Ruqia Memorial Hospital

Ruqia Memorial Hospital

Share

Hospital and patient Care institute.

19/09/2026

جی انشاءاللہ اج 20 ستمبر بروز اتوار ڈاکٹر قربان صاحب اپنے کلینک پر صبح سات بجے سے لے کر ایک بجے تک موجود ہوں گے اپوائنٹمنٹ کے لیے رابطہ کر سکتے ہیں
0301 8511133
0300 8392926

19/09/2026

نشتر ہسپتال ملتان میں PET-CT Scan کی فراہمی ایک بہت ہی شاندار اور خوش آئند اقدام ہے۔ یہ ٹیسٹ کینسر کی تشخیص، سٹیج، اور مونیٹرنگ کے لیے کیا جاتا ہے۔

16/09/2026

Many congratulations Digital Multan 🥰🥰🥰🥰

الحمدللہ Digital Multan پیج کی #ارننگ سٹاف ہو چکی ہے۔۔۔۔ ❤️❤️❤️❤️

Photos from Ch. Burhan Wahla's post 11/09/2026
07/09/2026

Treat your patients Happily ❣️❣️
جب مریض خود خوشی سے کرسی پر بیٹھ کر ڈرپ لگوانے

Photos from Ruqia Memorial Hospital 's post 05/09/2026

رقیہ میموریل کلینک پر دو سال قبل ہڈی جوڑ کے وارڈ نمبر 21 نشتر ہسپتال کے تمام ڈاکٹروں نے وزٹ کیا

04/09/2026

رقیہ میموریل کلینک گوہر والا ملتان*🏥
*کلینک 24 گھنٹے کھلا ھے

آج بروز جمعہ ڈاکٹر قربان واہلہ کلینک پر دوپہر 02:00 بجے سے رات 08:00 بجے تک موجود ہوں گے

04/09/2026

رقیہ میموریل کلینک گوہر والا ملتان🏥
*کلینک 24 گھنٹے کھلا ھے

آج بروز جمعہ ڈاکٹر قربان واہلہ کلینک پر دوپہر 02:00 بجے سے رات 08:00 بجے تک موجود ہوں گے

*رابطہ نمبر 03018511133

03/09/2026

Ruqia Memorial Hospital
کلینک 24 گھنٹے کھلا ھے

آج ڈاکٹر قربان شام 04:00 بجے سے رات 09:00 بجے تک موجود ہوں گے

رابطہ نمبر 0301851113

01/09/2026

فیس بک میموری سے
جسے کوپ کہتے تھے ۔ لکھا ہوتا تھا. "چائے ملیریے کو ہٹاتی ہے۔ چائے پینے سے ملیریا نہیں ہوتا"
اس طرح کا بورڈ لکھا ہوتا تھا: "دو پیسے کی ایک پیالی" اوپر پیسے بنے ہوتے تھے۔
جنگ کے دنوں میں کھانڈ کا راشن ہو گیا۔ پھر انہوں نے اس میں شکر ڈالنی شروع کر دی۔ شکر والی پیالی دو پیسے کی کھانڈ والی پیالی ایک آنے کی۔ پھر یہ سلوگن لکھا ہوتا تھا: "گرمیوں میں گرم چائے ٹھنڈک پہنچاتی ہے۔ ملیریے کو دور
کرتی ہے"۔
لپٹن چائے عام چلتی تھی۔ ٹی سٹال بنے ہوتے تھے۔ ٹی سٹال تو اب بھی ہیں لیکن وہ گندے بہت ہیں۔ اس وقت بڑے صاف ستھرے ہوتے تھے ۔ آپ نے چائے پی، اس نے اس وقت پیالی دھو کے رکھ دینی۔ ہم نے ریلوے کے ریفرشنگ روم میں جا کے روٹی کھانی، چائے پینی۔ بڑا صاف ستھرا اور معیاری تھا۔ جس نے بیئر پینی وہ بیئر کا آرڈر دے دینا۔ اعلیٰ قسم کی روٹی ملتی تھی ریلوے سٹیشن پر۔ ریل گاڑی میں جو ڈائننگ کار ہوتی تھی اس کی روٹی بڑی اچھی ہوتی تھی۔ ہیرے سے کہنا ، فلاں سٹیشن پر مجھے کھانا پہنچا دینا۔ وہاں اس نے پہنچا دینا ۔ بسترا نہیں تو اسے کہہ دینا کہ مجھے سہارن پور تک بسترا چاہئے۔ بستر بچھا بچھایا مل جانا ۔ ریزرویشن کے ساتھ انہوں نے اس کے پیسے لے لئے ہوتے تھے۔ صاف ستھری چادر تکیہ۔ پھر سہارن پور آ کے اس نے بستر لپیٹ کے لے جانا۔ جب آپ نے ریزرویشن کرائی، آپ نے سوچا کون بسترا اٹھاتا پھرے۔ دو دن تو میں نے رہنا ہے۔ ہم نے پنڈی تک جانا تو پنڈی تک بسترا لے لینا۔ سیکنڈ کلاس فسٹ کلاس میں ہوتے تھے بڑے خوبصورت بسترے۔

