچپن میں شاید ہم میں سے اکثر نے یہ دیکھا یا خود کیا ہوگا کہ زخم لگنے پر خون روکنے کے لیے مٹی یا چائے کی پتی لگا دی جاتی تھی۔

بدقسمتی سے آج بھی صحت سے متعلق آگاہی کی کمی کی وجہ سے یہی غلطی دہرائی جا رہی ہے۔ حتیٰ کہ کتے کے کاٹنے یا کسی گہرے زخم پر بھی بعض لوگ مٹی ڈال دیتے ہیں، یہ سوچ کر کہ اس سے جراثیم ختم ہو جائیں گے۔

⚠️ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔

مٹی زخم کو ٹھیک نہیں کرتی بلکہ انفیکشن کا خطرہ بڑھا دیتی ہے۔ عام مٹی میں Clostridium tetani جیسے جراثیم کے اسپورز موجود ہو سکتے ہیں، جو زخم کے ذریعے جسم میں داخل ہو کر ٹیٹنس (Tetanus) جیسی خطرناک اور جان لیوا بیماری کا سبب بن سکتے ہیں۔

اگر زخم لگ جائے تو فوراً یہ کریں:

✅ زخم کو صاف بہتے پانی سے اچھی طرح دھوئیں۔
✅ صاف گاز یا پٹی سے ڈھانپ دیں۔
✅ اگر زخم گہرا ہو، جانور نے کاٹا ہو، یا زنگ آلود چیز سے چوٹ لگی ہو تو فوراً قریبی ہسپتال جائیں۔
✅ ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق ٹیٹنس ویکسین ضرور لگوائیں۔

❌ یاد رکھیں!

مٹی، چائے کی پتی یا دیگر دیسی ٹوٹکے علاج نہیں، بلکہ انفیکشن کو دعوت دیتے ہیں۔

غلط فہمیوں کو چھوڑیں، صحیح طبی معلومات اپنائیں، اور یہ پیغام دوسروں تک ضرور پہنچائیں۔


— Dr. Atta Ur Rahman

28/07/2026

💥ایک دلچسپ اور سبق آموز کہانی

ہمارے معاشرے میں بعض اوقات ایسی باتیں دیکھنے اور سننے کو ملتی ہیں کہ انسان حیران بھی رہ جاتا ہے اور افسوس بھی ہوتا ہے۔ سمجھ نہیں آتی کہ اسے کم علمی کہیں، غلط رہنمائی یا بدقسمتی۔

جب میں فائنل ایئر میں تھا تو ایک دن میں او پی ڈی میں بیٹھا تھا۔ تو ایک امیر صاحب او پی ڈی میں داخل ہوا اور سیدھا میرے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گئے۔ لیکن میرے خیال میں وہ کسی مریض کے ساتھ آیا تھا۔ انہوں نے مجھ سے کہا، ڈاکٹر صاحب! میں آپ کے ساتھ شوگر کے بارے میں ایک بات شیئر کرتا ہوں، شاید آپ مانیں گے بھی یا نہیں.

میں نے مسکرا کر کہا: جی ضرور، آپ بتائیں۔ اگر بات درست ہوئی تو ضرور مانیں گے۔

انہوں نے اپنا ہاتھ آگے کیا۔ میں نے جب دیکھا تو انگوٹھے اور شہادت کی انگلی کے درمیان والی جگہ کا گوشت تقریباً ختم ہو چکا تھا۔ میں نے حیرت سے پوچھا: بھائی، یہ کیا ہوا؟

انہوں نے جواب دیا:مجھے شوگر ہے۔ جب میں اس جگہ کو زور سے دباتا ہوں تو میری شوگر کنٹرول ہو جاتی ہے، اس لیے میں کافی عرصے سے یہی کرتا آ رہا ہوں۔

ایک لمحے کے لیے میں بھی حیران رہ گیا، کیونکہ مسلسل دبانے کی وجہ سے اس جگہ کو کافی نقصان پہنچ چکا تھا۔

میں نے ان سے پوچھا: آپ کو کس نے بتایا کہ آپ کو شوگر ہے؟

انہوں نے کہا: ہمارے علاقے کے ایک ڈاکٹر نے کہا تھا کہ آپ کو شوگر ہے، لیکن کبھی کوئی ٹیسٹ نہیں کروایا گیا۔

"شوگر کی علامات کے بارے میں پوچھنے پر کوئی واضح علامت موجود نہیں تھی، اور مریض نے بتایا کہ اس نے کبھی شوگر کی دوا بھی استعمال نہیں کی

تب میں نے انہیں سمجھایا: بھائی، نہ ہم نے اپنی میڈیکل کتابوں میں کبھی ایسا پڑھا ہے، نہ اپنے اساتذہ سے سنا ہے، اور نہ ہی اس بات کی کوئی سائنسی یا طبی بنیاد موجود ہے کہ انگوٹھے اور شہادت کی انگلی کے درمیان والی جگہ دبانے سے شوگر کنٹرول ہو جاتی ہے.

