PSS
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from PSS, Health/Beauty, pabaini swabi, Panjpir.
18/09/2026
🏆 شاندار کرکٹ ٹورنامنٹ کا اعلان! 🏆🏏 PABAINWAL CRICKET TOURNAMENT 🏏📍 مقام: چتیا گراؤنڈ (Chatya Ground)
تمام کرکٹ لوورز اور مقامی ٹیموں کے لیے بڑا مقابلہ! کیا آپ کی ٹیم ٹرافی اٹھانے کے لیے تیار ہے؟ آج ہی اپنی انٹری کنفرم کریں۔
💰 انعامات:🥇 پہلا انعام (Winner): 15,000 روپے
🥈 دوسرا انعام (Runner-up): 10,000 روپے
📜 ٹورنامنٹ کے قوانین اور ضروری شرائط:
1️⃣ ہر میچ 20 اوورز پر مشتمل ہوگا (یعنی ہر اننگز 10 اوورز کی ہوگی)۔
2️⃣ ٹورنامنٹ ناک آؤٹ سسٹم کے تحت کھیلا جائے گا۔
3️⃣ وقت کی پابندی تمام ٹیموں کے لیے لازمی ہوگی۔
4️⃣ مہمان کھلاڑیوں کو کھیلنے کی بالکل اجازت نہیں ہوگی۔
5️⃣ انٹری فیس 2000 روپے ہے، جو ٹاس سے پہلے جمع کروانا لازمی ہوگی۔
6️⃣ میدان میں امپائر کا فیصلہ حتمی مانا جائے گا۔
7️⃣ گیند (بال) کمیٹی کی طرف سے دی جائے گی، جبکہ ٹیپ ٹیموں کی اپنی ہوگی۔
8️⃣ ہر کھلاڑی کے لیے شرٹ اور بوٹس پہننا لازمی ہے۔ اگر دونوں میں سے کوئی ایک چیز نہ ہوئی، تو 100 روپے جرمانہ ادا کر کے کھیلنے کی اجازت ملے گی۔
📞 رابطہ برائے انٹری و معلومات (آرگنائزرز):
👤 حامد اقبال: 8096394-302-92+
👤 حضرت شیر: 03409797962
👤 جواد: 03495688872
دیگر آرگنائزرز: عطا الرحمن، یاسین، اعجاز خان، آصف جمال، عدنان کامل، ذیشان۔
🎥 میڈیا کوریج: شفقت میڈیا کوریج
17/09/2026
انور شاہ گروپ پابینی کو فائنل میچ جیتنے اور شاندار ٹرافی اپنے نام کرنے پر دل کی گہرائیوں سے بہت بہت مبارکباد! 🎉 بہت خوب، پوری ٹیم نے بہترین کھیل کا مظائرہ کیا۔
لیکن اس پورے فائنل معرکے میں ہمارے دوست، ہمارے بھائی، اور عوامی نیشنل پارٹی کے صدر طاہر محمد پابینی نے کمال ہی کر دیا!
طاہر محمد پابینی نے 20 گزار میں سے 20 نشانے لگائے اور مسلسل 5 میچز میں 5 چوکے مار کر میدان میں دھوم مچا دی۔ اسی لاجواب اور تاریخی کارکردگی کی بدولت انہیں "پلیئر آف دی ننگیال مخہ نمائش بیسک گدون ٹورنامنٹ" کے معزز اعزاز سے نوازا گیا۔ 🌟🏆
طاہر محمد پابینی صرف سیاست یا سماجی کاموں کے ہی ہیرو نہیں ہیں، بلکہ وہ کھیل کے میدان کے بھی ایک انتہائی باصلاحیت اور شاندار کھلاڑی ہیں۔ جس طرح وہ اپنی پارٹی اور اپنے پابینی گاؤں کے لوگوں کی دن رات خدمت کرتے ہیں، اور ہر چھوٹے بڑے کے دکھ سکھ میں ہمیشہ اگلی صفوں میں شریک رہتے ہیں، بالکل اسی طرح کھیل کے میدان میں بھی ان کا اخلاق، جوش اور کارکردگی سب کے دل جیت لیتی ہے۔ وہ سچے معنوں میں ایک بہترین انسان اور لاجواب کھلاڑی ہیں۔
شفقت علی
#مخہ
15/09/2026
لوگ سمجھتے ہیں کہ تلوار اگر برسوں میان میں بند رہے تو اس پر زنگ لگ جاتا ہے۔ پر وہ نادان یہ بھول جاتے ہیں کہ کچھ تلواریں زنگ آلود نہیں ہوتیں، بلکہ ان پر ماضی کے معرکوں کا وہ خون جما ہوتا ہے جو اب سوکھ چکا ہوتا ہے!
