Dr.Ashraf
"Providing free, reliable health tips and advice to help you live a healthier, happier life."
*السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*
آج ہم آپکو بتائیں گے ::
*جریان کا تعارف*
1 : *ﺟﺮﯾﺎﻥ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ*
2 : *ﺍﺱ ﮐﺎ ﻋﻼﺝ ﮐﯿﺴﮯ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ*
3 : *ﻣﺎﺩﮦ ﺣﯿﺎﺕ ﮐﯽ ﺍﻗﺴﺎﻡ*
ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﯿﻦ ﺑﮍﯼ ﺍﻗﺴﺎﻡ ﮨﯿﮟ
*( 1 ) ﻣﻨﯽ ( 2 ) ﻣﺬﯼ ( 3 ) ﻭﺩﯼ*
*ﺍﻭﻝ* .
ﺗﻮﻟﯿﺪ ﺣﯿﻮﺍﻧﯽ ﮐﯽ ﺍﺻﻞ ﺍﻭﺭ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﮨﮯ
ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺑﮍﯼ ﻧﺸﺎﻧﯽ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻓﺮﯾﻘﯿﻦ ﺳﮯ ﺣﺎﻟﺖ ﺍﻧﺘﺸﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺩ ﮐﺮ ﻇﮩﻮﺭ ﭘﺰﯾﺮ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻧﮑﻠﻨﮯ ﺳﮯ ﻓﺮﯾﻘﯿﻦ ﮨﻠﮑﮯ ﭘﮭﻠﮑﮯ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺏ ﯾﮧ ﭼﺎﮨﮯ ﺣﺎﻟﺖ ﭘﯿﺪﺍﺭﯼ ﻣﯿﮟ ﮨﻮ ﯾﺎ ﮐﮧ ﺣﺎﻟﺖ ﺍﺳﺘﺮﺍﺣﺖ ﻣﯿﮟ ۔
*ﺩﻭﻡ* .
ﯾﮧ ﺍﻭﻝ ﺍﻟﺬﮐﺮ ﮐﯽ ﻧﺎﻗﺺ ﺣﺎﻟﺖ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﺧﺮﺍﺝ ﻣﻨﯽ ﺳﮯ ﻗﺒﻞ ﯾﺎ ﺑﻌﺪ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﻣﻘﺪﺍﺭﻣﯿﮟ ﻧﻤﻮ ﺩﺍﺭ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ۔
ﺳﻮﺋﻢ.
ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺍﻭﻝ ﺍﻟﺬﮐﺮ ﮐﯽ ﻧﺎﻗﺺ ﺣﺎﻟﺖ ﮨﮯ،ﯾﮧ ﭘﯿﺸﺎﺏ ﮐﮯ ﺍﻭﻝ ﻣﯿﮟ ﯾﺎ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﻧﻤﻮﺩﺍﺭ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ۔
*ﻣﺬﯼ ﻭ ﻭﺩﯼ ﻣﯿﮟ ﻭﺍﺿﺢ ﻓﺮﻕ*
ﻣﺬﯼ ﻣﻨﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺧﺎﺹ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻭﺩﯼ ﭘﯿﺸﺎﺏ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺧﺎﺹ ﮨﮯ ۔ ﯾﺎﺩ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺍﺻﻮﻝ ﺫﮬﻦ ﻧﺸﯿﻦ ﮐﺮﻟﯿﮟ ﮐﮧ ﻣﻨﯽ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﻢ ﺳﮯ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻣﺬﯼ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﻢ ﺳﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻻﺯﻡ ﻣﻠﺰﻭﻡ ﺳﻤﺠﮭﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺑﻘﯿﮧ ﮐﻮ ﭘﯿﺸﺎﺏ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ۔
*ﺍﯾﮏ ﻏﻠﻂ ﻓﮩﻤﯽ ﮐﺎ ﺍﺯﺍﻟﮧ*
ﻋﻤﻮﻣﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﻧﻮﺟﻮﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﯾﮩﯽ ﻣﻌﺮﻭﻑ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺟﺴﻢِ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﮔﺎﮌﮬﺎ ﺳﺎ ﭘﺎﻧﯽ ﻧﻤﻮ ﺩﺍﺭ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺟﺮﯾﺎﻥ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻓﻮﺭﺍً ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺣﺎﻻﻧﮑﮧ ﺍﯾﺴﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ۔
ﺣﻘﯿﻘﺖ ﺗﻮ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺟﺮﯾﺎﻥ ﮐﺎ ﻣﺮﺽ ﺟﺮﯾﺎﻥ ﺗﺼﻮﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﻮ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺷﺎﯾﺪ ﺩﺱ ﭘﺮﺳﻨﭧ ﭘﺎﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﻭﺟﮧ ﺍﺱ ﮐﯽ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﺳﻦ ﺳﻨﺎ ﮐﺮ ﺫﮨﻦ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺧﺎﮐﮧ ﻣﺘﺼﻮﺭ ﮐﯿﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺟﺮﯾﺎﻥ ﻓﻘﻂ ﮔﺎﮌﮬﮯ ﻣﺎﺩﮦ ﮐﮯ ﺍﺧﺮﺍﺝ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﮨﮯ ﺟﺒﮑﮧ ﺍﯾﺴﺎ ﻗﻄﻌﺎً ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ۔
*ﻣﺰﯾﺪ ﻭﺿﺎﺣﺖ*
ﻧﻈﺎﻡ ﻗﺪﺭﺕ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻧﺮ ﺟﺐ ﻣﺎﺩﮦ ﺳﮯﻣﻼﭖ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺩﻧﻮﮞ ﻃﺮﻓﮧ ﺗﻮﻟﯿﺪﯼ ﻧﻈﺎﻡ ﮐﮯ ﺗﺤﺖ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﻘﺎﺭﺑﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻣﺎﺩﮦ ﻧﻤﻮ ﭘﺰﯾﺮ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ
ﮨﮩﯽ ﻭﺟﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺟﺴﻢ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﻣﺬﯼ ﮐﯽ ﮐﻤﯽ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺍﻣﺮﺍﺽ ﺟﻨﻢ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ، ﺍﺣﺘﻼﻡ ، ﺭﻗﺖ ﺍﻧﺰﺍﻝ ، ﺑﮯ ﺍﻭﻻﺩﯼ ، ﺑﺎﻧﺞ ﭘﻦ ،ﻣﻘﺎﺭﺑﺖ ﻣﺘﻠﺬﺫ ﻧﮧ ﮨﻮﻧﺎ ،ﻓﺮﯾﻘﯿﻦ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺳﮯ ﺳﯿﭩﺴﻔﺎﺋﮉ ﻧﮧ ﮨﻮﻧﺎ، ﻋﻨﺎﻧﯿﺖ ( ﻧﺎﻣﺮﺩﯼ ) ، ﻭﻏﯿﺮﮦ
ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﻭﺩﯼ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﭘﯿﺸﺎﭖ ﮐﯽ ﺷﺪﺕ ﮐﻮ ﺭﻭﮐﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻗﺒﻞ ﺍﻟﺒﻮﻝ ﯾﺎ ﺑﻌﺪ ﺍﺯ ﺑﻮﻝ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺳﺎ ﮔﺎﮌﮬﺎ ﻣﺎﺩﮦ ﺫﮐﺮﯾﻦ ﻣﯿﻦ ﺍٓﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺷﺪﺕ ﮐﻮ ﺭﻭﮐﺘﺎ ﮨﮯ
ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﯾﮧ ﻣﺎﺩﮦ ﻧﮧ ﺍٓﺋﮯ ﺗﻮ ﺑﮭﯽ ﮐﭽﮫ ﻣﺮﺽ ﺟﻨﻢ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ،ﺑﻮﻝ ﻋﻠﯽ ﺍﻟﻔﺮﺍﺵ،ﭼﻠﺘﮯ ﭘﮭﺮﺗﮯ ﺑﻮﻝ ﮐﺎ ﺍﺧﺮﺍﺝ،ﺑﻮﻝ ﺩﻣﻮﯼ،ﻗﻠﺖ ﺑﻮﻝ،ﺫﮐﺮ ﮐﺎ ﺳﮑﮍﻧﺎ،ﻭﻏﯿﺮﮦ
*ﯾﺎﺩ ﺭﮐﮭﯿﮟ* !
ﻋﻤﻮﻣﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺗﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺩﻭ ﺍﻗﺴﺎﻡ ﮐﮯ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﻌﻨﯽ ﻣﺬﯼ ﺍﻭﺭ ﻭﺩﯼ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺍٓﭖ ﮐﻮ ﺟﺮﯾﺎﻥ ﮐﺎ ﻣﺮﯾﺾ ﺗﺼﻮﺭ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺣﺎﻻﻧﮑﮧ ﯾﮧ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻓﻄﺮﯼ ﻋﻤﻞ ﺗﮭﮯ ﯾﮧ ﻧﮑﻠﻨﮯ ﮨﯽ ﻧﮑﻠﻨﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﮔﺮ ﻧﮧ ﻧﮑﻠﺘﮯ ﺗﻮ ﮨﻢ ﻣﺮ ﺟﺎﺗﮯ ﺍﮔﺮ ﻣﺮﺗﮯ ﻧﮧ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﺍﻭﺭ ﺍﻣﺮﺍﺽ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ ۔
*ﺟﺮﯾﺎﻥ ﮐﺎ ﺗﻌﺎﺭﻑ*
*ﺟﺮﯾﺎﻥ* SPERMATORRHOEA
ﺟﺮﯾﺎﻥ ﮐﮯ ﻟﻐﻮﯼ ﻣﻌﻨﯽ ﺟﺎﺭﯼ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﺠﺎﻣﻌﺖ ﮐﮯ ﺳﻮﺍ ﺑﻼ ﺍﺭﺍﺩﮦ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﻣﻨﯽ ' ﻣﺬﯼ ﯾﺎ ﻭﺩﯼ ﮐﯽ ﺭﻃﻮﺑﺖ ﮐﮯ ﺟﺎﺭﯼ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺟﺮﯾﺎﻥ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻣﺮﺽ ﻣﯿﮟ ﻣﻌﻤﻮﻟﯽ ﺷﮩﻮﺍﻧﯽ ﺧﯿﺎﻝ ﯾﺎ ﻗﺒﺾ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺑﻌﺾ ﺍﻭﻗﺎﺕ ﺑﻐﯿﺮ ﻗﺒﺾ ﮐﮯ ﺑﮭﯽ ﺑﻼ ﺍﺭﺍﺩﮦ ﻋﻀﻮ ﻣﺨﺼﻮﺹ ( P***S ) ﺳﮯ ﻣﻨﯽ ﺧﺎﺭﺝ ﮨﻮﺗﯽ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ ﺑﻌﺾ ﺍﻭﻗﺎﺕ ﭘﯿﺸﺎﺏ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﯾﺎ ﺑﻌﺪ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﻣﮑﺲ ﺧﺎﺭﺝ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﮐﺜﺮ ﺣﺎﻟﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﻠﺸﯿﻢ ﺍﮔﺰﯾﻠﯿﭧ ' ﻓﺎﺳﻔﻮﺭﺱ ﺍﻭﺭ ﺷﮑﺮ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮐﮯ ﻣﺮﮐﺒﺎﺕ ﺑﮭﯽ ﭘﯿﺸﺎﺏ ﮐﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﺧﺎﺭﺝ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﮐﺎ ﺗﻌﻠﻖ ﻣﻌﺪﮦ ﮐﯽ ﺧﺮﺍﺑﯽ ' ﺿﻌﻒ ﮔﺮﺩﮦ ﯾﺎ ﺫﯾﺎﺑﯿﻄﺲ ﺳﮯ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﺴﮯ ﺑﻌﺾ ﻧﯿﻢ ﺣﮑﯿﻢ ﻟﻮﮒ ﺟﺮﯾﺎﻥ ﺗﺸﺨﯿﺺ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺣﺎﻻﻧﮑﮧ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺟﺮﯾﺎﻥ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﻌﻠﻖ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﺑﻠﮑﮧ ﻣﻨﺪﺭﺟﮧ ﺑﺎﻻ ﺍﻣﺮﺍﺽ ﮐﺎ ﻋﻼﺝ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ -
ﯾﮩﯽ ﻣﺮﺽ ﮐﭽﮫ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺑﮩﺖ ﺗﺒﺪﻟﯽ ﺳﮯ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﭘﺎﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﻮ ﺍﻃﺒﺎﺀ ﮐﮯ ﮨﺎﮞ ﻟﯿﮑﻮﺭﯾﺎ ﺳﮯ ﯾﺎﺩ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ *ﺗﺸﺨﯿﺺ*
ﺟﻮﺍﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﻣﺮﺽ ﺁﺝ ﮐﻞ ﺑﮩﺖ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﮯ . ﺍﭘﻨﮯ ﮨﯽ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻣﺎﺩﮦِ ﺣﯿﺎﺕ ﮐﺎ ﺑﮩﺎﻭ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﮨﻢ ﺳﺒﺐ ﮨﮯ . ﭘﺎﺧﺎﻧﮧ ﮐﺮﺗﮯ ﻭﻗﺖ ﺯﻭﺭ ﻟﮕﺎﻧﺎ، ﻗﺒﺾ ﺳﮯ ﭘﺎﺧﺎﻧﮧ ﺁﻧﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﭘﯿﺸﺎﺏ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﭘﮩﻠﮯ ﯾﺎ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﻗﻮﺍﻡِ ﻣﻨﯽ ﺧﺎﺭﺝ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ، ﻣﺮﺽ ﺑﮍﮪ ﺟﺎﻧﮯ ﭘﺮ ﻣﻌﻤﻮﻟﯽ ﺭﮔﮍ، ﺳﺎﺋﯿﮑﻞ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﻮﮌﮮ ﮐﯽ ﺳﻮﺍﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﺻﻨﻒ ﻧﺎﺯﮎ ﮐﻮ ﮐﺜﺮﺕ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺧﯿﺎﻝ ﻣﯿﻦ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﺳﮯ ﻋﻤﻮﻣﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮﺍﻧﺰﺍﻝ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ۔
*ﻣﺸﮩﻮﺭ ﻋﻼﻣﺎﺕ*
ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﮯ ﮔﺮﺩ ﺳﯿﺎﮦ ﺣﻠﻘﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ ﭘﺘﻨﮕﮯ ﻭ ﭼﻨﮕﺎﮌﯾﺎﮞ ﺍﮌﺗﯽ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﯿﮟ گاﻟﻮﮞ ﮐﺎ ﭘﭽﮑﻨﺎ ، ﻣﻨﮧ ﭘﺮ ﭼﮭﺎﯾﺎﮞ ، ﻣﻌﺪﮦ ﮐﯽ ﺧﺮﺍﺑﯽ ، ﺗﺰﺍﺑﯿﺖِ ﻣﻌﺪﮦ، ﻧﻈﺮ ﮐﻤﺰﻭﺭ ، ﭼﮭﻮﭨﯽ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﻧﺎ ، ﭼﮍﭼﮍﺍ ﭘﻦ ، ﺩﻣﺎﻍ ﮐﯽ ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ ، ﮐﻤﺮ ﺩﺭﺩ، ﺳﺴﺘﯽ، ﺟﺴﻤﺎﻧﯽ ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ، ﮐﺎﻡ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﻮ ﺩﻝ ﻧﮧ ﭼﺎﮨﻨﺎ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﺍﺱ ﻣﺮﺽ ﮐﯽ ﺍﮨﻢ ﻋﻼﻣﺎﺕ ﮨﯿﮟ
07/08/2026
With Umar Hayat Bajwa – I just got recognised as one of their top fans! 🎉
*السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*
آج ہم آپکو بتائیں گے:::
*بریسٹ کینسر*
عورتوں کو ہونے والے کینسر میں اب بریسٹ کینسر سرِفہرست ہے۔
یہ مرض عام طور پر 50 سے 60 برس کی عمر کی عورتوں میں پایا جاتا تھا، لیکن اب کم عمر خواتین بھی اس بیماری میں مبتلا ہو رہی ہیں۔
*بریسٹ کینسر* کی مریض خواتین نہ صرف پسماندہ اور ترقی پذیر ممالک میں پائی جاتی ہیں بلکہ ترقی یافتہ ممالک کی خواتین بھی اس مرض کا تقریباً اسی شرح سے شکار ہو رہی ہیں۔
کینسر کا تعلق دراصل جینیاتی طور پر اس بیماری کی خلاف مدافعت کی کمزوری ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ اگر ماں کو بریسٹ کینسر ہے تو بیٹی کو بھی ہو سکتا ہے۔
بریسٹ کینسر کی ایک اہم وجہ عورتوں کا بریسٹ سائز بڑھانے کے لئے کیمیکلز والی کریمیں استعمال کرنا بھی ہے جو وقتی طور پر سائز بھی بڑھا دیتا ہے اور ٹائیٹ کردیتا ہے مگر تھوڑے ہی عرصے میں گلٹیاں بن جاتی ہیں۔
*بریسٹ کینسر کی پہلی سٹیج میں* تو چھاتی میں گلٹی بنتی ہے جس کا سائز چھوٹا ہوتا ہے اور اس میں درد ہوتا ہے۔ پہلی سٹیج یہ تعین کرتی ہے کہ اب کینسر بافتوں کو آزادانہ طور پر نقصان پہنچا رہا ہے۔
*دوسرے مرحلے میں* یہ گلٹی نہ صرف بڑی ہوتی ہے بلکہ جڑیں بھی پھیلتی ہیں، یہ لِمف نوڈز میں داخل ہو گیا ہے اور اس کا سائز ایک اخروٹ یا لیموں جتنا ہے۔
جس کے بعد یہ تیسرے مرحلے میں داخل ہو جاتا ہے۔
*تیسرے مرحلے* میں اب کینسر آپ کے کم از کم نو لمف نوڈز میں آ چکا ہے جو گردن کی ہڈی اور بغل تک کا حصہ ہے۔ اب یہ سینے میں بیرونی جلد کے قریب ہے۔
*چوتھے اور آخری مرحلے* میں کینسر لمف نوڈز سے نکل کر اب چھاتی کے گرد دیگر حصوں تک پھیل چکا ہے۔ یہ سب سے زیادہ ہڈیوں، پھیپھڑوں، جگر اور دماغ تک آ گیا ہے۔ اس سٹیج میں طبی ماہرین کے مطابق مریضہ کی جان بچانا مشکل ہو جاتا ہے۔
*السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*
آج ہم آپ کو بتائیں گے ایک ایسی بیماری کے بارے میں
جس بیماری کا شکار لاکھوں افراد ہیں مگر اس بیماری کے بارے میں صحیح سے معلومات نہیں۔
*یورک ایسڈ* .