میں نے انہیں مشورہ دیا کہ سب سے پہلے شوگر کے مناسب ٹیسٹ کروائیں۔ اگر واقعی شوگر موجود ہو تو پھر اس کا علاج شروع کیا جائے۔
بغیر تشخیص کے کسی بھی طریقہ علاج پر عمل کرنا نقصان دہ ہو سکتاہے۔

اس واقعے کا مقصد صرف ایک بات سمجھانا ہے کہ ہمارے دیسی اور دور دراز علاقوں میں نہ تو مناسب سہولیات ہوتی ہیں
اور صحت کے آگاہی کے بارے میں آج بھی شدید کمی ہے۔ اسی وجہ سے لوگ بعض اوقات ایسے طریقوں پر یقین کر لیتے ہیں جو نہ صرف بے فائدہ ہوتے ہیں بلکہ نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں۔

لہٰذا جب بھی صحت کے حوالے سے کوئی مسئلہ ہو تو ڈریں مت، سیدھا کسی مستند ڈاکٹر کے پاس جائیں، اپنا معائنہ کروائیں ضروری ٹیسٹ کروائیں اور بروقت علاج شروع کریں۔ ان شاء اللہ، زیادہ تر بیماریاں بروقت تشخیص اور مناسب علاج سے قابو میں رہتی ہیں۔

خاص طور پر جب لوگ شوگر، بلڈ پریشر یا دل کی بیماری کا نام سنتے ہیں تو اکثر خوفزدہ ہو جاتے ہیں، جیسے اب زندگی ختم ہونے والی ہو۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ بیماریاں خطرناک اس وقت بنتی ہیں جب انہیں نظر انداز کیا جائے یا علاج میں تاخیر کی جائے۔

اگر بروقت تشخیص اور علاج ہو جائے تو ان شاء اللہ نہ صرف بیماری قابو میں رہتی ہے بلکہ اس کی سنگین پیچیدگیوں سے بھی بچا جا سکتا ہے۔ ہمارے ملک میں تقریباً ہر تیسرا یا چوتھا فرد ان بیماریوں میں سے کسی نہ کسی کا شکار ہے، اس لیے گھبرانے کے بجائے ذمہ داری سے علاج کروائیں۔

یاد رکھیں، اگر شوگر یا بلڈ پریشر کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ آہستہ آہستہ آپ کے:

• دل• دماغ• گردے• آنکھیں• اعصاب• پاؤں اور خون کی نالیوں

کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں، جس کے بعد زندگی کا معیار بری طرح متاثر ہو جاتا ہے۔

اپنی صحت کو افواہوں کے نہیں، بلکہ مستند طبعی معلومات کے حوالے کریں۔

24/07/2026

📢مرگی کے بارے میں عوامی آگاہی

1) مرگی کا دورہ پڑنے پر فوراً کیا کریں؟ (First Aid)

مریض کو محفوظ جگہ منتقل کرو اور آہستگی سے زمین یا فرش پر لٹا دیں۔

اگر ممکن ہے مریض کو بائیں کروٹ پر کر دیں تاکہ تھوک یا الٹی سانس کی نالی میں نہ جائے۔
سر کے نیچے نرم چیز (تکیہ یا کپڑا) رکھ دیں تاکہ چوٹ نہ لگے۔

گردن کے تنگ کپڑے ڈھیلے کر دیں۔
آس پاس کی نوکیلی یا خطرناک چیزیں ہٹا دیں۔
دورہ شروع ہونے کا وقت نوٹ کریں۔اور دورے کے نوعیت نوٹ کریں

دورہ ختم ہونے تک مریض کے ساتھ رہیں۔

2) مرگی کے دورے میں کیا ہرگز نہیں کرنا چاہیے؟ (عام غلطیاں / Myths)