ابھی دو دن پہلے ہی ملک افتخار پردیس سے لوٹے تو میچ سے ایک دن پہلے ہم باؤنڈری پر بیٹھے تھے۔ کالا کپڑا پہنے دیکھ کر بچوں نے کہا، "یہ تو اپنے گاؤں کا لگ رہا ہے!" تو میں نے ہنس کر بولا کہ نہیں یار، یہ تو کوئی مہمان ہے۔ اتنے میں پاس کھڑے ایک کھلاڑی نے بتایا کہ ارے نہیں، یہ تو ملک افتخار ہیں! جب میں ان کے قریب گیا تو انہوں نے ہنستے ہوئے مذاق کیا، "یار! انہوں نے مجھ سے فیلڈنگ تو پوری کروائی پر بیٹنگ نہیں دی، میں تو ناراض ہوں!"
سب نے سوچا کہ اتنے سالوں بعد آئے ہیں اور پریکٹس بھی نہیں ہے، اس لیے مخالفین نے انہیں بہت ایزی لیا۔ لیکن اگلے ہی دن بادشاہ 11 کے خلاف بمبار 11 کی طرف سے اوپننگ کرتے ہوئے انہوں نے سب کے اندازے غلط ثابت کر دیے۔ وہی پرانی ٹائمنگ، وہی کلاس اور شاندار چھکوں کی بارش کر کے انہوں نے 65 رنز کی طوفانی اننگز کھیلی اور پرانی یادیں تازہ کر دیں۔ ماشاءاللہ، ٹیلنٹ آج بھی ویسا ہی کڑک ہے!
یہ مقابلہ آخری گیند پر بادشاہ 11 نے 1 رن سے جیتا، لیکن ملک افتخار نے پردیس سے آتے ہی اپنے بلے سے ثابت کر دیا کہ میدان کے اصل بادشاہ آج بھی وہی ہیں!
