Nwho

Nwho

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Nwho, Okara.

اسلام علکیم .ہم آپ کو اپنے اس پیج پر خوش آمدید کہتے ہیں دنیا میں خیر اور شر ہمیشہ سے ساتھ ساتھ چلتا رہا ہے ہماری کوشش ہے کہ معاشرے کی برائیوں کو اس لیے اجاگر کیا جائے تاکہ اس کی اصلاح ہو سکے تنقید کا مقصد صرف اور صرف اصلاح ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں۔ملک نوید

28/09/2026

پاکستان مسلم لیگ ن، پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان تحریک انصاف اور جمعیت علماء اسلام پاکستان کے نام نمایاں کیے گئے ہیں۔ ہر جماعت کے ساتھ ایک مختلف ردِعمل کی علامت موجود ہے، جو دراصل سوشل میڈیا پر پائی جانے والی مختلف آراء، پسند، ناپسند، سوچ اور حیرت کی نمائندگی کرتی ہے۔

تاہم سیاسی معاملات میں کسی ایک تصویر یا سوشل میڈیا پوسٹ کو عوامی اکثریت کی حتمی رائے قرار دینا درست نہیں۔ حقیقی عوامی رائے جاننے کے لیے مستند سروے، انتخابات کے نتائج اور قابلِ اعتماد تحقیقی اعداد و شمار زیادہ اہم ہوتے ہیں۔

پاکستان کی سیاست میں اختلافِ رائے جمہوری معاشرے کا ایک اہم حصہ ہے۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے حامیوں کی اپنی اپنی ترجیحات اور سیاسی وابستگیاں ہیں، اس لیے سیاسی گفتگو میں اختلاف کے باوجود احترام، برداشت اور حقائق کی بنیاد پر گفتگو ضروری ہے۔

NWHO — News & Views

28/09/2026

صدقہ ہر بلا کو ٹال دیتا ہے 🤣🤣🤣🤣🤣🤣🤣🤣
اس بندے کے لیے کوئی ایک جملہ جو فوراً آپ کے ذہن میں آیا ہو کمینٹ لازمی کریں

28/09/2026

فخرِ اوکاڑہ ذوالفقار بابر — محنت، انتظار اور پاکستان تک پہنچنے کی داستان

پاکستان کرکٹ میں کئی ایسے کھلاڑی گزرے ہیں جنہوں نے محدود وسائل، طویل انتظار اور سخت مقابلے کے باوجود اپنی مسلسل محنت سے قومی ٹیم تک رسائی حاصل کی۔ ذوالفقار بابر بھی انہی باہمت کرکٹرز میں شمار ہوتے ہیں، جنہوں نے اوکاڑہ سے اپنا سفر شروع کیا اور بالآخر پاکستان کی ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی20 انٹرنیشنل ٹیموں کی نمائندگی کی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق ذوالفقار بابر 10 دسمبر 1978 کو اوکاڑہ، پنجاب میں پیدا ہوئے۔ وہ بائیں ہاتھ کے آرتھوڈوکس اسپنر اور دائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والے کھلاڑی تھے۔

اوکاڑہ سے فرسٹ کلاس کرکٹ تک

ذوالفقار بابر کا فرسٹ کلاس ڈیبیو 2001-02 میں ہوا۔ قومی سطح پر پہچان بنانے کے لیے انہیں طویل عرصے تک ڈومیسٹک کرکٹ میں اپنی صلاحیت ثابت کرنا پڑی۔

ان کے کیریئر کی خاص بات یہ رہی کہ انہوں نے مسلسل وکٹیں حاصل کرکے سلیکٹرز کی توجہ حاصل کی۔ 2009-10 کے قائداعظم ٹرافی سیزن میں انہوں نے 69 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ 2012-13 کے فرسٹ کلاس سیزن میں ان کی کارکردگی مزید شاندار رہی اور انہوں نے 13 میچوں میں 93 وکٹیں حاصل کیں۔

یہ اعدادوشمار اس بات کی واضح مثال ہیں کہ قومی ٹیم تک پہنچنے سے پہلے ذوالفقار بابر نے ڈومیسٹک کرکٹ میں اپنی جگہ کس طرح بنائی۔

2013 میں پاکستان کی ٹیسٹ کیپ

طویل انتظار کے بعد ذوالفقار بابر کو 2013 میں پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم میں موقع ملا۔ ان کا ٹیسٹ ڈیبیو 14 اکتوبر 2013 کو ابوظہبی میں جنوبی افریقہ کے خلاف ہوا۔ اس وقت تک وہ فرسٹ کلاس کرکٹ میں سینکڑوں وکٹیں حاصل کرچکے تھے۔

انہوں نے پاکستان کی جانب سے مجموعی طور پر 15 ٹیسٹ میچز کھیلے اور 54 وکٹیں حاصل کیں۔ ٹیسٹ کرکٹ میں ان کی بہترین انفرادی کارکردگی ایک اننگز میں 5 وکٹیں دے کر 74 رنز رہی۔