❌ مریض کے منہ میں چمچ، کپڑا، انگلی یا کوئی بھی چیز نہ ڈالیں۔

❌ مریض کو زبردستی پکڑ کر جھٹکے روکنے کی کوشش نہ کریں۔

❌ دورے کے دوران پانی، دوا، دودھ یا کوئی چیز منہ سے نہ پلائیں۔

❌ منہ پر پانی نہ چھڑکیں اور نہ ہی جوتا یا جرابے سونگھائیں۔ یہ صرف ایک عام غلط فہمی (Myth) ہے، اس کا کوئی طبی فائدہ نہیں۔

❌پانی یا آگ کے قریب کرنا تاکہ جھٹکے ختم ہو جائے ۔

❌ مریض کو تھپڑ نہ ماریں یا ہلانے کی کوشش نہ کریں۔

3) کن حالات میں مریض کو فوراً ہسپتال لے جانا ضروری ہے؟
دورہ 5 منٹ سے زیادہ جاری رہے۔

بار بار مرگی کے جھٹکے ہوں مثلاً ایک دورہ ختم ہوا لیکن مریض ہوش میں نہیں آیا اور دوسرا دورہ شروع ہو جائے۔

یہ مریض کی زندگی کا پہلا دورہ ہو۔

مریض کو سانس لینے میں دشواری ہو یا رنگ نیلا پڑ جائے۔

دورہ پانی میں آیا ہو۔
مریض حاملہ ہو، ذیابیطس کا مریض ہو، یا دورہ کسی شدید بیماری یا چوٹ کے بعد آیا ہو۔

یاد رکھیں:
مرگی کا زیادہ تر دورہ 1–3 منٹ میں خود بخود ختم ہو جاتا ہے۔ پرسکون رہیں، مریض کو محفوظ رکھیں، اور غیر ضروری اقدامات سے گریز کریں۔

19/07/2026

💥ڈاکٹر: ایک امید کی کرن

آج بحیثیت ہاؤس آفیسر ہسپتال میں میری ڈیوٹی کا انیسواں دن تھا۔ کچھ باتیں جو پہلے صرف سنتے تھے، آج اپنی آنکھوں سے دیکھ کر ان پر یقین آ گیا کہ واقعی ایک ڈاکٹر ہسپتال میں ہر کسی کے لیے امید کی ایک کرن ہوتا ہے۔

جب ایک ڈاکٹر وارڈ میں داخل ہوتا ہے تو ہر کسی کی نظر اسی پر ہوتی ہے۔ ہر مریض اور اس کے اٹینڈنٹ کی آنکھوں میں غم، دل میں درد اور جسم میں تھکن صاف نظر آتی ہے۔ ہر کوئی یہی کہتا ہے، "ڈاکٹر صاحب، میرے مریض کو دیکھ لیں۔" مریض کے ذہن میں یہی سوال ہوتا ہے کہ "میرا کیا ہوگا؟ کیا میں ٹھیک ہو جاؤں گا؟ میری بیماری کب ختم ہوگی؟" وہ ڈاکٹر کے ہر لفظ کو بڑی توجہ سے سنتا ہے، جیسے انہی الفاظ میں اس کی امید چھپی ہو۔ اسی طرح اٹینڈنٹ بھی اسی انتظار میں ہوتے ہیں کہ کب ڈاکٹر یہ خوشخبری دے گا کہ "آپ کا مریض بہتر ہو رہا ہے۔"

جب اٹینڈنٹ ڈاکٹر سے مریض کی صحت کے بارے میں پوچھتے ہیں اور ڈاکٹر نرم لہجے اور خوبصورت انداز میں انہیں مریض کی حالت سمجھاتا ہے تو ان کے چہروں پر ایک لمحے کے لیے سکون اور اطمینان آ جاتا ہے۔ لیکن ایک سوال ایسا بھی ہوتا ہے جس کا جواب دینا کبھی کبھی ایک ڈاکٹر کے لیے بہت مشکل ہو جاتا ہے:

"ڈاکٹر صاحب، کیا ہمارا مریض دوبارہ اپنی پرانی حالت میں آ جائے گا؟"