سب سے پہلے بناسپتی شروع ہوا ہے ڈالڈا ۔ لیور برادرز کا۔ ڈالڈا انٹروڈیوس اس طرح ہوا ہے،کہ اس میں پکوڑے تل کے کھلاتے تھے ، مفت۔ انہوں نے مفت پکوڑے کھلا کھلا کے انٹروڈیوس کیا۔ پھر آہستہ آہستہ لوگوں میں رواج ہونے لگا تو لوگ چھپا کے لاتے تھے، کوئی دیکھ نہ لے۔ کاغذ، یا لفافے یا کپڑے میں لپیٹ کے گھر لانا ۔ لوگوں نے کہنا ، اس سے کھانسی لگ جاتی ہے ، تپ دق ہو جاتی ہے۔

دیسی گھی پندرہ آنے سیر ہوتا تھا۔ میں نے پنڈ چاچے کو خط ڈال دینا، وہاں جا کے میں نے 18 روپے کا کنستر لے آنا۔ یہ زمانہ ہے 1930ء 32۔۔۔ 33۔۔۔ 34 ، کا۔ ہم تو پیچھے سے ہوشیار پور کے ہیں، جب کالونائزیشن ہوئی ہے 06-1805ء میں، دادا نے مربعے خریدے تھے سمندری میں ۔ ہمارا بھی حصہ تھا، چاچے ہھی وہاں رہتے تھے۔ میں نے انہیں لکھنا، چاچا گھی جمع کریں۔ میں جاکے لے آتا تھا۔ پھر تاندلیانوالی منڈی بڑی مشہور ہوتی تھی گھی میں۔ سارا گھی وہاں سے آتا تھا۔ وہ گھر گھر جاکے خود ہی پیپے اٹھا کے لاتے تھے، ریڑے پر لاد کے لے آتے۔ بعض اوقات انہوں نے ایسا کرنا، ملاوٹ تو اس میں ہوتی نہیں تھی، دیکھا سیر کم ہو گیا ہے، اتنی انہوں نے لسی ڈال دینی تا کہ خوشبو آتی رہے۔ بہت ملاوٹ کرنی تو
ابلے ہوئے آلو کوٹ کر ڈال دینے۔۔۔۔

مسجد کی دکان تھی۔ کرایے پر اس نے لی ہوئی تھی۔ لالہ مٹی کے تیل کی بوتل دو آنے میں دیتا تھایا ڈھائی آنے میں۔ شام کو پھر چمنیاں صاف کرنی۔ ایک دیوار گیر ہوتی تھی ، ایک لالٹین ہوتی تھی۔ پڑھنے کے لئے ہانڈی والا لیمپ ہوتا تھا، لمبی سے چمنی ۔ وہ جلا لیتے تھے۔ اس پر سارا کاروبار کرنا۔ جس نے دوسرے کمرے میں جانا یا باہر دروازے پر جانا ، لالٹین پکڑی اور ادھر چلے گئے۔ لاہور میں بجلی آئی ہے 1921-22ء میں ۔ سب سے پہلے آئی ہے ریلوے سٹیشن پر ۔ لوگوں نے شیئرز ڈال کے لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی بنائی تھی Privately Owned ( نجی ملکیت میں ) ۔ سب سے پہلے لاہور ریلوے سٹیشن پر، اس کے بعد مال روڈ پر آئی۔ اگنی ہوتری ٹیلرز تھا ٹولنٹن مارکیٹ میں، دکانوں میں سب سے پہلے اس نے لگوائی تھی۔ پروپیگنڈا تھا ، شاٹ لگے گی ، بندہ مرجائے گا، نہ لگواؤ۔ یہ بجلی شیطانی چرخہ ہے۔ اگنی ہوتری کی پتہ نہیں مرکھپ گیا ہوگا یا اس کے ساتھ کیا ہوا ہوگا ، اسی جگہ سراج ٹیلرز آیا۔

یہاں لاہور میں نلکے ہوتے تھے ۔ اس طرح کے نہیں جس طرح کے آجکل ہوتے ہیں سڑکوں پر وہ شیر مونہے ہوتے تھے ۔ اتنا چوڑا نلکا ہوتا تھا۔ آگے شیر کا منہ لگا ہوا۔ اس میں سے پانی نکلتا تھا، اتنی موٹی دھار۔ لوگوں کے گھروں میں ہینڈ پمپ ٹانویں ٹانویں ہوتے تھے۔ پھر کمیٹی کے بھی نلکے آگئے ۔ ٹائم پر پانی آجاتا تھا۔ شیر مونہے نلکے، نیچے گھڑا رکھا، بھرا، سر پر رکھا اور چلتے بنے۔ اسے سرکاری نلکا کہتے تھے۔ اوپر
کھوپڑی شیر کی مانند ہوتی تھی۔ عرصہ ہوا ایک انار کلی میں ہوتا تھا۔

اب وہ لاہور کہاں
ایف ای چوہدری سے انٹرویو
منیر احمد منیر

Category

Website

Address

Ruqia Memorial Hospital (Gohar Wala , Bootywala , Link Road 19 Kassi Basti Sahu Multan)
Multan
60000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ruqia Memorial Hospital posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Subscribe

We will notify you when anything happens in Multan.