آسٹریلیا کے خلاف یادگار کردار

ذوالفقار بابر کے کیریئر کا ایک نمایاں باب 2014 میں آسٹریلیا کے خلاف متحدہ عرب امارات میں کھیلی گئی ٹیسٹ سیریز تھی۔ پاکستان کی اسپن جوڑی ذوالفقار بابر اور یاسر شاہ نے آسٹریلوی بیٹنگ لائن اپ کے خلاف اہم کردار ادا کیا، اور پاکستان نے دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں آسٹریلیا کو شکست دی۔

یہ سیریز پاکستان کرکٹ کی ان یادگار فتوحات میں شمار ہوتی ہے جس میں اسپن باؤلنگ نے مرکزی کردار ادا کیا۔

ٹی20 انٹرنیشنل میں بھی کامیابی

ذوالفقار بابر نے صرف ٹیسٹ کرکٹ تک خود کو محدود نہیں رکھا۔ انہوں نے پاکستان کے لیے 7 ٹی20 انٹرنیشنل میچز کھیلے اور 12 وکٹیں حاصل کیں۔ ان کی بہترین ٹی20 انٹرنیشنل باؤلنگ 3 وکٹیں 23 رنز کے عوض رہی۔

ان کا ٹی20 انٹرنیشنل ڈیبیو 27 جولائی 2013 کو ویسٹ انڈیز کے خلاف کنگز ٹاؤن میں ہوا تھا۔

ون ڈے کرکٹ

ذوالفقار بابر نے پاکستان کی جانب سے 5 ون ڈے انٹرنیشنل میچز بھی کھیلے اور 4 وکٹیں حاصل کیں۔ ان کا ون ڈے ڈیبیو 7 اکتوبر 2014 کو آسٹریلیا کے خلاف شارجہ میں ہوا۔

اصل پہچان: ڈومیسٹک کرکٹ کا مسلسل سفر

ذوالفقار بابر کی کہانی کا سب سے اہم پہلو شاید ان کا طویل ڈومیسٹک کیریئر ہے۔ انہوں نے برسوں تک فرسٹ کلاس کرکٹ میں اپنی کارکردگی کے ذریعے خود کو قومی ٹیم کے لیے امیدوار بنائے رکھا۔

ان کے فرسٹ کلاس کیریئر میں 476 وکٹیں درج ہیں، جبکہ لسٹ اے کرکٹ میں بھی انہوں نے 114 وکٹیں حاصل کیں۔

یہ اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ قومی ٹیم میں جگہ بنانا ان کے لیے ایک مختصر سفر نہیں بلکہ کئی سال کی مسلسل محنت کا نتیجہ تھا۔

اوکاڑہ کے لیے اعزاز

ذوالفقار بابر کی کامیابی اوکاڑہ کے حوالے سے بھی خاص اہمیت رکھتی ہے۔ ان کی پروفائل میں اوکاڑہ کو ان کے آبائی شہر کے طور پر درج کیا گیا ہے اور انہیں اوکاڑہ سے پاکستان کی نمائندگی کرنے والے نمایاں کرکٹرز میں شمار کیا جاتا ہے۔

آج بھی ان کا سفر نوجوان کرکٹرز کے لیے ایک مثال ہے کہ قومی ٹیم تک پہنچنے کے لیے صرف شہرت نہیں بلکہ مسلسل کارکردگی، صبر اور طویل جدوجہد بھی ضروری ہے۔

ذوالفقار بابر کا سفر ایک سبق

اوکاڑہ کی سرزمین سے پاکستان کی قومی ٹیم تک پہنچنے والے ذوالفقار بابر کی داستان ہمیں یہ بتاتی ہے کہ بعض اوقات منزل دیر سے ملتی ہے، لیکن مسلسل محنت انسان کو منزل تک پہنچا سکتی ہے

28/09/2026
28/09/2026

نہ زمین پھٹی نہ اسماں گرا دل دہلا دینے والا تشویش ناک واقعہ پیش اتا ہے سیالکوٹ کے نشاد پارک کے اندر جہاں پر قبرستان کی انتظامیہ خود ہی قبرستان میں قبروں پر ٹریکٹر چلاتی ہیں اور مٹی کی ٹرالیاں ڈھال کر قبرستان کا نقشہ ہی بدل دیا جاتا ہے اس وجہ سے اہل علاقہ جو ہیں وہ سراپہ احتجاج ہیں اور انتظامیہ سے مطالبہ کر رہے ہیں اس واقعے کا نوٹس لیا جائے حقائق کو سامنے لایا جائے اور قبرستان کو اپنی حقیقی حالت کے اندر دوبارہ بحال کیا جائے