شاندار واپسی مبارک ہو ملک افتخار جدون! 👑🔥🏏
07/09/2026
اشراق خان: پابینی کرکٹ کی یادگار تاریخ اور صابر کپتان
آج ہم اپنے گاؤں پابینی (صوابی) کے عظیم کرکٹر اور سابق کپتان اشراق خان کا ذکر کر رہے ہیں، جنہوں نے 2017ء تک ٹیم کی شاندار قیادت کی اور اپنی کپتانی میں اتنی ٹرافیاں جیتیں کہ گننا مشکل ہو جاتا ہے۔ اگر آپ گاؤں کے یوسفزئی کھلاڑیوں سے پوچھیں کہ سب سے کم سالوں میں سب سے زیادہ ٹرافیاں کس نے جیتیں، تو سب کی زبان پر ایک ہی نام آئے گا: اشراق خان۔
کپتان اشراق خان نے اپنی قیادت میں ایک شاندار اصول اور روایت بنائی تھی؛ انہوں نے اپنی کپتانی کی پہلی جیتی ہوئی ٹرافی اپنے پاس رکھی، لیکن اس کے بعد جتنی بھی ٹرافیاں جیتیں، وہ ان کھلاڑیوں کو تحفے میں دے دیں جن کے پاس ٹرافی نہیں تھی۔ ان کی سوچ یہ تھی کہ یوسفزئی ٹیم کے ہر ایک کھلاڑی کے گھر میں ٹرافی ہونی چاہیے۔ آج بھی ان کی ٹیم اسی عظیم اصول اور روایت پر عمل کرتی ہے۔
سال 2000ء میں جب انہوں نے یوسفزئی کرکٹ کلب پابینی جوائن کیا، تو سینیئرز کی موجودگی کی وجہ سے انہیں کھیلنے کا موقع نہیں ملتا تھا۔ انہوں نے پورے تین سال صبر کیا۔ وہ روز کندھوں پر بیٹ بال اٹھا کر گراؤنڈ لاتے اور باؤنڈری پر بیٹھ کر میچ دیکھتے۔ لیکن یہی تین سال ان کی سب سے بڑی طاقت بنے؛ انہوں نے وہاں بیٹھ کر کرکٹ کی باریکیاں اور کھلاڑیوں کی نفسیات کو سمجھا، جس نے انہیں ایک تیز دماغ کپتان بنایا۔ وہ آج کے جونیئرز کو بھی یہی پیغام دیتے ہیں کہ کامیابی کے لیے صبر اور قربانی ضروری ہے۔
جب سینیئر کھلاڑی روزگار کے لیے بیرون ملک گئے، تو اشراق خان کو موقع ملا۔ انہوں نے بہترین آل راؤنڈر (بولنگ اور بیٹنگ) کے طور پر اپنے ہنر کا لوہا منوایا اور مشہور ہو گئے۔ بعد میں 2006ء میں وہ خود بھی روزگار کے لیے دبئی (UAE) چلے گئے۔
اس دور میں میچز محلوں اور برادریوں کے نام پر ہوتے تھے۔ پہلے گاؤں میں صرف ایک ٹیم نام سے جانی جاتی تھی، لیکن بعد میں گاؤں میں دو ٹیمیں ایسی ہوئیں جنہیں محلوں کے بجائے ناموں سے پکارا گیا، اور ان میں سے ایک ہمارے کپتان کی ٹیم تھی جسے لوگ "اشراق کی ٹیم" کہتے تھے۔
سال 2010ء میں وہ وطن واپس آئے اور ٹیم کی میٹنگ میں انہیں نیا کپتان چنا گیا۔ کپتانی سنبھالتے ہی سد شاہ گڑھی کے گراؤنڈ پر ایک بڑا ٹورنامنٹ ہوا۔ فائنل میں روایتی حریف 'جھنڈے گاؤں' (کپتان عدنان) کے سامنے یوسفزئی کلب نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے صرف 57 رنز بنائے۔ مخالف ٹیم اتنی پراعتماد تھی کہ انہوں نے وقت سے پہلے ہی جیت کا جشن منانا شروع کر دیا تھا۔ لیکن اشراق خان نے اپنی جادوئی بولنگ کا جلوہ دکھایا۔ انہوں نے ایک ہی اوور میں ہیٹرک کی اور پھر چوتھی وکٹ لے کر ہارا ہوا میچ جتا دیا اور تاریخ رقم کرتے ہوئے اپنی کپتانی کی پہلی ٹرافی جیتی۔