یورک ایسڈ ہمارے جوڑوں کی اردگرد جمع ہو کر ایک بیماری جسے گاؤٹ کہتے ہیں، کا باعث بنتا ہے۔ عام حالات میں یہ فاضل مادہ ہمارے گردوں کی مدد سے خون سے نکال کر پیشاب کے رستے خارج کر دیا جاتا ہے. مگر جب یہ اخراج صحیح طرح سے نہ ہو پائے تو یہ زائد مقدار ہمارے جوڑوں میں جمع ہوکر شدید سوزش اور درد کا باعث بنتی ہے۔
پیورین، جو ہمارے جسم میں موجود ایک کمپاؤنڈ ہے، بیرونی ذرائع سے بھی حاصل کیا جا سکتا ہے مثلا کلیجی، پھلیاں، بیئر اور سارڈائنز وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
پیورین کے ٹوٹنے کی وجہ سے جسم میں یورک ایسڈ بنتا ہے جو خون سے گردوں تک پہنچتا ہے اور گردوں سے پیشاب کے ذریعے جسم سے باہر نکلتا ہے۔جب یورک ایسڈ جسم سے باہر نہ نکلے تو یہ جسم کے اندر چھوٹے چھوٹے کرسٹل کی شکل میں جوڑوں میں جمع ہونے لگتا ہے۔ اس کی وجہ سے جوڑ بے کار ہو جاتے ہیں اور مریض کا چلنا پھرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔
گاؤٹ بالخصوص پاؤں اور ہاتھوں کے جوڑوں کی سوزش اور گرماھٹ اور سوزش کی وجہ سے سرخ رنگت کی شکل میں نمودار ہوتی ہے جو کہ ہمارے روز مرہ زندگی کے معمولات کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
یورک ایسڈ گاؤٹ کے ساتھ ساتھ گردے کی پتھری کا باعث بھی بنتا ہے۔ گردے کی پتھر فاضل مادوں کی ذیادتی سے جنم لینے والے کمپاونڈز ہیں جن میں یورک ایسڈ بھی شامل ہے۔
اگر آپ ابھی تک گردے کی پتھری یا گاؤٹ کے مرض کی تشخیص تک نہیں پہنچے مگر سوزش زدہ اور درد سے بھرے ہوئے جوڑوں کا شکار ہیں تو ہو سکتا ہے کہ آپ کا یورک ایسڈ بڑھا ہوا ہو۔ یورک ایسڈ کی تھوڑی بہت ذیادتی اکثر و بیشتر ان علامات کا باعث نہیں بنتی مگر کچھ انتباہی عناصر کی موجودگی میں علامات کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ ان عناصر میں الکوہل کا اکثر استعمال، دل کے امراض، چند ادویات، گردے کے امراض، تھائرائڈ ھارمونز کی کمی و موٹاپا ہیں۔ عام طور پر طرز زندگی میں چند مثبت تبدیلیاں شفا بخش ثابت ہو سکتی ہیں۔
اپنی خوراک میں چند تبدیلیاں یورک ایسڈ کی ذیادتی کو قابو کر سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر گوشت، فرکٹوز سے بھرپور اشیاء، پھلی دار سبزیاں اور اناج، الکوحل اور سیگریٹ نوشی سے گریز ناقابل یقین حد تک تبدیلی لا سکتا ہے۔
موٹاپا ایک اور خطرناک چیز ہے مگر اسے بھی ورزش اور دیگر طریقوں سے کم کیا جاسکتا ہے۔ بازاری اشیا سے اجتناب اور خوراک میں توازن انتہائی کارآمد ثابت ہو سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں ورزش کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا انتہائی اہم ہے۔
**** *یورک ایسڈ بڑھنے کی علامات* ****
چونکہ یورک ایسڈ کی ذیادتی صرف اس وقت علامات کی شکل اختیار کرتی ہے جب یہ بہت ذیادہ بڑھ چکا ہو. سب سے بنیادی علامت صبح اٹھنے پر ایڑیوں میں درد کا احساس ھے. بعد ازاں مریض پٹھوں میں کھچاو و درد کی شکایت کرتا نظر آتا ھے.
جوڑوں میں درد ہونا
گانٹھیں پڑنا
پیر کے انگوٹھوں میں سوجن
جوڑوں میں سوجن وغیرہ وغیرہ
لہذا اگر آپ میں اس طرح کی کوئی علامت موجود ہیں تو آپ کو اپنا لائف سٹائل تبدیل کرنے کی ضرورت ھے.
