saya brand

saya brand

Share

اعتبار بہت قیمتی شے ہے

13/06/2026

زندگی وہی جیتے ہیں
جو 45ڈگری پے بھی چاۓ پیتے ہیں 🥀🖤
Tea ☕ lovers follow krn

31/05/2026

وہ اپنی بچپن کی منکوحہ کو اغوا کر کے لایا تھا پر وہ اسے سستا اغواکار سمجھ رہی تھی 🤭

رات کے دو بج رہے تھے جب کالی کلف لگی شلوار قمیض پر کاندھے پر شال ڈالے، زین شاہ نے سگار کا آخری کش لیا۔ اس کی گہری، پُرکشش آنکھوں میں ایک عجیب سا سسپنس اور طوفان چھپا تھا۔ چہرے پر ہلکی سی داڑھی اور متکبرانہ مسکراہٹ اس کی پرسرار شخصیت کو مزید نکھار رہی تھی۔

"چوہدری صاحب! گاڑی تیار ہے، اور کام ہو گیا ہے،" اس کے خاص آدمی نے آ کر سرگوشی کی۔

زین کے لبوں پر ایک گہری، شرارتی مسکراہٹ ابھری۔ "بہت اچھے! چلو، دیکھتے ہیں ہماری 'تیز چھری' کتنی تیز چلتی ہے!"

دوسری طرف، شہر کے ایک سنسان روڈ پر، زارا اپنی فرینڈ کی برتھ ڈے پارٹی سے لوٹ رہی تھی کہ اچانک اس کی ٹیکسی کے سامنے دو کالی گاڑیاں آ کر رکیں۔ زارا کی تیز زبان اور نڈر طبیعت پورے خاندان میں مشہور تھی، لیکن اس وقت سڑک پر سناٹا دیکھ کر اس کا دل بھی گبھرایا۔

اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھتی، تین نقاب پوشوں نے ٹیکسی کا دروازہ کھولا اور زارا کے منہ پر کلوروفارم کا رومال رکھ دیا۔ زارا نے ہاتھ پاؤں مارے، اپنی تیز زبان سے دو چار گالیاں بھی دیں، لیکن چند سیکنڈ میں اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔

---

**ہوش آمد اور پہلا دھماکہ**

جب زارا کو ہوش آیا، تو وہ ایک بہت ہی خوبصورت، عالیشان اور پرانے طرز کے کمرے میں بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی۔ کمرے میں مدہم سی لائٹس جل رہی تھیں۔ زارا نے فوراً اپنا جائزہ لیا، وہ بالکل ٹھیک تھی، لیکن یہ جگہ اس کے لیے بالکل اجنبی تھی۔

"اوئے! کوئی ہے؟ کس مائی کے لال کی ہمت ہوئی مجھے اٹھانے کی؟ باہر نکلو ورنہ میں اس خوبصورت کمرے کا کباڑ خانہ بنا دوں گی!" زارا نے بیڈ سے اتر کر زور سے چلایا۔ اس کی زبان ہوش آتے ہی قینچی کی طرح چلنے لگی تھی۔

"او ہو ہو! آرام سے لیڈی ڈان… اتنی خوبصورت زبان سے اتنے کڑوے الفاظ اچھے نہیں لگتے،" کمرے کے اندھیرے کونے سے ایک بھاری، مگر حد درجہ شرارتی اور دلکش آواز گونجی۔

زارا نے پلٹ کر دیکھا۔ زین شاہ اندھیرے سے نکل کر لائٹ کے نیچے آیا۔ اس کے ہاتھ جیبوں میں تھے اور وہ زارا کو دیکھ کر بڑے مزے سے مسکرا رہا تھا۔

"تم… تم کون ہو؟ اور مجھے یہاں کیوں اغوا کر کے لائے ہو؟ تمہیں پتا ہے میرے پاپا کون ہیں؟ پولیس تمہیں ایسا ریمانڈ پر لے گی کہ تم اپنی نانی کو یاد کرو گے!" زارا نے آگے بڑھ کر اس کی ہائٹ کی پرواہ کیے بغیر اس کی ہیکڑی بند کرنی چاہی۔

زین بالکل نہیں ڈرا، بلکہ وہ دو قدم اور آگے بڑھا، یہاں تک کہ زارا کو پیچھے ہٹنا پڑا۔ زین نے جھک کر اس کے چہرے کے قریب اپنی نظریں جمائیں۔

"پہلی بات، یہ اغوا نہیں… 'حقِ مہر' کی وصولی ہے۔ اور دوسری بات، تم بہت بولتی ہو زارا! تمہاری یہ تیز زبان ہی تو مجھے یہاں کھینچ لائی ہے،" زین نے شرارت سے اپنی ابرو اچکائی۔

"حقِ مہر؟ تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہے؟ تم جیسے سستے اغوا کار سے میرا کیا تعلق؟" زارا نے غصے سے اس کا سینہ دھکیلنا چاہا، مگر وہ اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہ ہوا۔

زین نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے ایک جھٹکے سے اپنے قریب کیا۔ زارا کا دل پہلی بار اس کی مردانہ خوشبو اور دبدبے سے زور سے دھڑکا۔ زین نے اس کے کان کے پاس جھک کر دھیمی، سسپنس سے بھرپور آواز میں کہا:

"سستا اغوا کار؟ مس زارا! یہ سستا اغوا کار تمہاری زندگی کا وہ سچ ہے جو تم سے چھپایا گیا ہے۔ تم یہاں سے تب تک نہیں جا سکتیں جب تک تم شاہ پور کی اس حویلی کو اپنا گھر نہیں مان لیتیں۔ اب آرام سے سو جاؤ، کیونکہ کل سے تمہاری اس تیز زبان کا علاج میں خود کروں گا!"

زین اسے ایک گہری، معنی خیز نظر دیکھتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا اور دروازہ باہر سے لاک ہو گیا۔ زارا وہیں کھڑی ہانپ رہی تھی۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ یہ مغرور اور ناٹی (Naughty) ہیرو اس کے بچپن کا وہ راز ہے جس کا نام "منکوحہ" تھا، اور جو زارا کے والدین نے اس سے چھپا کر رکھا تھا!

حویلیِ شاہ پور میں صبح کا سورج چمکا تو زارا کا غصہ رات سے دگنا ہو چکا تھا۔ وہ کمرے کے اندر دندناتی پھر رہی تھی۔ رات کو زین نے جو "حقِ مہر" اور "سچ" والی سسپنس بھری باتیں کی تھیں، اس نے زارا کے دماغ کا دہی کر دیا تھا۔

ٹھیک نو بجے دروازہ کھلا اور ایک ملازمہ ناشتے کی ٹرے لے کر اندر آئی۔ زارا تو جیسے اسی موقع کے انتظار میں تھی۔

"سائیڈ پر ہو جاؤ ماسی!" زارا نے ملازمہ کو دھکا دیا اور کچن کی چھری کی طرح تیز قدم اٹھاتی ہوئی سیدھی کمرے سے باہر نکل گئی۔ حویلی کے نوکروں نے اسے روکنے کی کوشش کی، لیکن زارا کی اونچی آواز اور تیور دیکھ کر سب پیچھے ہٹ گئے۔

"کہاں ہے وہ سستا اغوا کار؟ باہر نکلے چوہدری بنا پھرتا ہے، سامنے آئے!" زارا حویلی کے بڑے ہال میں کھڑی ہو کر گلا پھاڑ کر چلا رہی تھی۔

"اتنی صبح صبح کس مویشی منڈی سے آئی ہو زارا؟ پورا ہال سر پر اٹھا لیا ہے،" اسی دوران اوپر کی سیڑھیوں سے زین شاہ پور اترتا ہوا دکھائی دیا۔ سفید کتان کے کرتے شلوار میں وہ حد درجہ پُرکشش اور ریلیکس لگ رہا تھا، جیسے کوئی لڑکی اغوا کر کے لانا اس کا روز کا معمول ہو۔

"مویشی منڈی کے سردار! تم نے مجھے یہاں قید کیوں کر رکھا ہے؟ میں نے رات سے کچھ نہیں کھایا، اور اگر مجھے ابھی کے ابھی میرے گھر نہ چھوڑا تو میں اس حویلی کی اینٹ سے اینٹ بجا دوں گی!" زارا نے کمر پر ہاتھ رکھ کر تیکھے انداز میں کہا۔