یہاں میں آپ کو ان کی پوری کپتانی کے 7 سالوں کا ریکارڈ نہیں بتا رہا، کیونکہ ان 7 سالوں میں تو انہوں نے وہ کامیابی حاصل کی ہے کہ اگر لکھنے بیٹھوں تو پوسٹ اتنی لمبی ہو جائے گی کہ آپ سوچ بھی نہیں سکتے۔ میں یہاں آپ کو ان کے صرف 2 سالوں کا وہ ریکارڈ بتا رہا ہوں جو ٹرافیاں انہوں نے صرف اپنے گاؤں پابینی کے میدانوں میں جیتی ہیں۔ وہ ٹرافیاں تو میں گنوا ہی نہیں رہا جو انہوں نے باہر کے گاؤں اور دوسرے گراؤنڈز میں جا کر جیتی ہیں۔
ہمارے گاؤں میں ہونے والے ان ٹورنامنٹس میں درجنوں ٹیمیں حصہ لیتی تھیں، اور یہ تمام مقابلے سخت ترین 'ناک آؤٹ' سسٹم کے تحت کھیلے جاتے تھے۔ ان اعصاب شکن ٹورنامنٹس میں کپتان اشراق خان نے اپنے گاؤں کے گراؤنڈز پر یہ یادگار فائنلز جیتے:
* 18 جون 2015ء (بمقابلہ جانباز الیون فائنل): یہ یادگار فائنل میچ اٹھا بیٹ گراؤنڈ میں جانباز الیون کے خلاف کھیلا گیا، جہاں اشراق خان نے اپنی شاندار کپتانی کی بدولت فائنل ٹرافی جیت کر تاریخ رقم کی۔
* 20 ستمبر 2015ء (بمقابلہ Sublime 11 فائنل): پابینی کے چتیا گراؤنڈ پر کھیلے گئے اس فائنل میچ میں یوسفزئی کلب کا مقابلہ 'Sublime 11' سے تھا۔ اشراق خان نے بہترین کپتانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹیم کو ایک اور شاندار فائنل جتوایا۔
* 30 اکتوبر 2015ء (بمقابلہ ناتار 11 فائنل): اسی چتیا گراؤنڈ پر کھیلے گئے ایک اور سخت فائنل میچ میں حریف 'ناتار الیون' نے 101 رنز کا ایک بڑا اور مشکل ہدف دیا۔ فائنل میچ کے اس شدید دباؤ میں کپتان اشراق خان نے بہترین منصوبہ بندی کی اور اپنی ٹیم سے یہ ہدف حاصل کروا کر چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا۔
* 27 مارچ 2016ء (شیراز سٹیڈیم میں پجمن کے خلاف فائنل): شیراز سٹیڈیم پابینی پر کھیلے گئے اس بڑے اور تاریخی ٹورنامنٹ کے فائنل مقابلے میں یوسفزئی کلب کا مقابلہ پجمن ٹیم سے تھا۔ اس یادگار فائنل میں کامیابی کے بعد کپتان اشراق خان نے یہ شاندار ٹرافی اپنے نام کی۔
* سال 2016ء (بمقابلہ شیخ 11 فائنل): 2016ء میں ایک بار پھر یوسفزئی کلب فائنل میں پہنچی۔ اس بار سامنے روایتی حریف شیخ الیون تھی جس کی قیادت ایک بہترین اور منجھے ہوئے کپتان حامد اقبال کر رہے تھے۔ ان دونوں کپتانوں کا میدان میں اکثر فائنلز میں آمنا سامنا ہوتا تھا اور ان کے درمیان ہمیشہ انتہائی سخت اور کانٹے کا مقابلہ دیکھنے کو ملتا تھا۔ اس یادگار فائنل میں بھی زبردست مقابلے کے بعد اشراق خان نے اپنی بہترین حکمتِ عملی سے فائنل اپنے نام کی۔
ان کی زندگی کا ایک یادگار اور سچا واقعہ:
ان کی کپتانی کا جنون اس واقعے سے بھی صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ایک بار شیخ الیون کے خلاف ایک بڑا فائنل میچ تھا، لیکن فائنل سے کچھ ہی دن پہلے کبڈی کے ایک میچ کے دوران ان کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔ جب فائنل کا دن آیا تو وہ ٹیم کو تنہا چھوڑنے کے بجائے شدید تکلیف میں لنگڑاتے ہوئے گراؤنڈ میں آ کھڑے ہوئے۔ ان کا یہ حوصلہ دیکھ کر پوری ٹیم کا جوش بڑھ گیا اور انہوں نے اسی حالت میں وہ تاریخی فائنل جیت کر ثابت کیا کہ وہ واقعی ایک کمال کے اور نڈر لیڈر ہیں!