**** *تشخیص* ****
خون کے معائنہ سے اس کی مکمل تشخیص ممکن ھے. اس مقصد کے لیے خون میں یورک ایسڈ کے لیول کی جانچ کی جاتی ھے
*** *احتیاط* ***
یورک ایسڈ بڑھنے پر گوشت کا استعمال بالکل ختم کر دیں۔
کھانے کو زیتون کے تیل، کینولا آئل یا دیسی گھی کے علاوہ بناسپتی گھی یا دیگر تیلوں میں مت پکائیں
کم چکنائی والا دودھ استعمال کریں.
کھانا پکانے کے سلور سٹیل یا نان سٹک برتن کی بجائے مٹی سے بنے برتن استعمال کریں. جو کہ محفوظ ھونے کے ساتھ ساتھ کھانے کا ذائقہ بھی بڑھاتے ھیں.
شراب اور تمباکو نوشی سے مکمل پرھیز
صبح اٹھنے پر پانی کا استعمال صرف اشد ضرورت میں ھی کریں.
الکوحل، تمباکو نوشی وغیرہ بالکل ترک کر دیں.
غذا میں سبزی اور سلاد کا اضافہ لازمی کریں
صرف اپنا لائف سٹائل تبدیل کر کے آپ اس مرض سے مکمل چھٹکارا پا سکتے ھیں.
*جب سہارا ختم ہوتا ہے تو انسان اپنی اصل طاقت پہچانتا ہے*
زندگی کا ایک ایسا اصول ہے جسے سمجھ لیا جائے تو انسان دوسروں کے رویوں کا قیدی نہیں رہتا۔ اکثر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اگر کوئی شخص ہماری مدد کرنا چھوڑ دے، ہمیں مواقع نہ دے، ہمارا راستہ روک دے یا ہمیں کسی چیز سے محروم کر دے تو ہماری ترقی بھی رک جائے گی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ بہت مرتبہ انسان کی اصل ترقی اسی لمحے شروع ہوتی ہے جب اس کے تمام سہارے ختم ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ سہارا ختم ہونے کے بعد انسان کو اپنے اندر موجود اس طاقت کو جگانا پڑتا ہے جسے نفسیات کی زبان میں Human Potential یعنی "انسانی پوشیدہ صلاحیت" کہا جاتا ہے۔
نفسیات میں ایک معروف نظریہ Self-Determination Theory (SDT) ہے، جسے ماہرینِ نفسیات ایڈورڈ ڈیسی (Edward Deci) اور رچرڈ ریان (Richard Ryan) نے پیش کیا۔ اس نظریے کے مطابق ہر انسان کے اندر تین بنیادی نفسیاتی ضروریات ہوتی ہیں: Autonomy (خود مختاری)، Competence (قابلیت کا احساس) اور Relatedness (معنی خیز تعلق)۔ جب انسان کو ہر وقت دوسروں پر انحصار کرنا پڑے تو اس کی خود مختاری کمزور ہو جاتی ہے، لیکن جب حالات اسے اپنے فیصلے خود کرنے پر مجبور کرتے ہیں تو اس کے اندر خود اعتمادی اور قابلیت کا احساس بڑھنے لگتا ہے۔
اسی طرح البرٹ بانڈورا (Albert Bandura) نے Self-Efficacy کا تصور پیش کیا، جس کا مطلب ہے "اپنی صلاحیت پر یقین"۔ یہ یقین دوسروں کی تعریف یا حوصلہ افزائی سے پیدا نہیں ہوتا بلکہ اپنی مشکلات خود حل کرنے سے پیدا ہوتا ہے۔ ہر بار جب انسان کسی مشکل پر قابو پاتا ہے تو اس کا دماغ ایک مثبت پیغام محفوظ کرتا ہے کہ "میں یہ کر سکتا ہوں۔" یہی احساس آگے چل کر بڑی کامیابیوں کی بنیاد بنتا ہے۔
نفسیات میں ایک اور اہم اصطلاح Learned Helplessness (سیکھی ہوئی بے بسی) ہے، جسے مارٹن سیلگمین (Martin Seligman) نے متعارف کروایا۔ اگر انسان کو ہر وقت دوسروں کے سہارے پر رکھا جائے یا اسے اپنی صلاحیت آزمانے کا موقع نہ دیا جائے تو وہ آہستہ آہستہ یہ یقین کرنے لگتا ہے کہ وہ خود کچھ نہیں کر سکتا۔ لیکن جب وہ خود کوشش کرنا شروع کرتا ہے تو یہ بے بسی ختم ہونے لگتی ہے اور اس کی جگہ Learned Optimism (سیکھی ہوئی امید) جنم لیتی ہے، یعنی انسان یہ یقین پیدا کرتا ہے کہ محنت اور مسلسل کوشش سے حالات بدلے جا سکتے ہیں۔
اسی طرح ماہرِ نفسیات کیرول ڈویک (Carol Dweck) نے Growth Mindset کا نظریہ پیش کیا۔ اس نظریے کے مطابق کامیاب لوگ اپنی ناکامی کو اپنی قابلیت کی کمی نہیں سمجھتے بلکہ اسے سیکھنے کا موقع سمجھتے ہیں۔ اس کے برعکس Fixed Mindset رکھنے والے لوگ ایک ناکامی کے بعد خود کو ناکام انسان سمجھ لیتے ہیں اور کوشش کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔
ایک اور اہم نفسیاتی تصور Resilience (ذہنی لچک یا دوبارہ سنبھلنے کی صلاحیت) ہے۔ یہ وہ قوت ہے جو انسان کو گرنے کے بعد دوبارہ کھڑا ہونے کا حوصلہ دیتی ہے۔ جدید نفسیاتی تحقیق بتاتی ہے کہ وہ لوگ جو مشکلات کا سامنا کرتے ہیں، ان میں مستقبل کے مسائل سے نمٹنے کی صلاحیت زیادہ مضبوط ہو جاتی ہے۔ یعنی ہر مشکل انسان کو توڑتی نہیں، بلکہ اگر درست سوچ کے ساتھ اس کا سامنا کیا جائے تو وہ انسان کو پہلے سے زیادہ مضبوط بنا دیتی ہے۔
نفسیات میں Comfort Zone بھی ایک اہم تصور ہے۔ یہ وہ دائرہ ہے جہاں انسان کو سب کچھ محفوظ اور آسان محسوس ہوتا ہے۔ لیکن ترقی اس دائرے کے اندر نہیں بلکہ اس سے باہر ہوتی ہے۔ جب انسان کو مجبوراً اس دائرے سے نکلنا پڑتا ہے تو وہ Adaptive Thinking (مطابقت پیدا کرنے والی سوچ) اور Problem-Solving Skills (مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت) پیدا کرتا ہے۔ یہی صلاحیتیں بعد میں اس کی کامیابی کا سبب بنتی ہیں۔
ایک اور اہم اصطلاح Post-Traumatic Growth (PTG) ہے، جس کا مطلب ہے "مشکل یا صدمے کے بعد شخصیت کا مزید مضبوط ہو جانا"۔ ماہرین نے دیکھا کہ بعض لوگ بڑے صدموں، محرومیوں یا ناکامیوں کے بعد پہلے سے زیادہ سمجھدار، مضبوط، پُرامید اور بااعتماد بن جاتے ہیں۔ یعنی ہر تکلیف صرف زخم نہیں دیتی، بعض تکلیفیں انسان کو نئی شخصیت بھی عطا کرتی ہیں۔
فرض کریں ایک نوجوان کو ہر ملازمت کے لیے انکار ملتا ہے۔ اگر وہ ہر انکار کے بعد ہمت ہار دے تو وہ Learned Helplessness کا شکار ہو جائے گا۔ لیکن اگر وہ ہر انکار کے بعد نئی مہارت سیکھے، اپنی کمزوریاں دور کرے، اپنی شخصیت بہتر بنائے اور مسلسل کوشش جاری رکھے تو یہی انکار اس کے اندر Self-Efficacy، Resilience اور Growth Mindset پیدا کر دے گا۔ ایک وقت آئے گا جب وہ صرف نوکری ڈھونڈنے والا نہیں رہے گا بلکہ دوسروں کے لیے مواقع پیدا کرنے والا انسان بن سکتا ہے۔
اسی طرح اگر ایک طالب علم کو ہر سوال کا جواب فوراً بتا دیا جائے تو اس کا دماغ محنت کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ لیکن جب اسے خود تحقیق کرنے، غلطیاں کرنے اور جواب تلاش کرنے کا موقع ملتا ہے تو اس کی Critical Thinking (تنقیدی سوچ)، Cognitive Flexibility (ذہنی لچک) اور Creative Problem Solving (تخلیقی انداز میں مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت) مضبوط ہوتی ہے۔
زندگی کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ ہر محرومی نقصان نہیں ہوتی، ہر انکار دشمنی نہیں ہوتا اور ہر بند دروازہ ناکامی کی علامت نہیں ہوتا۔ بعض اوقات قدرت آپ سے سہارا اس لیے لے لیتی ہے تاکہ آپ کو اپنی طاقت کا احساس ہو۔ کیونکہ جب تک انسان دوسروں کے کندھوں پر چلتا رہتا ہے، اسے اپنے قدموں کی طاقت کا اندازہ نہیں ہوتا۔
یاد رکھیں، مستقل سہارا انسان کو آرام تو دے سکتا ہے، لیکن مضبوط نہیں بنا سکتا۔ مضبوط کردار اس وقت بنتا ہے جب انسان Self-Determination کے ساتھ فیصلے کرے، Self-Efficacy کے ساتھ اپنے اوپر یقین رکھے، Growth Mindset کے ساتھ سیکھتا رہے، Resilience کے ساتھ ہر مشکل کے بعد دوبارہ کھڑا ہو اور Post-Traumatic Growth کے ذریعے اپنی تکلیف کو اپنی طاقت میں بدل دے۔ یہی وہ راستہ ہے جو ایک عام انسان کو غیر معمولی انسان بنا دیتا ہے۔
*آج کی محنت، کل کا سکون ہے*
*
اگر آپ اپنے آنے والے کل کو بہتر، پُرسکون اور آسان بنانا چاہتے ہیں تو اس کے لیے آج ہی کچھ کرنا ہوگا۔ بہتر مستقبل خواہشوں سے نہیں، بلکہ آج کیے گئے فیصلوں، محنت اور قربانیوں سے بنتا ہے۔
ذرا غور کریں، آپ نے زندگی میں بے شمار ایسے درخت دیکھے ہوں گے جو کسی اور نے برسوں پہلے لگائے تھے، مگر آج ان کے سائے میں کوئی اور بیٹھا ہے اور ان کے پھل کوئی اور کھا رہا ہے۔ اگر وہ شخص اس وقت یہ سوچ کر بیٹھ جاتا کہ اس کی محنت کا پھل فوراً نہیں ملے گا، تو آج نہ وہ درخت ہوتا، نہ سایہ، نہ پھل۔
زندگی بھی اسی اصول پر چلتی ہے۔ آج کی محنت، کل کی آسانی ہے۔ آج کی قربانی، کل کا سکون ہے۔ اور آج کی منصوبہ بندی، کل کی کامیابی ہے۔