زین سیڑھیاں اتر کر اس کے بالکل سامنے آ کر کھڑا ہو گیا۔ اس کے ہونٹوں پر وہی ناٹی (Naughty) مسکراہٹ تھی۔ "او ہو! بھوکی ہو؟ تو پہلے بتانا تھا نا مس چٹخارا۔ چلو، میرے ساتھ ناشتہ کرو، پھر تمہاری اس تیز زبان کو تھوڑا بریک دیتے ہیں۔"

**ناشتے کی میز اور زارا کی چال**

ڈائننگ ٹیبل پر چوہدریوں والا شاہی ناشتہ سجا تھا۔ زین آرام سے کرسی پر بیٹھ کر جوس پینے لگا، جبکہ زارا غصے سے اس کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گئی۔ بھوک تو اسے واقعی لگی تھی، اس لیے اس نے خاموشی سے پراٹھا توڑا، لیکن اس کا دماغ چل رہا تھا کہ یہاں سے کیسے بھاگا جائے۔

میز پر گرم چائے کی کیتلی پڑی تھی۔ زارا نے زین کو دیکھا جو اپنے فون میں مصروف تھا۔ اس نے دل ہی دل میں سوچا، *'ابھی اس ہیرو کا سارا ہیرو پنا نکالتی ہوں!'*

زارا نے جان بوجھ کر گرم چائے کا مگ اٹھایا اور اسے زین کی طرف جھکاتے ہوئے کہا، "چوہدری صاحب! چائے لیں گے؟" اور ساتھ ہی مگ کو اس طرح ہلایا کہ گرم چائے زین کے ہاتھ پر گرنے ہی والی تھی۔

لیکن زین تو جیسے اس کے دماغ کی ہر بات پہلے سے جانتا تھا۔ اس نے پلک جھپکنے میں زارا کی کلائی کو ہوا میں ہی دبوچ لیا۔ مگ زارا کے ہاتھ سے چھوٹ کر میز پر گرا اور چائے پھیل گئی۔ زین نے زارا کا ہاتھ اتنے زور سے اپنی طرف کھینچا کہ وہ میز کے اوپر جھک کر زین کے بالکل قریب ہو گئی۔

"تمہیں کیا لگا زارا؟ میں کوئی اناڑی اغوا کار ہوں؟" زین نے اپنی گہری آنکھیں زارا کی نیلی آنکھوں میں گاڑ دیں۔ اس کا چہرہ زارا کے اتنے قریب تھا کہ زارا کو اپنے دل کی دھڑکنیں بند ہوتی ہوئی محسوس ہوئیں۔

"چھوڑو میرا ہاتھ… درد ہو رہا ہے،" زارا کی تیز زبان پہلی بار تھوڑی دھیمی ہوئی۔

زین نے اس کا ہاتھ چھوڑنے کے بجائے اس کی انگلی میں پہنی چاندی کی ایک پرانی انگوٹھی کی طرف دیکھا، جو زارا کو اس کے پاپا نے بچپن میں دی تھی اور کہا تھا کہ یہ اس کی امانت ہے۔

زین نے اس انگوٹھی کو چھوتے ہوئے شرارت سے کہا، "یہ انگوٹھی پہچانتی ہو زارا؟ یہ تمہارے پاپا نے تمہیں دی تھی نا؟"

زارا نے حیرت سے دیکھا۔ "تمہیں کیسے پتا؟"

زین نے اس کا ہاتھ چھوڑا اور اپنی کرسی کے پیچھے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا، اس کی آنکھوں میں اب پھر وہی سسپنس تھا جو زارا کو پاگل کر رہا تھا۔ "مجھے تمہاری ہر بات پتا ہے زارا۔ یہ انگوٹھی کوئی عام زیور نہیں ہے، یہ اس 'بندھن' کی نشانی ہے جو تمہارے اور میرے درمیان بچپن میں طے پایا تھا، جسے تم بھول چکی ہو لیکن میں پچھلے بیس سال سے یاد رکھے ہوئے ہوں۔"

زارا کا سر چکرانے لگا۔ "بندھن؟ کیسا بندھن؟ تم کیا بکواس کر رہے ہو؟"

زین اٹھا، اس نے اپنا فون جیب میں ڈالا اور زارا کے پاس آ کر اس کے گال کو ہلکا سا تھپتھپایا۔ "بکواس نہیں، سچ! اب آرام سے حویلی کی سیر کرو، بھاگنے کی کوشش مت کرنا کیونکہ شاہ پور کی حدود سے باہر پرندہ بھی میری اجازت کے بغیر پر نہیں مار سکتا۔ اور ہاں… شام کو تیار رہنا، تمہارے لیے ایک بڑا سرپرائز ہے۔"

زین وہاں سے مسکراتا ہوا نکل گیا، اور زارا وہیں کرسی پر بیٹھی سوچوں کے سمندر میں ڈوب گئی۔ وہ انگوٹھی کو دیکھ رہی تھی اور اس کا دل کہہ رہا تھا کہ اس اغوا کے پیچھے کوئی بہت بڑا اور گہرا راز چھپا ہے!