28/09/2026

تاریخ: بروز بدھ، 30 ستمبر 2026
مرکزی پیغام: پنجاب بھر میں نجی کلینکس و ہسپتال بند رہیں گے۔
احتجاج کی وجہ: FBR (ایف بی آر) کی پالیسیوں سے متعلق تحفظات پر ڈاکٹرز کا پرامن احتجاج۔ ا
ڈاکٹرز کے لیے منصفانہ ٹیکس پالیسی (Fair Tax Policy for Doctors)
ایف بی آر کی غیر منصفانہ پالیسیاں ختم کی جائیں (Stop Unjust FBR Policies)
صحت کے شعبے اور پاکستان کا تحفظ کریں (Protect Healthcare, Protect Pakistan)
منجانب: پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (PMA) پنجاب اور پی ایم اے ڈسٹرکٹ اوکاڑہ

Photos from Nwho's post 27/09/2026

لاہور: ہوٹل پر کارروائی کے دوران سب انسپکٹر گرفتار، واقعے کی اصل حقیقت کیا ہے؟

لاہور میں ریس کورس پولیس کی جانب سے ایک ہوٹل میں کارروائی کے دوران پنجاب پولیس کے سب انسپکٹر محمد اسلم کو ایک خاتون کے ہمراہ مبینہ طور پر قابلِ اعتراض حالت میں پائے جانے کے بعد گرفتار کیے جانے کی خبر سامنے آئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق ریس کورس پولیس کی ٹیم ایک اشتہاری ملزم عمر کی گرفتاری کے لیے ہوٹل پہنچی تھی۔ پولیس کا مؤقف ہے کہ ٹیم کو دیکھتے ہی ہوٹل کے منیجر نے مبینہ طور پر مذکورہ اشتہاری ملزم کو فرار کرا دیا۔ اس کے بعد پولیس نے ہوٹل کے مختلف کمروں کی چیکنگ شروع کی۔

چیکنگ کے دوران ایک کمرے سے سب انسپکٹر محمد اسلم اور ایک خاتون کو مبینہ طور پر قابلِ اعتراض حالت میں پایا گیا، جس کے بعد پولیس نے سب انسپکٹر کو حراست میں لے لیا اور واقعے کے حوالے سے قانونی کارروائی شروع کی۔ بعض رپورٹس کے مطابق محمد اسلم پنجاب پولیس میں تعینات ہیں اور اس وقت آپریشن ونگ، تھانہ مزنگ میں فرائض انجام دے رہے تھے۔

رپورٹ ہونے والے واقعے میں ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ کارروائی کی سربراہی خاتون سب انسپکٹر رابعہ اعجاز نے کی تھی۔ دستیاب رپورٹنگ کے مطابق وہ ریس کورس ویمن پولیس سے وابستہ ہیں۔ تاہم خبر میں یہ کہنا کہ رابعہ اعجاز نے محمد اسلم کو کسی “دوسرے شخص کی بیوی” کے ساتھ رنگے ہاتھوں پکڑا، موجودہ معتبر رپورٹس سے ثابت نہیں ہوتا۔

دوسری جانب ہوٹل منیجر کے خلاف بھی کارروائی کی گئی۔ پولیس کے مطابق اس پر اشتہاری ملزم کو پناہ دینے اور اسے فرار کرانے میں مبینہ مدد کرنے کا الزام ہے۔

پولیس حکام کی جانب سے کہا گیا ہے کہ سب انسپکٹر کے خلاف قانونی کارروائی کے ساتھ محکمانہ کارروائی بھی کی جا رہی ہے۔ The News کے مطابق محکمانہ کارروائی پولیس رولز کے سیکشن 155-C کے تحت شروع کیے جانے کا ذکر کیا گیا ہے۔

اہم وضاحت

سوشل میڈیا پر اس واقعے کو بعض جگہ انتہائی سنسنی خیز انداز میں پیش کیا جا رہا ہے، لیکن دستیاب معتبر رپورٹنگ میں خاتون کی ازدواجی حیثیت یا یہ دعویٰ کہ وہ “کسی اور کی بیوی” تھیں، ثابت نہیں ہوتا۔ اس لیے ذمہ دارانہ صحافت کے تقاضے کے تحت اسے غیر مصدقہ دعویٰ ہی سمجھا جانا چاہیے۔

NWHO فیکٹ چیک: واقعے میں سب انسپکٹر محمد اسلم کی ہوٹل سے گرفتاری اور خاتون کے ساتھ موجود ہونے کی پولیس کارروائی متعدد رپورٹس میں بیان ہوئی ہے، جبکہ خاتون کو کسی دوسرے شخص کی بیوی قرار دینے والی تفصیل کی آزادانہ تصدیق نہیں ملتی۔اگر آپ چاہیں تو میں اسی مستند معلومات پر بھی بنا سکتا ہوں۔

27/09/2026

Telephone

Website

Address

Okara