اگر آپ آج سستی، غفلت اور ٹال مٹول کو اپنا معمول بنا لیتے ہیں تو حقیقت میں آپ صرف آج کو نہیں، بلکہ اپنے آنے والے کل کو بھی نقصان پہنچا رہے ہوتے ہیں۔ کیونکہ مستقبل اچانک نہیں بنتا، وہ ہر دن کیے جانے والے چھوٹے چھوٹے فیصلوں اور مسلسل محنت کا نتیجہ ہوتا ہے۔
یاد رکھیں، جو شخص آج اپنے کل کے لیے بیج بوتا ہے، وہی کل کامیابی، سکون اور عزت کی فصل کاٹتا ہے۔ اگر آپ آج کچھ نہیں کرتے تو آپ درحقیقت اپنی زندگی کے دو دن ضائع کر رہے ہیں؛ ایک آج، اور دوسرا آنے والا کل۔ کیونکہ آج کی غفلت کل کی مجبوری بن جاتی ہے، جبکہ آج کی محنت کل کی آزادی اور سکون کا سبب بنتی ہے۔
*السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*
*پتّے کی پتھری کا مجرّب دیسی نسخہ* *
*فوائد* :
✅ پتھری کو تحلیل کر کے پتہ صاف کرتا ہے
✅ جگر کے سدے کھولتا ہے
✅ قبض دور کرتا ہے
✅ بھوک بڑھاتا ہے
✅ جسم میں چستی و تازگی پیدا کرتا ہے
✅الحمدللہ دس دن کے اندر واضح فرق محسوس ہوتا ہے۔
*ھوالشافی*
*اجزاء نسخہ*
کلونجی 50 گرام
مرمکی 50 گرام
ریوند خطائی 50 گرام
ریوند چینی 50 گرام
اجوائن دیسی 50 گرام
پودینہ 50 گرام
کپور کچری 200 گرام
چھوٹا شہد ایک پاؤ
*طریقہ تیاری*
تمام ادویات کو باریک کپڑچھان سفوف بنا لیں اور چھوٹے شہد میں مکس کرلیں ۔
*طریقہ استعمال:*
آدھی چائے کی چمچ صبح، شام
*
زندگی میں آنے والا ہر طوفان آپ کو بکھیرنے یا آپ کی زندگی کو تباہ کرنے کے لیے نہیں آتا۔ بعض طوفان اس لیے آتے ہیں کہ وہ آپ کے راستے میں کھڑی رکاوٹوں، غلط فہمیوں اور غیر ضروری بوجھ کو ہٹا دیں، تاکہ آپ اپنی منزل کی طرف زیادہ واضح اور مضبوط قدموں کے ساتھ بڑھ سکیں۔
اکثر انسان آزمائش کے وقت صرف تکلیف کو دیکھتا ہے، مگر وقت گزرنے کے بعد اسے احساس ہوتا ہے کہ جس مشکل کو وہ اپنی تباہی سمجھ رہا تھا، وہ دراصل اس کی زندگی کی نئی شروعات تھی۔ بعض لوگ چلے جاتے ہیں، کچھ مواقع ختم ہو جاتے ہیں، کچھ منصوبے ناکام ہو جاتے ہیں، لیکن یہی واقعات انسان کو اُس راستے پر لے جاتے ہیں جو اس کے لیے زیادہ بہتر ہوتا ہے۔
ہر آزمائش اپنے ساتھ ایک سبق، ایک نیا زاویۂ نظر اور ایک نئی طاقت لے کر آتی ہے۔ اگر انسان صبر، حکمت اور ثابت قدمی کے ساتھ ان حالات کا سامنا کرے تو یہی مشکلات اس کی شخصیت کو مضبوط، سوچ کو پختہ اور مقصد کو واضح کر دیتی ہیں۔
یاد رکھیں، طوفان ہمیشہ درخت گرانے نہیں آتے، بعض اوقات وہ سوکھے پتے بھی گرا دیتے ہیں تاکہ نئی کونپلیں نکل سکیں۔ اسی طرح زندگی کی بعض مشکلات آپ کو نقصان پہنچانے کے لیے نہیں، بلکہ آپ کو اُس مقام تک پہنچانے کے لیے آتی ہیں جہاں آپ پہلے سے زیادہ مضبوط، باشعور اور کامیاب بن سکیں۔
*ہاں، شدید گرمی سے ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔*
گرمی خود "ہارٹ اٹیک نہیں کرتی"، لیکن دل پر اتنا بوجھ ڈال دیتی ہے کہ جن لوگوں کو پہلے سے دل کا مسئلہ ہے، ان کا اٹیک ٹرِگر ہو سکتا ہے۔
*گرمی دل پر کیسے اثر کرتی ہے؟*
*1. دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے*
جب بہت گرمی ہو تو جسم خود کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے پسینے سے پانی نکالتا ہے۔ خون گاڑھا ہو جاتا ہے۔ اس گاڑھے خون کو پمپ کرنے کے لیے دل کو زیادہ زور لگانا پڑتا ہے۔ نتیجہ: دل پر بوجھ۔
*2. بلڈ پریشر گر یا بڑھ سکتا ہے*
گرمی میں خون کی نالیاں پھیل جاتی ہیں تاکہ جسم ٹھنڈا ہو۔ اس سے BP گر جاتا ہے۔ دماغ کو خون کم ملے تو چکر، بےہوشی۔
دوسری طرف، جسم پانی کی کمی پوری کرنے کے لیے BP بڑھا بھی دیتا ہے۔ دونوں صورتوں میں دل کے مریض کے لیے خطرہ۔
*3. پانی اور نمکیات کی کمی = Dehydration*
پسینے کے ساتھ سوڈیم، پوٹاشیم نکل جاتے ہیں۔ ان کی کمی سے دل کی دھڑکن بے ترتیب ہو سکتی ہے۔ یہی چیز ہارٹ اٹیک یا Arrhythmia کا سبب بنتی ہے۔
*4. خون گاڑھا ہو کر Clot بنتا ہے*
Dehydration سے خون گاڑھا ہوتا ہے۔ گاڑھا خون نالیوں میں آسانی سے جم جاتا ہے۔ اور دل کی نالی بند = ہارٹ اٹیک۔
*کون لوگ زیادہ Risk میں ہیں؟*
1. *پہلے سے دل کے مریض*: جن کو Stent، BP، شوگر ہے