**(جاری ہے...)*

15/05/2026

"مر گئے بھاگو یہ ہٹلر کا جانشین یہاں بھی آ گیا۔" روحا منہ چھپاتی جلدی ہوٹل سے نکل گاڑی میں بیٹھی تھی۔ اس سے پہلے گاڑی سٹارٹ ہوتی کسی نے دروازہ کھول کر اُسے باہر نکالا تھا۔ "لا۔۔۔ لالہ میں وہ۔" خوف سے اُسکی بولتی بند ہوئی تھی کیونکہ سامنے ارمان خانزدا کھڑا تھا خاندان کا سب سے بڑا اور کھڑوس مرد جسکی دہشت سے پورا خاندان خائف تھا۔ ارمان نے اُسے گھورتے ہوئے اپنی گاڑی میں بٹھایا تھا اور گاڑی بھگا لے گیا۔ "پلیز لالہ گاڑی آہستہ چلائیں خود تو آپ بیوہ ہیں میری تو ابھی شادی بھی نہیں ہوئی۔" جب ارمان نے ایک جھٹکے سے گاڑی روکی اور روحا کو بازؤں سے پکڑتے اپنی جانب کھینچا۔ "بہت شوق ہے نا شادی کا تمہیں تو آج رات نکاح ہے ہمارا خود کو تیار کر لو۔" نکاح کا کہتا وہ روحا کی سانسیں خشک کر گیا تھا۔. "" یہ آپ کیا بول رہے ہیں لالہ "" روحا صدمے سے اُسے دیکھتی گھبرا کر بولی ۔۔ "" کیوں سنائی نہیں دیا کیا "" اُسکے بازو چھوڑ کر ہاتھ اُسکے دائیں بائیں رکھے آئبرو چڑھاتے پوچھا چہرے پر سختی ابھی بھی قائم تھی ۔۔۔۔ """" آپ بیوہ ہیں اور مجھے بیوہ سے شادی نہیں کرنی """ روحا کی زبان فراٹے بھرتی اپنے جوہر دیکھا رہی تھی۔۔ "" تم نے شاید سنا نہیں میں نے تم سے پوچھا نہیں ہے "" ارمان خانزادہ نے اُسکے الفاظ بمشکل برداشت کیے تھے ،، نہیں تو دل کر رہا تھا اُٹھا کر گاڑی سے باہر پھینک دے ،، اُسکی بیوی ڈیلیوری کے دوران مر گئی تو کیا اُسکی غلطی تھی ۔۔"" لالہ لیکن میں بتا رہی ہوں میں آپ سے شادی نہیں کرونگی"" وہ تھوک نگلتی نظریں جھکا کر بولی ۔۔ "" یہ حویلی چل کر ڈیسائیڈ کریں گے ۔۔ فلحال یہ بتاؤ تم باہر اکیلی کیا کر رہی تھی"" اُسکی بات کو نظر انداز کیے وہ غصے سے اُسے گھورنے لگا لفظوں میں تیش کی تپش تھی ۔۔۔۔ "" م۔۔۔۔میں وہ"" اُسکی سرخ آنکھیں دیکھ کر وہ کچھ بول ہی نہ پائی دل بند ہونے کو تھا ۔۔ "" یا اللّٰہ اس ہٹلر کے جانشین سے بچا لے ورنہ یہ مجھے کچا کھا جائے گا "" وہ آنسو آنکھوں میں لیے ڈوبتے دل کے ساتھ اللّٰہ سے مدد مانگنے لگی ۔۔ "" جب اتنا ہی ڈر لگتا ہے تو پھر باہر نکلی کیوں وہ بھی اکیلی ۔۔چھوٹی بچی ہو کیا جب دل چاہا باہر چلی گئی "" وہ چہرا اُسکے اور قریب کیے غصے سے بولا ،، اُس سے برداشت نہیں ہوتا تھا کہ اُسکے گھر کی عورتیں اکیلی باہر آئیں جائیں ۔۔۔۔ "" آپ میری بات کر رہے ہیں آپ جیسے جلاد سے تو سارا خاندان ڈرتا ہے تبھی کوئی آپ سے شادی نہیں کر رہا ،، پتہ نہیں حبہ بھابھی نے آپکو کیسے برداشت کیا ہوگا "" روحا سہم کر اُسکے اتنے نزدیک ہونے پر بولی تو پھر بس نہیں ہوئی لیکن جب ارمان خانزادہ کا چہرا دیکھا تو زبان دانتوں تلے دبا گئی،، دل کیا وہ اُسکی نظروں سے غائب ہو جائے۔۔۔۔ "" برداشت تو اب مجھے تم کرو گی مس روحا ،، "" چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ لیے ارمان نے روحا کو مزید ڈرایا تھا ،، وہ پیچھے کو کھسکی تھی ۔۔۔۔ ""لالہ "" روحا کی تڑپتی آواز گاڑی کی خاموش فضا میں گونجی ۔۔ "" اب بلکل خاموش ہو کر بیٹھو زیادہ زبان چلائی تو اچھا نہیں ہوگا "" ارمان کے سخت گھورو پر وہ نظریں جھکاتی بیٹھ گئی ۔۔۔۔ گاڑی رکتے ہی ارمان خانزادہ گاڑی سے اُترا اور روحا کو کھینچ کر نکالا ۔۔ "" پلیز لالہ میرا ہاتھ چھوڑیں """ روحا روہانسی ہوتی بولی ۔۔۔۔ "" برخوردار یہ کیا طریقہ ہے"" ارمان کو روحا کو تقریبن گھسیٹ کر لاتے دیکھ آغا جان گرجے تھے ۔۔۔۔ ""میں نکاح کرنا چاہتا ہوں روحا سے آغا جان"" ارمان خانزادہ نے سنجیدگی سے کہا تو لاونج میں موجود سب لوگوں نے ارمان کو حیرت سے دیکھا ۔۔ سال ہو گیا تھا اُسکی بیوی کو مرے وہ شادی کے نام پر بھاگتا تھا جب بھی کہو بہانا بناتا تھا ۔۔ اور اب خود ہی روحا سے شادی کا خواہش مند تھا۔ ۔۔ ""کیا تم سچ کہہ رہے ہوں "" زرتاشہ بیگم نے خوشی سے پوچھا۔۔۔۔ "" آغا جان پلیز لالہ کو کہیں میرا ہاتھ چھوڑیں میری کلائی درد کر رہی ہے "" روحا نے سب کو دیکھ کر تیزی سے کہا۔۔۔۔ "" اپنی زبان بند رکھو کچھ دیر کے لیے ،، آپ لوگوں نے اسے اکیلے باہر جانے کیسے دیا "" ارمان کی روعب دار بلند آواز پر سب نے روحا کو دیکھا ۔۔۔۔ "" اب تم کیا چاہتے ہو برخوردار بچیوں کے دوستوں کے ساتھ جانے پر بھی پابندی لگا دیں "" ادب صاحب نے سنجیدگی سے اپنے بیٹے کو گھورا ۔۔۔۔ "" آج سے یہ باہر نہیں جائے گی ،، ہوٹل میں اکیلی بیٹھی تھی مجھے تو کوئی لڑکی نہیں دیکھی """ ایک تیز نظر روحا پر ڈالتے ارمان نے غصے سے کہا ۔۔۔۔ "" کیوں بحث کر رہی ہو میرے بچے کے ساتھ اگر یہ نکاح کرنا چاہتا ہے تو اس میں کو برائی نہیں "" کب سے ارمان کی نکاح والی بات کا سوچتے آغا جان اچانک بول ہی پڑے ۔۔۔۔ "" میں لالہ سے کیسے شادی کر سکتی ہوں یہ شادی شدہ ہے آغا جان "" روحا تقریبن چیخی تھی ۔۔۔۔ "" حبہ اب زندہ نہیں ہے ،، تو مجھے نہیں لگتا اس میں کوئی برائی ہے"" آغا جان نے نرمی سے کہا حالانکہ لڑکیوں سے پوچھا کہا جاتا تھا ۔۔۔۔ "" کیسی بات کر رہے ہیں یہ بیوہ ہیں میں ان سے شادی نہیں کر سکتی "" اب کی بار روحا اتنا اُونچا بولی تھی کی ارمان کے ساتھ ساتھ باقی مردوں نے بھی اُسے گھورا تھا ۔۔۔۔ "" کیا کمی ہے میرے پوتے میں بہت ہی سلجھا ہوا ہے ،، زمیدار ہے بڑے ہونے کی زمیداری بہت اچھے سے نبھاتا ہے"" آغا جان کی بات سنتے ہی روحا نے اب اپنے ماں باپ کو دیکھا ۔۔ ""ٹھیک ہے برخوردار آج نہیں لیکن چار دن بعد تمہارا نکاح ہوگا وہ بھی پوری رسموں کے ساتھ "" آغا جان نے ارمان خانزادہ کا کندھا تھپتھپاتے چمکتی آنکھوں کے ساتھ کہا تو وہ صرف سنجیدگی سے سر اثبات میں ہلاتا اپنے کمرے میں چلا گیا ۔۔۔۔
"" بس کوئی بدتمیزی نہیں بڑا ہے تم سے "" روحا کچھ بولنے ہی لگی تھی کہ اُسکی ماں نے سختی سے منع کر دیا ۔۔۔۔ ""دوپٹہ سر پر جما کے رکھو اور نکاح کے لیے خود کو تیار کرو ہم آپنے پوتے کی خواہش کو نظر انداز نہیں کریں گے،، آخر وہ اس حویلی کا بڑا بچا ہے "" آغا جان نے ایک سنجیدہ نظر روحا کو دیکھ کر کہتے وہاں سے چلے گئے ۔۔۔۔ "" یہ کیا ہو گیا بیٹھے بٹھائے
میں نہیں کر رہی شادی اُس بیوہ ہٹلر سے "" روحا لاؤنج میں کھڑی چیخی تھی ۔۔ "" بدتمیزی مت کرو روحا جاؤ اپنے کمرے میں بڑا ہے تم سے """ رباب بیگم نے اُسے گھور کر کہا ۔۔۔۔ ""بڑا ہے پھر بھی سب ایسا کیوں کر رہے ہیں ،، اوپر سے وہ شادی شدہ بیوہ ہے میری تو ابھی ایک بھی شادی نہیں ہوئی "" روحا کی بات پر انہیں ہنسی تو آئی تھی لیکن وہ ضبط کر گئی تھی ۔۔۔۔""یہ کیا کب سے بیوہ بیوہ لگا رکھا ہے ،، انسان کی پہچان اُسکے اخلاق سے ہوتی ہے جاؤ اب کمرے میں پاگل لڑکی """ انکے ڈانٹنے پر وہ جلدی سے سیڑھیوں کی طرف بھاگی تھی۔۔۔۔