اشراق خان نے گاؤں کے کونے کونے سے بہترین ٹیلنٹ ڈھونڈ کر اکٹھا کیا۔ انہوں نے ان جونیئرز کو پورا موقع دیا جن میں ٹیلنٹ تو تھا پر راستہ نہیں مل رہا تھا۔ اسی حکمتِ عملی سے یوسفزئی کلب کی ٹیم اتنی مضبوط ہوئی کہ اسے ہرانا ناممکن ہو گیا۔ اگر کپتانی کا جنون سیکھنا ہے، تو اس بندے سے سیکھیں۔
سچی بات تو یہ ہے کہ آپ صرف اپنے گاؤں یا کسی ایک علاقے کے سلطان یا ٹرافی کنگ نہیں ہو، بلکہ وادی کنڈاو صوابی (WKS) سمیت آپ تو پورے ضلعے کے اصل "ٹرافی کنگ" ہو!
تحریر: شفقت علی
کیا آپ ہمارے گاؤں پابینی (ضلع صوابی) کے کرکٹ کپتان "اشراق خان" کی وہ داستانِ کپتانی سننے کے لیے تیار ہیں جس نے آس پاس کے بڑے بڑے علاقوں کی کرکٹ ٹیموں کی نیندیں حرام کر دی تھیں؟ 🏏🔥
اگر آپ کو کپتانی کا شوق ہے، تو آپ کو ایک ایسے کپتان کی کہانی ضرور سننی چاہیے جو صرف ٹرافی اٹھانے کا شوقین نہیں، بلکہ میدان میں اتر کر ہر حال میں میچ جیتنے کا جنون رکھتا تھا! ایک ایسا نڈر لیڈر جس کی حکمتِ عملی کے چرچے پورے صوابی میں ہیں۔
👑👑پوری کہانی اور سنسنی خیز قصے بہت جلد آرہے ہیں... تب تک کے لیے حریف ٹیمیں اپنی خیر منائیں! 💯😉
#پابینی
28/08/2026
ہر گاؤں میں ایک ایسا کھلاڑی ضرور ہوتا ہے جسے لوگ دل سے پسند کرتے ہیں اور جس کا کھیل دیکھنے سب میدان کا رخ کرتے ہیں۔ خوش قسمتی سے ہمارے پابینی گاؤں (ضلع صوابی) کے پاس بھی ایک ایسا ہی شاندار، سینیئر اور مخلص کھلاڑی موجود ہے، جس کا نام ہے حامد اقبال! 🌟🏏
حامد بھائی کی کہانی ہماری تاریخی ٹیم "شیخ الیون" کے ساتھ کرکٹ کے ہر دیوانے کے لیے ایک مثال ہے۔ سال 2001 میں انہوں نے پہلی بار شیخ الیون جوائن کی۔ شروع میں حامد بھائی ٹیم میں بطور باؤلر شامل ہوئے تھے اور باؤلنگ کر رہے تھے، جس کی وجہ سے انہیں آگے بیٹنگ کرنے کا زیادہ موقع نہیں ملتا تھا۔
لیکن کہتے ہیں نا کہ "صلاحیت کو زیادہ دیر چھپایا نہیں جا سکتا"۔ ایک اہم میچ میں جب شیخ الیون کی ٹیم شدید مشکلات کا شکار ہوئی اور سینیئر کھلاڑی جلدی آؤٹ ہو گئے، تو حامد بھائی کو بیٹنگ کا موقع ملا۔ انہوں نے اس مشکل وقت میں دباؤ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایسی شاندار اور بہترین بیٹنگ کی کہ ہارا ہوا میچ جتا دیا! بس اسی یادگار اننگز کے بعد انہوں نے شیخ الیون میں بطور اوپنر اپنی مستقل اور پکی جگہ بنا لی۔