2. *بزرگ*: 60+ عمر، کیونکہ جسم جلدی ٹھنڈا نہیں ہوتا
3. *باہر کام کرنے والے*: مزدور، رکشہ ڈرائیور، دھوپ میں کھڑے رہنے والے
4. *کچھ دوائیں لینے والے*: BP یا پیشاب آور دوائیں جسم سے پانی نکال دیتی ہیں
*گرمی میں دل بچانے کے لیے 5 باتیں*
1. *پانی پیتے رہیں*: پیاس لگنے سے پہلے۔ دن میں کم از کم 2-3 لیٹر۔ ORS بھی ٹھیک ہے۔
2. *دھوپ سے بچیں*: 11 بجے سے 4 بجے تک باہر نہ نکلیں۔ سر ڈھانپیں۔
3. *ہلکے کپڑے*: ڈھیلے، سوتی، ہلکے رنگ کے کپڑے پہنیں۔
4. *نمک پورا کریں*: کھانے میں نمک، دہی، لسی، پھل شامل کریں۔
5. *Warning Signs پہچانیں*: سینے میں درد، بائیں بازو میں درد، شدید پسینہ، متلی، سانس کی تنگی، اچانک تھکاوٹ۔ فوراً ڈاکٹر کو دکھائیں یا 1122 پر کال کریں۔
*اہم بات*: اگر آپ کو پہلے سے دل کا کوئی مسئلہ ہے، تو گرمی کی لہر میں ڈاکٹر سے اپنی دوا کا ڈوز چیک کروا لیں۔
*خلاصہ*: گرمی خود سے ہارٹ اٹیک نہیں کرتی، لیکن دل کے مریض کے لیے "ٹرگر" بن سکتی ہے۔ پانی + سایہ = حفاظت۔
*السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*
آج ہم آپ کو بتائیں گے:::
*مائگرین (آدھا سر درد) کیا ہے؟*
مائگرین ایک قسم کا شدید سر درد ہے جو عام طور پر آدھے سر کو متاثر کرتا ہے۔ یہ درد اکثر شدید اور چلنے پھرنے کے قابل نہیں ہونے والا ہوتا ہے۔ مائگرین کے حملے میں اکثر دیگر علامات بھی شامل ہوتی ہیں، جیسے متلی، قے، روشنی اور آواز کی حساسیت، اور دماغی دھندلا پن۔
🝆 *مائگرین کے ہونے کی وجوہات*
مائگرین کی اصل وجہ معلوم نہیں ہے، لیکن اس کی کئی ممکنہ وجوہات ہیں۔ ایک امکان یہ ہے کہ مائگرین عصبی نظام میں مادوں کی کمی یا زیادتی کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔ دوسرا امکان یہ ہے کہ مائگرین دماغ میں خون کی رگوں کے پھیلاؤ یا سکڑاؤ سے ہو سکتا ہے۔
مائگرین کے ہونے کے لیے کچھ ممکنہ محرکات میں شامل ہیں:
🝆 غذائی محرکات، جیسے شراب، کافی، چائے، یا کچھ خاص قسم کا کھانا
🝆 نیند کی کمی یا زیادتی
🝆 ماحولیاتی محرکات، جیسے روشنی، آواز، یا ہوا میں تبدیلی
🝆ہارمونل تبدیلیاں، جیسے مون ٹائم یا حاملہ ہونا
🝆 شدید ذہنی تناؤ
🝆 *مائگرین کا بغیر دوائی علاج*
مائگرین کے حملوں کو روکنے یا ان کو کم کرنے کے لیے کئی غیر دوائی علاجات دستیاب ہیں۔ ان میں شامل ہیں:
🝆 *غذائی تبدیلیاں:* کچھ لوگوں کو مائگرین کے حملوں کو کم کرنے کے لیے اپنی غذا میں تبدیلیاں کرنے سے مدد مل سکتی ہے۔ اس میں شراب، کافی، چائے، یا کچھ خاص قسم کے کھانے سے پرہیز کرنا شامل ہو سکتا ہے۔
🝆 *نیند کی عادات کو بہتر بنانا:* نیند کی کمی یا زیادتی مائگرین کے حملوں کو بڑھا سکتی ہے۔ رات کو 7-8 گھنٹے کی مسلسل نیند لینے کی کوشش کریں۔
🝆 *ماحولیاتی محرکات سے بچنا:*
روشنی، آواز، یا ہوا میں تبدیلیوں سے مائگرین کے حملوں کو بڑھا سکتا ہے۔ ان محرکات سے بچنے کے لیے اقدامات کریں۔
🝆 *تناؤ کو کم کرنا:* تناؤ مائگرین کے حملوں کو بڑھا سکتا ہے۔ آرام دہ اور پرسکون ہونے کے طریقے تلاش کریں، جیسے ورزش، یوگا، یا مراقبہ۔
اگر آپ کو مائگرین کے حملے کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تو آپ کچھ چیزیں کر سکتے ہیں جو درد کو کم کرنے میں مدد کر سکتی ہیں۔ ان میں شامل ہیں:
🝆 *تاریک، پرسکون کمرے میں آرام کریں۔*
🝆 *سرد کمپرس یا ٹکور کریں۔*
🝆 *پانی یا دیگر سیال پئیں ۔*
🝆 *ایک غیر دوائی درد کی دوا لیں۔*
اگر آپ کے مائگرین کے حملے شدید ہوں یا آپ کو ہر روز سر درد ہو رہا ہو، تو کسی اچھے طبیب سے اس کا علاج کروائیں۔
کیونکہ ڈاکٹر حضرات تو صرف درد کی گولی
*(Pain Killer Tablets)*
دیکر عارضی علاج کر دیتے ہیں مگر اس مرض سے مستقل چھٹکارا نہیں ملتا۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
34030
Opening Hours
| Monday | 10:00 - 15:00 |
| Tuesday | 10:00 - 15:00 |
| Wednesday | 10:00 - 15:00 |
| Thursday | 10:00 - 15:00 |
| Saturday | 10:00 - 15:00 |
| Sunday | 10:00 - 15:00 |