🅕🅞🅛🅛🅞🅦

ارمان خانزادہ اپنی اور حبہ کی تصویر کے سامنے کھڑا کب سے اُسے دیکھ رہا تھا ،، دل کے کونے میں کہیں تکلیف اُٹھی تھی۔۔ من نہیں تھا یہ شادی کرنے کا کیوں کی حبہ سے اُسے محبت تھی۔۔ ""تم سے الگ ہوکر دل کہیں نہیں لگتا ،، تم ہوتی تو اچھا تھا،، کس کو پتہ یہ مضبوط اور روعب دار شخص اپنی بیوی کے لیے تڑپ رہا ہے "" آنکھیں میں نمی لیے وہ ہلکا سا مسکرایا اور آنکھوں میں آئی نمی اپنی انگلیوں سے صاف کی ۔۔ ""ارمان چلو نیچے مولوی صاحب آگئے ہیں ،، ماشاءاللہ میرا بیٹا بہت پیارا لگ رہا ہے "" زرتاشہ بیگم کمرے میں داخل ہوئی تو ارمان خانزادہ کو پھر سے دلہا بنا دیکھ اُسکی نظر اُتارنے لگی ۔۔ "" اللّٰہ خوشیاں نصیب کرے میری جان کو ،، بیٹا مجھے روحا کے حوالے سے کچھ بات کرنی ہے "" وہ اپنے بیٹے کا ہاتھ پکڑ کر بولی۔۔ "" جی بولیں مورے "" ارمان خانزادہ پوری طرح انکی طرف متوجہ ہوا تھا ۔۔ "" بیٹا روحا حبہ سے مختلف ہے،، وہ بچی ہے اُسکا بات کرنا چلنا اوڑھنا حبہ جیسا نہیں ہے،، کوشش کرنا تم ہر بات میں اُسے فرق کر کے نہ دیکھاؤ ،، وہ جیسی ہے اُسے ویسا قبول کرو تو بہتر ہے باقی میں نے اُسے سمجھا دیا ہے وہ کوئی ایسی حرکت نہیں کرے گی جس سے تمہیں غصہ آئے ""زرتاشہ بیگم کی بات پر ارمان خانزادہ نے سنجیدگی سے اثبات میں سر ہلایا ۔۔ یہ بات تو سچ تھی نہ وہ حبہ تھی نہ بن سکتی تھی ہر کسی کا اپنا معیار ہوتا ہے ۔۔۔۔ ""جی مورے آپ بے فکر رہیں "" اُنکے ماتھے پر لب رکھے انکے کندھے کے گرد ہاتھ پھیلائے باہر کی جانب بڑھا ۔۔۔۔ روحا کو پہلے ہی لاونج میں بیٹھا دیا گیا تھا ۔۔ "" وہ دیکھوں میرے لالہ کیتنے پیارے لگ رہے ہیں "" ماہین اپنے بھائی کو سیڑھیاں اُترتے دیکھ ماشاءاللہ کہے بغیر رہ نہ سکی ۔۔ "" تم آج کی بات کر رہی ہو مجھے تو ساری زندگی یہ ایک ہی شکل دیکھنی ہے ،، جب دیکھوں یہ ہی ہٹلر میرے ماتھے لگتے ہیں "" وہ برا سا منہ بنا کر رہ گئی ۔۔ ""تمہاری قسمت ہی ایسی ہے "" نمرہ اور ماہین منہ پر ہاتھ رکھے ہنسنے لگی ۔۔ ارمان خانزادہ اپنے روعب دار شخصیت لیے روحا کے برابر میں ہی بیٹھ گیا،، ایک نظر سرخ لباس میں سجی سنوری روحا پر گئی۔۔ چہرے پر نرم سی مسکراہٹ آئی تھی ۔۔کچھ ہی دیر میں نکاح شروع ہوا ۔۔ دونوں ایک دوسرے کا ساتھ قبول کرتے اپنے سارے حقوق ایک دوسرے کے نام کر گئے ۔۔ "" مبارک ہو میری جان اللّٰہ تمہارے نصیب اچھے کرے آمین "" زرتاشہ بیگم اور رباب بیگم نے اُسے ڈھیر ساری دعائیں دی ۔۔۔۔ پھر کچھ رسموں کے بعد روحا کو کمرے میں بیٹھا دیا گیا ۔۔ پورے کمرے میں حبہ اور ارمان خانزادہ کی تصویریں لگی ہوئی تھی ۔۔ روحا کا دل بجھ سا گیا اُسے محسوس ہوا وہ کبھی حبہ کی جگہ نہیں لے پائے گی ،، ارمان خانزادہ کے کمرے میں داخل ہوتے ہی روحا گڑبڑا کر مڑی،، نظریں خود بخود جھک گئی ۔۔۔۔ ""یہاں کیوں کھڑی ہو "" ارمان نے سنجیدگی سے استفسار کیا تو روحا خشک پڑتے لبوں پر زبان پھیرتی انگلیاں مروڑنے لگی ۔۔ ""بولو ویسے تو بڑی تیز زبان چلتی ہے "" دروازے کو بند کرتے ارمان خانزادہ بے تاثر چہرا لیے اُسکی طرف بڑھا ۔۔""وہ۔۔"" وہ کچھ بول ہی نہ پائی بس آنسوؤں سے بھری آنکھیں لیے اُسکا چہرا دیکھنے لگی ،، آنسو پلکوں کے باڑ توڑتے گالوں پر بہہ نکلے ۔۔ ""رو کیوں رہی ہو"" اُسکی کمر پر نرمی سے اپنا حصار قائم کیا ۔۔ ""آپ سے ڈر لگ رہا ہے ،،میں ساری زندگی آپکے ساتھ کیسے رہوں گی ،، میری کوئی اتنی بڑی غلطی بھی نہیں تھی جو آپ میرے سر پر مصلت ہوگئے "" اپنی کمر پر اسکا لمس محسوس کرتے روحا گڑبڑاتی جانے کیا کیا بول رہی تھی ۔۔۔۔ ""مجھے پتہ ہے تم اپنی کسی دوست سے ملنے نہیں گئی تھی "" اُسکے چہرے کو نظروں کے حصار میں لیے سپاٹ لہجے میں بولا ۔۔ "" قسم سے دوست تھا "" روحا گھبراتی جلدی سے بولی ۔۔۔۔ "" ہاں وہ بھی لڑکا "" اُسکے ہونٹوں کو چھوتی نتھ کو اپنی انگلی سے چھیڑتے روحا کے اوپر دھماکا کیا ۔۔ "" م۔۔۔میں سچ کہہ رہی ہو وہ بس کلاس میں پڑھتا تھا،، بات بھی خود کرتا تھا "" ارمان خانزادہ کے غصے سے گھورنے پر وہ چپ ہوئی ۔۔۔۔ "" اب تم میری بیوی ہو ،، میرے علاؤہ کسی سے بات کرتے نہ دیکھو تمہیں ""ارمان نے سختی سے اُسے تنبہ کی ۔۔۔۔ "" جی اب ہاتھ ہٹا لیں لا"" ابھی وہ لالہ بولنے ہی والی تھی کہ ارمان کے سخت گھورو پر وہ زبان دانتوں تلے دبا گئی۔۔۔۔ "" تھوڑا سوچ سمجھ کر بولو بنا سوچے کچھ بھی بولے جا رہی ہو"" ارمان کے گھورو پر روحا آنکھیں سختی سے میچ گئی۔۔ ""منہ سے نکل گیا عادت ہے نہ"" تھوک نگلتی روحا پلکیں جھپکنے لگی۔۔ ""فکر مت کرو یہ عادت بہت جلدی چھڑوا دوں گا ""اُسکو غور سے دیکھتے ارمان نے آہستہ سے کہا۔۔ ""میں چینج کر لو کپڑے بہت بھاری ہیں "" اُسکے دیکھنے کے انداز سے کنفیوز ہوتے روحا نے ہاتھ کمر سے ہٹانا چاہا لیکن ہٹا نہیں پائی ۔۔ ""پیاری لگ رہی ہوں "" اسکے حسین روپ کو دیکھتے ارمان نے تعریف کرنی ضروری سمجھی۔۔ کچھ دل کا بھی کمال تھا جو روحا کو سرخ برائیڈل جوڑے میں دیکھ کر پھیسلنے لگا تھا۔۔ ارمان نے بے ساختہ لب اُسکے ماتھے پر رکھتے ہاتھ اُسکی
کمر سے ہٹایا۔۔ آزادی ملتے ہی روحا تیزی سے ڈریسنگ روم میں بند ہوئی ۔۔ جب وہ کمرے میں آئی تو لائیٹس بند تھی ۔۔""اتنا اندھیرا اب مجھے کیسے پتہ چلے گا کہ یہ کہاں سوئے ہیں "" اندھیرے میں ہاتھ مارتی روحا بیڈ کی طرف دیکھنے کی کوشش کرتی پھر صوفے کے طرف دیکھتی لیکن نظر کچھ نہ آیا ۔۔ ""اللّٰہ کا نام لیتے وہ آگے بڑھی ۔۔ ""آہ ہ"" بیڈ کے نزدیک پہنچتے ہی جیسے ہی روحا بیٹھی اُسکی چیخ بے ساختہ تھی ۔۔۔۔ ""ہششش اب اگر تمہاری آواز آئی تو ایک تھپڑ کھینچ کے ماروں گا ""وہ ارمان کے اوپر غلطی سے بیٹھ گئی تھی،، اور ارمان نے اُسکو پکڑ کر بیڈ پر گرایا اور خود اُس پر جھکا تھا ۔۔۔۔
""ل۔۔۔۔لائیٹس اون ک۔۔۔کردیں مجھے گھبراہٹ ہو رہی ہے "" اُسے گھبراہٹ اندھیرے سے کم ارمان کے اوپر لیٹنے سے زیادہ ہو رہی تھی ۔۔۔۔ "" جو مزا اندھیرے میں ہے وہ روشنی میں کہا "" کھڑکی سے آتی ہلکی سی روشنی سے روحا کا سفید پڑتا چہرا دیکھ اُسے ہنسی تو بہت آئی تھی۔۔ فلحال اُسکا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا،، اس رشتے کو کچھ وقت دینا چاہتا تھا۔۔ لیکن ہر بار کچھ نہ کچھ ایسا ہو ہی جاتا تھا ۔۔ "" کی۔۔۔۔کیسا مزا "" سوچتے ہی روحا کا لہجا لڑکھڑایا تھا ماتھے پر پسینے کی بوندیں چمکی تھی ۔۔"" ابھی پتہ چل جائے گا "" ارمان نے اُسکی گھبرائی ہوئی صورت دیکھتے لب شوخی سے دبائے ۔۔۔۔ "" یہ آپ غلط کر رہے ہیں ،، میں نے آپ سے نکاح کر لیا نہ اب اور کیا "" اُسکے مضبوط ہاتھ اپنے ہاتھوں میں اُلجھتے محسوس کرتے روحا کی سانس گہری ہوئی تھی۔۔""پہلے شادی کا اتنا شوق تھا اب کیا ہوا "" انگلی اُسکے چہرے پر ٹریس کرتے ارمان خانزادہ نے مسکراہٹ دبائی ۔۔۔۔ ""میرے منہ سے نکل گیا تھا "" روحا اتنا آہستہ منمنائی تھی کہ ارمان کو اُس پر رحم آیا تھا اور وہ سر نفے میں ہلاتا دور ہوا۔۔ اُسکے دور ہونے پر وہ گہری سانس بھرتی جلدی سے چہرا کمبل میں چھپا گئی ۔۔