حامد بھائی نے اپنے شاندار کیریئر میں بہترین بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے کئی یادگار سنچریاں اور بے شمار ففٹیاں اسکور کی ہیں! وہ صرف عام ٹیپ بال کے ہی نہیں، بلکہ سخت گولا کرکٹ کے بھی بہترین کھلاڑی رہے ہیں اور اس پر بھی ہمیشہ شاندار کھیل پیش کرتے رہے ہیں۔
کہانی کا اگلا اور سب سے جذباتی موڑ سال 2013 میں آیا۔ اس وقت تک شیخ الیون کی باگ ڈور ایک انتہائی مخلص، نڈر اور سب کے چہیتے انسان، شیراز شہید کے ہاتھوں میں تھی۔ (اللہ تعالیٰ شیراز شہید کے درجات بلند فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے, آمین۔) 💔🕊️
شیراز شہید کے بعد، ٹیم کو ایک ایسے مضبوط قائد کی ضرورت تھی جو سب کو متحد رکھ سکے۔ تب سال 2013 میں یہ بھاری ذمہ داری حامد اقبال کے کندھوں پر آئی اور وہ شیخ الیون کے کپتان بنے۔ کپتان بنتے ہی 8 جولائی 2013 کو ان کی بہترین قیادت کی بدولت ٹیم نے ایک شاندار ٹورنامنٹ کا فائنل جیتا اور حامد بھائی نے بطور کپتان ٹرافی اپنے ہاتھوں میں اٹھائی۔
سال 2019 میں حامد اقبال بھائی نے اپنی کپتانی میں ایک اور تاریخی کارنامہ سرانجام دیا۔ ہمارے گاؤں کے خوبصورت میدان، جسے شیراز کی شہادت کے بعد سب لوگوں نے پیار اور عقیدت میں شیراز سٹیڈیم کا نام دیا، وہاں ایک بڑا ٹورنامنٹ سجایا گیا۔ 10 فروری 2019 کو اس ہوم گراؤنڈ پر کھیلے گئے فائنل مقابلے میں شیخ کرکٹ کلب پابینی کا سامنا لوانگین کرکٹ کلب جھنڈا سے تھا۔ حامد بھائی نے کمال کی کپتانی کی، بہترین حکمتِ عمل سے ٹیم کو گراؤنڈ میں لڑایا اور لوانگین کرکٹ کلب کو شکست دے کر اپنے لوگوں کے سامنے شان سے فائنل ٹرافی اپنے نام کی!
اسی سال 20 اگست 2019 کو "دالوڑی کرکٹ ٹورنامنٹ" کے ایک انتہائی اہم میچ میں جب ٹیم شدید دباؤ میں آ گئی، تو حامد اقبال اکیلے میدان میں ڈٹ گئے اور 108 رنز کی ناٹ آؤٹ طوفانی اننگز کھیل کر وہ بڑا میچ جتا دیا۔ اس کے بعد 18 اگست 2021 کو چتیا گراؤنڈ پابینی پر کھیلے گئے "بمبار ناک آؤٹ کرکٹ ٹورنامنٹ" میں انہوں نے عباس ڈاگئی کی ٹیم کے خلاف صرف ایک میچ میں 104 رنز کی ایک اور ناقابلِ شکست اننگز کھیل کر اپنی کلاس ثابت کی!