آج میری ڈیوٹی کے دوران ایک فالج (Stroke) کی مریضہ وارڈ میں داخل تھی۔ اس کے ساتھ ایک مرد اور ایک خاتون اٹینڈنٹ موجود تھے، شاید وہ اس کی بیٹی تھی۔ اس نے انتہائی دکھ بھرے لہجے میں مجھ سے پوچھا، "ڈاکٹر صاحب، صبح سے ہماری مریضہ کی حالت بہت خراب ہو گئی ہے۔ وہ کسی بات کا جواب بھی نہیں دے رہی۔ کیا وہ دوبارہ اپنی پرانی حالت میں آ جائے گی؟"

میں نے مریضہ کا معائنہ کیا۔ وہ کسی بھی چیز سے باخبر (not oriented) نہیں تھی اور کسی قسم کا واضح ردِعمل بھی نہیں دے رہی تھی۔ چونکہ وہ اسٹروک کی مریضہ تھی، اس لیے ایسی کیفیت بعض اوقات بیماری کا حصہ ہوتی ہے۔

اس لمحے چند سیکنڈ کے لیے میرے پاس الفاظ کم پڑ گئے۔ بعض اوقات ایک ڈاکٹر کے لیے سب سے مشکل کام علاج کرنا نہیں، بلکہ کسی کی امید کو ٹوٹنے سے بچانا ہوتا ہے۔

میں نے ان سے صرف اتنا کہا، "بس دنیا امید پر قائم ہے۔ ہم پوری کوشش کریں گے، بہترین علاج کریں گے، تاکہ آپ کی مریضہ دوبارہ اپنی حالت میں آ جائے۔ لیکن اس کی کوئی گارنٹی نہیں ہے۔" اس کے بعد میں نے انہیں مریضہ کی موجودہ حالت، علاج اور آئندہ کے طریقۂ کار کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا۔

اسی لمحے مجھے ایک بار پھر احساس ہوا کہ ڈاکٹر صرف دوائیں نہیں دیتا، بلکہ بہت سے لوگوں کے لیے امید، حوصلہ اور تسلی کا ذریعہ بھی ہوتا ہے۔ بعض اوقات ہمارے پاس ہر سوال کا جواب نہیں ہوتا، لیکن ہمارا نرم لہجہ، چند حوصلہ افزا الفاظ اور مخلصانہ کوشش کسی ٹوٹے ہوئے دل کے لیے بھی ایک امید کی کرن بن جاتے ہیں۔

10/06/2026

لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور میں ایک بار پھر ڈاکٹر پر حملہ۔

یہ صرف ایک ڈاکٹر پر حملہ نہیں بلکہ پورے نظامِ صحت پر حملہ ہے۔ ڈاکٹر دن رات اپنی جان، وقت اور آرام قربان کرکے مریضوں کی خدمت کرتے ہیں، لیکن بدلے میں انہیں تشدد، بدتمیزی اور عدم تحفظ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اگر آپ ڈاکٹر کو ذہنی سکون اور محفوظ ماحول نہیں دیں گے، مسلسل دباؤ، دھمکیوں اور تشدد کا سامنا کروائیں گے، تو وہ آپ کے مریض کا بہترین علاج کیسے کر سکے گا؟ ایک ذہنی طور پر پُرسکون ڈاکٹر ہی بہتر فیصلے کر سکتا ہے اور مریض کو بہترین طبی سہولیات فراہم کر سکتا ہے۔

آخر ایسے حالات میں کون ڈاکٹر ڈیوٹی کرے گا؟ کون ایمرجنسی میں مریضوں کی جان بچانے کے لیے آگے آئے گا جب اپنی جان اور عزت ہی محفوظ نہ ہو؟

خیبرپختونخوا میں آئے روز ڈاکٹرز اور طبی عملے پر حملوں کے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں، مگر افسوس کہ حکومت اور متعلقہ اداروں کی خاموشی تشویشناک ہے۔

محفوظ ڈاکٹر، محفوظ مریض، محفوظ صحت کا نظام۔

07/06/2026

ایک ڈاکٹر بننے میں برسوں کی محنت، قربانیاں اور بے شمار جاگی ہوئی راتیں لگتی ہیں، مگر چند لمحوں کی درندگی سب کچھ تباہ کرنے کی کوشش کر دیتی ہے۔

ڈاکٹر ماہور پر تیزاب حملہ صرف ایک فرد پر نہیں بلکہ پوری انسانیت، خواتین کے وقار اور ہمارے معاشرے کے ضمیر پر حملہ ہے۔

Website