🅕🅞🅛🅛🅞🅦

" ""یار آج تو بہت تھک گئی "" سر صوفے کی پشت پر گرائے وہ تھکی ہوئی اواز میں بولی۔۔ ""خود جانے کہاں غائب ہوگئے ہیں اور ادھر میری جان گھر والوں نے عذاب کی ہوئی ہے""
اپنی کمر پر ہاتھ رکھتے وہ غصے سے بولی ۔۔۔۔ ""اسلام علیکم "" ارمان خانزادہ کی آواز سنتے ہی روحا کے ہاتھ پیر پھول گئے کیوں کی وہ بنا دوپٹے کے تھے ۔۔ گھبرا کر وہ اپنا دوپٹہ ڈھونڈنے کے لیے اُٹھی لیکن ہوتا تو نظر آتا نہ۔۔۔۔ ""دوپٹہ کہاں ہے تمہارا "" ارمان خانزادہ کی دھاڑ پر روحا کا حلق خشک ہوا تھا۔۔ ""و۔۔۔۔وہ میں "" روحا اُسکو غصے سے اپنی طرف بڑھتے دیکھ سانس روک گئی لفظ گلے میں ہی اٹک گئے ۔۔۔۔ ارمان نے خانزادہ نے غصے سے اُسکی کلائی پکڑی اور سیڑھیوں کی طرف بڑھا۔۔ "" میری بات تمہارے لیے اہمیت نہیں رکھتی کیا"" ارمان خانزادہ نے سپاٹ لہجے میں روحا کے لاپرواہ ہولیے کو دیکھتے پوچھا۔۔""میں صبح سے کچن میں کام کر رہی تھی "" وہ خفگی سے کہتی نمی آنکھوں میں لیے بولی۔۔ ارمان خانزادہ نے اُسکی ہولیے پر غور کیا تو غصہ فکرمندی میں بدل گیا۔۔ "" کیا ضرورت تھی اتنا کام کرنے کی""اُسکے سلوٹ زدہ کپڑے ان پر لگا ہوا آٹا چہرے پر پسینہ۔۔
""مورے نے زبردستی بنوایا ہے آپکے لیے"" منمناتے ہوئے وہ سر جھکا گئی ۔۔ ارمان خانزادہ کو اُس پر ترس آیا تھا،، جیب سے رومال نکال کر اُس نے روحا کے چہرے سے پسینہ پونچھتے لب باری باری گالوں پر رکھتے پھر پیشانی پر رکھے۔۔ ""مجھے لگا آپ غصہ کریں گے "" آنکھوں میں حیرت لیے روحا ارمان خانزادہ کے چہرے کو دیکھنے لگی جو بمشکل ضبط کر رہا تھا۔۔۔۔ ""دل تو کر رہا تھا ایک لگاؤ کھینچ کے لیکن"" روحا کا چہرا ہاتھوں میں بھرے ارمان نے گھمبیر لہجے میں کہا۔۔ وہ آہستہ آہستہ دل میں اُتر رہی تھی ۔۔ ""لیکن "" بے چینی سے پوچھتے روحا نے ارمان کی آنکھوں میں دیکھا۔۔ ""تُمہیں دیکھ کر ارادہ بدل گیا "" نرم مسکراہٹ اُسکی طرف اُچھالتے کہا ۔۔۔۔ ""آپ مجھے دیکھ کر ارادہ بدل گئے کیسے،، آپ کھڑوس ہٹلر سے اتنے اچھے کیسے بن گئے "" صدمے سے اُسکی ہنستی آنکھوں کو دیکھتے روحا نے پوچھا۔۔ ""کس اینگل سے میں کھڑوس لگتا ہوں "" روحا کی بات سن کر ارمان کے حسین چہرے پر غصے کی سرخی دوڑی تھی،، اُسنے روحا کا ہاتھ پکڑ کر آپنی طرف کھینچا جس سے وہ سیدھا اُسکے سینے سے ٹکرائی ،، چہرے شرم سے سرخ ہو گیا تھا۔۔ ""م۔۔۔منہ سے نکل گیا "" اُسکی قربت میں کھڑا رہنا روحا کو مشکل امر لگا تھا ،، ایک تو اُسکا ڈر اوپر سے وہ اتنا قریب کھڑا تھا دل دھک دھک کرتا بند ہی ہونے کو تھا۔۔۔۔ ""تھوڑا دور ہو کر کھڑے رہیں اتنا پاس کون کھڑا ہوتا ہے "" سانس نہ آنے پر روحا منمنائی تھی،، ""شادی کیا دور رہنے کے لیے تھوڑی کی ہے "" پوری توجہ سے اُسکے چہرے کو دیکھتے ارمان خانزادہ نے مخمور لہجے میں کہا،، روحا کا معصوم چہرا دل پر جمی مٹی کو دھیرے دھیرے صاف کرتا جا رہا تھا ۔۔ ""ا۔۔۔اپ اتنے بے باک ہونگے مجھے پتہ نہیں تھا ،، مجھے لگا تھا آپکو صرف ہٹلر بننا آتا ہے "" اُسکے حصار سے گھبراتی روحا مسلسل مزاحمت کرنے لگی تھی۔۔ ""ہاہاہا "" روحا کی باتیں سن کر ارمان خانزادہ کا قہقا بے ساختہ تھا ۔۔۔۔ ""ہنس کیوں رہے ہیں "" وہ سہمتی روہانسی ہوئی تھی ۔۔ ""تمہارے ساتھ میں زندگی کی نئی شروعات کرنا چاہتا ہوں میرا ساتھ دونگی نہ "" ارمان خانزادہ نے اُسکی کمر پر پکڑ اور مضبوط کرتے ٹہرے ہوئے لہجے میں پوچھا۔۔ ""آپ حبہ بھابھی سے محبت"" ارمان خانزادہ نے گہری سانس لے کر خود پر ضبط کیا تھا نہیں تو آنکھیں نم ہو جاتی ۔۔۔۔ "" قسمت نے دھوکا دے دیا اُسکا اور میرا ساتھ اتنا ہی تھا ،، لیکن تمہارا ساتھ میں زندگی بھر چاہتا ہوں ،، دو گی نہ ساتھ،، اپنی چھاپ اتنی گہری چھوڑنا میرے دل پر کے کچھ یاد ہی نہ رہے"" ارمان خانزادہ کے شدت بھرے لہجے پر روحا کا دل اداس ہوا تھا۔۔ "" کہلاؤں گی تو آپکی دوسری بیوی ہی "" اپنے مضبوط ہاتھوں میں اُسکے نازک ہاتھ لیے ارمان خانزادہ نے شدت سے وہاں اپنا لمس چھوڑا ساتھ اُسکی کمر پر پکڑ مضبوط کرتے سینے میں بھینچ لیا۔۔۔۔ ""کس کی اتنی ہمت ہے جو ارمان خانزادہ کی بیگم کو کچھ بول سکے "" ارمان کے سرد مضبوط لہجے پر روحا نے اپنا سر چہرا اُٹھا کر ایک چور نظر اُس پر ڈالی ،، لیکن جب اُسکی نظر روحا پر پڑی تو وہ آنکھیں میچ گئی۔۔ ارمان خانزادہ نے اُسکے چہرے کو ہاتھوں کے پیالے میں لیتے آئبرو چڑھائے دیکھا۔۔ ""آپ مجھ سے اتنے پیار سے کیسے پیش آ سکتے ہیں آپ تو مجھے ہر وقت ڈانٹتے رہتے تھے بدل کیسے گئے ،، اتنی جلدی محبت ہو جاتی ہے ""روحا سرخ چہرا جھکاتی ہچکچاہٹ کے ساتھ بولی ارمان خانزادہ کی گہری نظریں خود پر محسوس کرتے وہ مزید کنفیوز ہو رہی تھی ۔۔ ""تمہاری حرکتیں اچھے بھلے انسان کا پارا ہائے کر سکتی ہیں""
اُسکی پہلی والی حرکتیں یاد کرتے ارمان نے گہری سانس لی تھی۔۔ ""تو اب کون سا میں نے پلاسٹک سرجری کروالی ہے "" ایسے ہی اُسکے حصار میں کھڑے کھڑے روحا ارمان کو خفے سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔""ہاہاہاہاہاہا باتیں بہت اچھی کر لیتی ہوں "" یہ تیسری بار تھا جب روحا ہر وقت غصے ناک پر لیے گھومنے والے کو قہقا لگاتے دیکھ رہی تھی ۔۔ ""جب ہنستے ہوئے اچھے لگتے ہیں تو ہٹلر جیسی شکل لے کر گھومنے سے کیا ملتا ہے "" ارمان نے لب دبائے اور اچانک ہی لب اُسکے لبوں پر رکھ دیے ۔۔ روحا لڑکھڑانے لگی تو ارمان نے اُسے مزید اپنے قریب کر کیا،، اُسکے نرم لمس میں کھویا ارمان خانزادہ ارد گرد بھلا گیا تھا،، ساتھ ایک ہاتھ اُسکے بالوں پر نرمی سے حرکت کر رہا تھا۔۔ ""میں"" ارمان خانزادہ کے دور ہوتے ہی روحا شدید لال دھکتے گال لیے چہرا ہاتھوں میں چھپا گئی، دل دیواروں سے سر پٹک رہا تھا، اُسکی دھک دھک کرتی دھڑکن ارمان کے دل میں اُترتی سکون بخش رہی تھی۔۔ ""تم آہستہ آہستہ میرے دل کی دھڑکن بنتی جارہی ہو،،اور کیا ثبوت چاہیے میری چھوٹی سی جان کو "" اُسکے ہاتھوں پر شدت سے لب رکھے ارمان خانزادہ سرور بہرے لہجے میں بولا ۔۔روحا لرزتی دور ہوئی تھی ۔۔ ""م۔۔۔مجھے مورے بلا رہی "" بہانا بناتی وہ باہر بھاگنے لگی البتہ چہرا ویسے ہی ہاتھوں میں چھپائے رکھا تھا۔۔ ""میں نے تو نہیں سنا اور الحمدللہ میرے سننے کی صلاحیت تم سے بہتر ہے "" تیز قدموں کے ساتھ اُسکے سامنے آتے راستہ روک کر بے حد سنجیدگی سے گویا ہوا ۔۔ "" ہاں آپکے وہ کان ہے نہ جو دیواروں کو ہوتے ہیں "" کہتے ساتھ روحا نے لب دانتوں تلے دبائے اور ہاتھ تھوڑا سا ہٹا کر ارمان کا چہرا دیکھا جہاں کوئی مذاق کا آثار نہیں تھا ،، وہ بس مصنوعی گھورو سے روحا کو گھور رہا تھا ۔۔ "" میرے منہ سے نکل گیا پلیز میں نے جان بوجھ کر کچھ نہیں بولا "" گھبرا کر بولتی وہ اُسکا چہرا دیکھنے لگی ، جو سپاٹ تاثرات لیے آہستہ آہستہ اُسکے قریب آرہا تھا ۔۔ ""اب بولو کیا بول رہی تھی میری جان "" دیوار کے ساتھ اُسے پن کرتے سنجیدگی سے پوچھا۔۔۔۔ ""آپ مجھے ڈرا رہے ہیں "" روحا نے اُسکی آنکھوں میں دیکھتے پوچھا۔۔ "" تمہیں ڈر لگ رہا ہے "" وہ آئبرو اچکاتے مسکراہٹ دبا کر بولا ۔۔ ""وہ تو پہلے سے لگتا ہے "" وہ رونی صورت بنائے بولی ۔۔ ""اچھا ہے "" اُسکے بال کان کے پیچھے اڑیستے وہ نرمی سے بولا ۔۔۔۔ ""آپ مجھے ڈرا کر رکھنا چاہتے ہیں "" روحا نظریں پھیرتی اُسے دیکھنے سے گریز برت رہی تھی ۔۔ "" نظریں پھیرو مت ادھر دیکھو "" اُسکی ٹھوڑی کو پکڑ کر اپنے نزدیک کرتے ارمان نے میٹھے لہجے میں کہا،، وہ نرم نازک چھوٹی سی لڑکی کی قربت
Plz follow me