حامد اقبال بھائی نے سال 2022 تک شیخ الیون کی باگ ڈور سنبھالی، اور ایسی لاجواب کپتانی کی کہ پورے پابینی گاؤں کا بچہ بچہ ان کی قیادت کا رہتی دنیا تک معترف رہے گا۔ آج کل کے نئے لڑکوں کو شاید اندازہ بھی نہیں کہ حامد اقبال کتنے عظیم اور نامور کھلاڑیوں کے کپتان رہ چکے ہیں! آج بھی وہ اپنی ٹیم کے سب سے سینیئر اور معزز لیڈر ہیں۔ جب بھی ٹیم میں کوئی بڑا مسئلہ یا مشکل وقت آتا ہے، تو سب سے پہلے حامد بھائی کو آگے رکھا جاتا ہے اور وہ اپنے تجربے سے چٹکیوں میں ٹیم کا مسئلہ حل کر دیتے ہیں۔ بلا شبہ شیخ الیون کی تاریخ کے سب سے بہترین کپتان حامد اقبال بھائی ہیں! ہمیں ہمیشہ اپنے ایسے سینیئرز کی دل سے عزت کرنی چاہیے جنہوں نے اپنا خون پسینہ دے کر ہمارے گراؤنڈز کو آباد رکھا۔ حامد بھائی، آپ ہمارا فخر ہیں! 👑❤️
آپ کے گاؤں کا سب سے بہترین اور پسندیدہ کھلاڑی کون ہے؟ کمنٹس میں ضرور بتائیں! 👇🏏
لکھاری اور مخلص دوست:
شفقت علی✍️
تحصیل صوابی یوتھ ونگ کے صدر محمد یاسین خان کی طرف سے ویلج کونسل پابینی کے نو منتخب صدر ارشد خان اور تمام عہدیداران کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد! 🎉🤝✨
24/08/2026
JUNIOR SUPER SIX TOURNAMENT
صرف جونیئر حصہ لے سکتے ہیں
ٹورنامنٹ سنگل ناک آؤٹ سسٹم پر کھیلا جائے گا۔
ہر ٹیم میں 8 کھلاڑی کھیلیں گے۔
امپائر کا فیصلہ حتمی ہوگا۔
اگر کوئی ٹیم کسی کھلاڑی پر اعتراض کرے گا تو وہ کھلاڑی کھیل سے باہر بٹھا دیا جائے گا۔
انٹری فیس پہلے میچ سے قبل جمع کروانا لازمی ہوگا۔
انٹری فیس 1500 روپے ہوگی۔انٹری فیس میں کسی بھی ٹیم کے ساتھ رعایت نہیں کی جائے گی۔
بال ٹیم کی اپنی ہوگی، جبکہ ٹیپ کمیٹی کی جانب سے فراہم کی جائے گی۔وقت کی پابندی لازمی ہوگی۔
Last Date: 26/08/2026
منجانب ORGANIZERS
:QAMAR SHER, ALTAF BACHA
VENUE:
PEARL CITY PABAINI
CONTACT NUMBER:
0343 1961914
0345 5097467
ده یار باش کرکٹ ٹورنامنٹ پروګرام
🏆 یارباش ٹورنامنٹ: فائنل میچ کا سنسنی خیز اختتام!
💔🏆
اپر گدون فائنل ہار گئی، وقاص ملک آباد چیمپیئن بن گئی!
💔یارباش ٹورنامنٹ کا فائنل میچ! 🏏 فائنل کے اس بڑے معرکے میں اپر گدون کی ٹیم نے آخری دم تک شاندار مقابلہ کیا، لیکن بدقسمتی سے وہ فائنل کا معرکہ اپنے نام نہ کر سکی اور رنر اپ رہی۔ 😢
شاندار کھیل پیش کرنے اور ٹرافی جیتنے پر وقاص ملک آباد کی ٹیم کو بہت بہت مبارکباد! 👏🎉 دونوں ٹیموں نے گراؤنڈ میں بہترین کرکٹ کا مظاہرہ کیا۔فائنل میچ کے سنسنی خیز لمحات کی یہ ویڈیو لازمی دیکھیں! 🎬👇
e
Category
Website
Address
Panjpir