08/05/2026

"حیران ہو رہے ہو گے تم....!!! کہ میں ابھی تک غیرت کے نام پر قتل کیوں نہیں ہوئی؟؟ ہے نا؟" وہ چپ چاپ اس کے پاس سے گزرنے لگا جب نور کی کرخت آواز سن کر رک گیا۔وہ الٹے قدموں واپس آیا۔ نور نے ہاتھ میں پکڑے موبائل پر گرفت مضبوط کی۔
"ہاں حیران تو کافی ہوں..... لگتا ہے کہ تمھارے گھر والے کافی بے غیرت ہیں جو تمھاری بےہودہ تصویریں دیکھنے کے بعد بھی تمھیں یہاں بھیج دیا" وہ ڈھٹائی سے بولا تو اسے اس پر شدید غصہ آیا مگر یہاں غصے سے زیادہ ضبط سے کام لینا تھا۔
"بے غیرت تو تم ہو..... جس نے وہ نقلی بے ہودہ تصاویر بنائیں..... میرا خیال ہے کہ تمھاری کوئی بہن نہیں ہے..... کیونکہ جن کی بہنیں ہوتی ہیں نا وہ دوسروں کی بہنوں کے ساتھ یہ گھٹیا پن نہیں کرتے...... اور اگر اپنی بہنوں کے ہوتے ہوئے وہ دوسروں کی بہنوں کے ساتھ یہ سب کریں بھی تو وہ قرض ان کی سگی بہنیں اتارتی ہیں..... یاد رکھنا" انگلی اٹھا کر اسے وارن کیا تو وہ سفاکی سے ہنس دیا۔
" یہ تو صرف تم جانتی ہو یا میں کہ وہ تصویریں نقلی ہیں.... اور رہی بات بہن کی تو بے فکر رہو اس کا میں گھر سے باہر نکلنا بند کر چکا ہوں " اس کے اس جواب پر نور کو وہ بے وقوف لگا۔
" یعنی مکافاتِ عمل پر یقین ہے تمھارا..... لیکن شاید تم یہ نہیں جانتے کہ اگر قسمت میں مکافات لکھا ہو نا.... تو تم چاہے لاکھ اپنی بہن کو دنیا کی نظر سے چھپا لو..... وہ ٹل نہیں سکتا...... کیونکہ مکافاتِ عمل اٹل ہے" نور کی بات پر اس کے رونگٹے کھڑے ہوئے تھے۔ مگر جلد ہی اس نے اپنی حالت پر قابو پایا اور وہاں سے چلا آیا۔اس کے جاتے ہی نور نے ریکارڈنگ بند کی تھی۔
اسے اپنے پاس سے گزرتا دیکھ کر اس نے تب ہی موبائل ریکارڈنگ پر لگا دیا تھا... ہاں وہ حارث کو اپنی صفائی نہیں دینا چاہتی تھی.... مگر احسن صاحب کے سامنے اپنی پوزیشن کلیئر کرنا چاہتی تھی...... ٹھیک ہے انھوں نے اسے بلوا کر کہہ دیا تھا کہ انھیں اس پر یقین ہے مگر پھر بھی....!!

مکمل ناول کے لنک کے لئے فولو کریں پلیز

14/04/2026

’’میں تمھارے چچا کی بیوہ ہوں۔‘‘اسکا بھائی زبردستی اسکا نکاح اسکے مرحوم شوہر کے بھتیجے سے پڑھا رہا تھا۔تاکہ بیوہ بہن کو گھر میں نہ رکھنا پڑے ۔جبھی مہمان خانے سے ایک آواز بلند ہوئی تھی۔’’اسی لئے میں آپ کو اپنے نکاح میں لینا چاہتا ہوں وہ بھی ابھی اور اسی وقت،تاکہ میرے خاندان کا خون در بدر کی ٹھوکریں نہ کھائے۔‘‘خاندانی دشمنی کے تحت اسکا خون ہوگیا تھا،وہ انکار کرتی رہ گئی۔مگر زبردستی نکاح کے بعد وہ دوبارہ اسی گھر میں آگئی تھی۔ اس نے اسے ہمیشہ چھوٹے بھائی کی نگاہ سے دیکھا تھا۔اپنی ساس کی وجہ سے وہ اس کے ساتھ کسی بھی قسم کا تعلق قائم نہیں کرنا چاہتی تھی۔’’صفوان تم چاہو تو دوسری شادی کرلو،لیکن میں تم سے کبھی بھی کوئی تعلق قائم نہیں کرونگی۔۔‘‘صفوان جو اسکے بالوں کی مہک سینے میں اتارتا سرور کی کیفیت میں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کمرے میں فرحین خاموش بیٹھی تھی۔کیونکہ باہر اسکا بھائی اور مرحوم شوہر کا بھتیجا اسکی قسمت کا فیصلہ کر رہے تھے۔اضطرابی کیفیت سے دوچار وہ مسلسل ہاتھوں کو باہم آپس میں ملائے مسلتی شدید پریشان دکھائی دے رہی تھی، آنکھیں مسلسل زمین کو تک رہی تھیں۔باہر سے صفوان اور اسکے بھائی کی آوازیں واضح سنُائی دے رہی تھیں،جبکہ ساتھ اسکی بھابھی بھی مستقل بول رہی تھی۔۔اصل میں تو وہی عورت تھی جو نند کے بیوہ ہوکر آنے پر آپے سے باہر بس کسی بھی طرح اسے اس گھر سے بے دخل کرنا چاہتی تھی۔اور ایسے میں صفوان کا رشتہ سنہری موقع تھا۔ابھی عدت ختم ہوئے پانچ دن بھی نہیں ہوئے تھے اور بھائی پر بہن بوجھ بن گئی تھی۔۔وہ خاموش بیٹھی،سوئے ہوئے بچوں کے گال پر پیار کر رہی تھی،جبھی دستک دیتا اسکا بھائی آندار داخل ہوا تھا۔۔’’فرحین تیار ہوجاؤ،تمھارا نکاح ہے صفوان کے ساتھ۔‘‘اس کا بھائی سامنے کھڑا تھا۔آواز میں سختی تھی اور لہجے میں عجلت تھی۔اسکی آنکھیں نم ہوئی تھیں۔۔وہ اسے سمجھا رہا تھا کہ یہ نکاح اس کے لیے بہتر ہے۔وہ بیوہ ہے اور گھر میں اسے رکھنا ممکن نہیں۔لوگ باتیں کریں گے۔رشتے دار سوال اُٹھائیں گے۔فرحین نے سر اُٹھا کر دیکھا۔’’لیکن یہ میرے بھی باپ کا گھر ہے۔‘‘اس نے لرزتی آواز میں کہا۔۔ہاتھ کپکپا رہے تھے۔۔’’تمھارے باپ کا گھر تھا۔۔’’ہم تمھیں جہیز سمیت رخصت کرچکے۔‘‘بھابھی کی بات پر اسنے بھائی کو دیکھا،جو خاموش کھڑا تھا۔’’بس تم تیار ہوجاؤ۔تمھارا نکاح ابھی ہوگا۔‘‘۔وہ بار بار کہہ رہی تھی کہ وہ اس نکاح کے لیے تیار نہیں۔وہ اپنے مرحوم شوہر کے بعد کسی اور رشتے کا تصور بھی نہیں کر سکتی۔لیکن اس کی باتیں دیواروں سے ٹکرا کر واپس آ رہی تھیں۔
اچانک مہمان خانے سے قدموں کی آہٹ سنائی دی تھی۔۔ صفوان خان جو اب تک باہر بیٹھا سب سن رہا تھا خود چلتا ہوا کمرے میں داخل ہوا۔اس کے چہرے پر سنجیدگی تھی اور آنکھوں میں ایک عجیب سا فیصلہ۔اس نے فرحین کی طرف دیکھا اور مضبوط آواز میں بولا کہ یہی واحد راستہ ہے۔وہ اسے اپنے نکاح میں لینا چاہتا ہے ابھی اور اسی وقت۔تاکہ خاندان کی عزت محفوظ رہے۔تاکہ اس گھر کا خون در بدر نہ ہو۔
فرحین چونک گئی۔اس نے انکار میں سر ہلایا۔آواز بھرا گئی۔
’’میں نے ہمیشہ تمھیں اپنے چھوٹے بھائی کی نظر سے دیکھا۔‘‘کمزور سی دلیل دی گئی تھی۔۔’’میرے لئے یہ رشتہ ناقابل قبول ہے۔مگر صفوان خان ایک قدم آگے بڑھا۔لہجہ نرم تھا مگر فیصلہ سخت۔ ’’فرحین میں آپ کو مجبور نہیں کرنا چاہتا مگر حالات مجبور کر رہے ہیں۔آپ کی اور بچوں کی جان کو خطرہ ہے۔میں نے کبیر چچا سے وعدہ کیا تھا،کہ انکے بیوی بچوں کا خیال رکھونگا۔ایسے میں ،میں آپ کو دربدر کی ٹھوکریں کھانے کے لئے نہیں چھوڑ سکتا۔۔پلیز بات کو سمجھیں۔یہ نکاح ہوگا اور آج ہی ہوگا۔کمرے میں خاموشی چھا گئی۔فرحین کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔اور اس خاموشی میں اس کی رضامندی نہیں بلکہ اس کی مجبوری بول رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تارکول کی پکیّ سڑک پر دُوڑتی گاڑی میں موجود دونوں نفوس خاموش تھے،فرحین کی نگاہوں میں وہ تمام منظر گھوم گئے تھے،جب وہ دھوم دھڑکے کے ساتھ بیاہ کر خان مینشن رخصت ہوئی تھی۔ کبیر خان، اس سے پا گلوں کی طرح محبت کرتے تھے۔مگر شاید قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔۔آگے پیچھے گارڈز کی گاڑیاں ہم قدم تھیں ،بیک سیٹ پر دونوں بچے گہری نیند سو رہے تھے۔ان کی سانسوں کی ہلکی آواز اس خاموش فضا میں واحد حرکت تھی۔
فرحین پسنجر سیٹ پر خاموش بیٹھی تھی۔ہاتھ گود میں رکھے ہوئے تھے۔آنکھوں میں نمی اتر آئی تھی جو پلکوں پر ٹھہرنے کی کوشش کر رہی تھی۔اس کی نگاہیں سڑک پر نہیں تھیں بلکہ ماضی میں الجھی ہوئی تھیں۔
گاڑی کے ہلکے سے جھٹکے نے اسے حال میں لوٹایا۔’’فرحین میں بچوں کو لے کر جا رہا ہوں۔۔آپ پلیز میرے روم میں آجائیے گا۔‘‘وہ چھوٹی سی حیا اور تین سالہ ہارون کو گود میں اٹھا کر مینشن کے اندرونی حصےٰ کی جانب بڑھا تھا۔جبکہ اس نے بھی بوجھل قدموں سمیت اسکی پیروی کی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خان مینشن کے صدر دروازے پررکی تو فضا میں ایک اجنبیت گھل گئی۔وہی گھر تھا مگر احساس بالکل نیا اور بوجھل تھا۔فرحین آہستہ قدم رکھتی ہوئی اندر داخل ہوئی۔سامنے وہ عورت کھڑی تھی جو کبھی اس کی جیٹھانی تھی اور اب اس کی ساس بن چکی تھی۔اس کی نگاہوں میں نخوت تھی۔ انھونے فرحین کو سرسری نظر سے دیکھا اور بنا کچھ کہے کچن کی طرف مڑ گئیں۔ ۔
’’فرحین آپ ابھی تک یہیں کھڑی ہیں۔روم میں چلیں۔۔اب وہی آپ کا کمرہ ہے۔‘‘وہ اس کا گریز بخوبی سمجھ رہا تھا۔اس کی موجودگی میں ایک ٹھہراؤ تھا۔وہ دونوں آہستہ آہستہ سیڑھیاں چڑھنے لگے۔ہر قدم کے ساتھ فرحین کا دل مزید بوجھل ہوتا جا رہا تھا۔وہ اس کمرے کی طرف بڑھ رہی تھی جو اب اس کا مقدر تھا۔ایک ایسا کمرہ جہاں رشتہ تو بدل گیا تھا مگر دل اب بھی انکار میں تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کمرے میں داخل ہوتے ہی صفوان نے دروازہ آہستہ سے بند کیا۔فضا میں عجیب سی سنجیدگی تھی۔اس نے بغیر کسی جلد بازی کے فرحین کو بیڈ کی طرف لے جا کر بٹھایا۔اس کے انداز میں نرمی تھی۔کوئی دعویٰ نہیں تھا۔کوئی حکم نہیں تھا۔فرحین نے خاموشی سے بیڈ کے کنارے بیٹھتے ہوئے نظریں جھکا لیں۔دل میں ایک طوفان تھا مگر چہرہ سپاٹ تھا۔وہ اس سے عمر میں پانچ سال چھوٹی تھی۔یہ فرق ہمیشہ اس کے رویے میں جھلکتا رہا تھا۔صفوان نے ہمیشہ اس رشتے کا احترام کیا تھا۔مگر سب کچھ اچانک سے بدل گیا تھا۔۔۔
’’میں جانتا ہوں فرحین کے آپ کے لئے یہ سب اتنی جلدی ایکسپیٹ کرنا بہت مشکل ہے۔مگر آپ اس رشتے کو سمجھنے کے لئے جتنا وقت لینا چاہے لے سکتی ہیں۔مگر اس تمام عرصے میں کوشش کیجئے گا کہ آپ اماں سے نہ الجھیں۔۔کیونکہ وہ بھی اس اچانک جڑے رشتے کو قبول نہیں کر پا رہی ہیں۔۔‘‘وہ اسکا ہاتھ تھامے محبت سے بول رہا تھا۔۔فرحین نے رشک سے اس خوبصورت مرد کو دیکھا تھا۔ وہ کبیر کی طرح اونچا لمبا ، قد والا ایک بارعب شخصیت کا مالک تھا۔ خوبرو چہرہ،گہری سیاہ آنکھیں جن میں وہ خود کو ڈوبتا محسوس کر رہی تھی۔۔یکدم اپنی بے ساختگی کا احساس ہوا تھا وہ گڑبڑا سی گئی تھی۔
کبیر اور صفوان میں سال بھر کا فرق تھا۔کبھی وہ چچا کم اور بڑا بھائی زیادہ لگتے تھے۔صفوان نے ہمیشہ اُنہیں اُسی مقام پر رکھا تھا۔ جو انکا حق تھا۔ان میں ہنسی مزاق حد سے زیادہ تھا۔مگر صفوان نے کبھی احترام میں کمی آنے نہیں دی تھی۔
چچا کے قتل کے بعد سب کچھ بدل گیا تھا۔فرحین بچوں کے ساتھ ایک کونے میں سمٹ گئی تھی۔اور صفوان قاتل کی تلاش میں تھا۔اور قاتل ملتے ہی جیسے ہی پنچائت نے فیصلہ دیا تھا۔اسکا دھیان فرحین کی طرف گیا تھا ۔جب اسے معلوم ہوا کہ اس کی ماں نے فرحین کو زبردستی اس کے بھائی کے گھر بھجوا دیا ہے تو وہ کچھ نہ کہہ سکا۔وہ لمحہ اس کے لیے بے بسی کا تھا۔ماں کے سامنے زبان بند ہو گئی تھی ،جبھی اسے علم ہوا کہ فرحین کا بھائی اپنی بہن کی جلد از جلد شادی کر کے اسے گھر سے نکالنا چاہتا ہے۔وہ شادی نہیں تھی۔وہ بوجھ اتارنا تھا۔یہ جان کر صفوان کا خون جوش مار گیا تھا۔اسے چچا کے وہ لمحے یاد آ گئے تھے جب وہ اپنی بیوی اور بچوں کے گرد ڈھال بن کر کھڑا رہتا تھا۔وہ محبت جو اس کی آنکھوں میں صاف نظر آتی تھی۔وہ فخر جو وہ اپنی بیوی کے نام پر محسوس کرتا تھا۔
پری ل پلینڈ کار ایکسیڈنٹ کے آخری لمحات صفوان کے ذہن میں تازہ ہو گئے۔چچا کی کمزور آواز۔ٹوٹتی سانسیں۔اور وہ جملہ جو اس کے دل پر نقش ہو گیا تھا۔کہ صفوان میرے بعد میری بیوی اور بچوں کا خیال رکھنا۔وہ الفاظ وصیت بن گئے تھے۔ایک بوجھ جو صفوان کے کندھوں پر آ گرا تھا۔وہ جانتا تھا کہ اگر وہ خاموش رہا تو فرحین دربدر ہو جائے گی۔ایک ایسی عورت جو پہلے ہی سب کچھ ہار چکی تھی۔
اسی لیے اس نے جلد بازی کا فیصلہ کیا تھا۔یہ فیصلہ محبت کا نہیں تھا۔یہ فیصلہ ذمہ داری کا تھا۔وہ جانتا تھا کہ وہ اس عورت کو بچانے کے لیے خود کو قربان کر رہا ہے۔اس نے نکاح کو ایک ڈھال بنایا تھا۔ایک دیوار جو فرحین اور دنیا کے درمیان کھڑی ہو سکے۔وہ جانتا تھا کہ اس فیصلے کے بعد اس کی اپنی زندگی بدل جائے گی۔مگر اس لمحے اس کے سامنے صرف ایک سچ تھا۔کہ وہ اسے بے سہارا نہیں چھوڑ سکتا تھا۔
کمرے میں خاموشی گہری ہو گئی تھی۔فرحین نے نظریں اٹھا کر ایک لمحے کو صفوان کو دیکھا۔اس کی آنکھوں میں سوال تھے۔شک تھا۔اور کہیں نہ کہیں خوف بھی تھا۔وہ جانتی تھی کہ یہ نکاح اس کی مرضی سے نہیں ہوا تھا۔وہ جانتی تھی کہ اس نے دل سے ہاں نہیں کی تھی۔مگر وہ یہ بھی جانتی تھی کہ یہ آدمی اسے کسی اور کے رحم و کرم پر چھوڑنے والا نہیں تھا۔
صفوان نے ایک قدم پیچھے ہٹ کر کرسی کھینچی اور بیٹھ گیا۔وہ اس کے سامنے کھڑا نہیں رہا۔وہ اس پر حاوی نہیں ہونا چاہتا تھا۔اس کی آواز دھیمی تھی۔اس نے کہا کہ وہ جانتا ہے کہ یہ سب اس کے لیے کتنا مشکل ہے۔وہ اس سے کوئی توقع نہیں رکھتا۔وہ اس پر کوئی حق نہیں جتانا چاہتا۔یہ نکاح صرف ایک ذمہ داری ہے۔ایک وعدہ جو اس نے اپنے چچا سے کیا تھا۔
فرحین کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔۔
’’سوجائیں تھک گئی ہونگی آپ۔۔‘‘ وہ نرمی سے گویا ہوتا خود بھی دوسری طرف سے بستر پر لیٹ گیا تھا۔۔
۔
۔
۔

لنک کے لئے کمینٹ کریں 👇

Category

Website

Address

Lahore

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when saya brand posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Subscribe

We will notify you when anything happens in Lahore.