What Quran Says

What Quran Says

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from What Quran Says, Kot Addu.

یہ پیج قرآن و سنت کی روشنی میں خالص اسلامی تعلیمات کے لیے ہے۔ یہاں فرقہ فری انداز میں درست ترجمہ، قرآنی دعائیں اور صحیح احادیث پیش کی جاتی ہیں۔ ہمارا مقصد ہے — جاننا کہ قرآن کیا کہتا ہے
فرقہ فری اسلام

23/06/2026

کیا ہم نے اللہ کے دین کو تاریخ کی کہانیوں میں قید کر دیا ہے؟ (ایک فکری جائزہ)
مثال کے طور پر👇

ہم اکثر سنتے آرہے ہیں کہ پہلا قبلہ مسجد الاقصیٰ (یروشلم )تھا اور پھر مکہ ہوا لیکن کیا ہم نے کبھی قرآن کو خود پڑھ کر دیکھا؟
المیہ یہ ہے کہ ہمارے علماء قرآن کی ایک آیت کے ترجمہ میں معنوی تحریف کر کے اپنی بنائی ہوئی تاریخی روایات کو سچ ثابت کرنے کے لیے اسے قبلہ کی تبدیلی کا نام دیتے ہیں۔
وہ آیت جس میں تحریف کر کے "قبلہ تبدیلی" کا مفہوم نکالا جاتا ہے
عربی آیت
سَيَقُولُ السُّفَهَاءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلَّاهُمْ عَن قِبْلَتِهِمُ الَّتِي كَانُوا عَلَيْهَا ۚ قُل لِّلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ ۚ يَهْدِي مَن يَشَاءُ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ
ترجمہ
نادان لوگ کہیں گے کہ کس چیز نے انہیں اس قبلہ سے پھیر دیا جس پر وہ تھے؟ آپ کہہ دیجیے کہ مشرق اور مغرب اللہ ہی کا ہے، وہ جسے چاہتا ہے سیدھے راستے کی طرف ہدایت دیتا ہے۔(سورۃ البقرہ: 142)

علماء یہاں "قبلتہم" (ان کے قبلہ) سے مراد یروشلم لیتے ہیں اور اسے ایک جغرافیائی تبدیلی قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ قرآن یہاں کسی شہر یا عمارت کی تبدیلی کی بات نہیں کر رہا، بلکہ یہاں بات ہو رہی ہے مثال کے طور پر ایک بھٹکا ہوا انسان جو قرآن نہیں جانتا سنی سنائی باتوں کو دین سمجھتا رہا اور پھر جب اسے الله پاک کے کلام سے اس پر حقیقت عیاں ہوئی تو اس نے اپنا رخ مکہ کی طرف کر لیا اور اپنا قبلہ درست کر لیا تو اس انسان کا پہلے جو قبلہ تھا یعنی گمراہی پر تھا اور سیدھے راستہ پر چل پڑا تو نادان لوگ کہنے لگے کہ کس چیز نے انھیں اس قبلہ سے پھیر دیا جس پر وہ پہلے تھے ۔۔۔۔
مثال کے طور پر اکثر آپ نے بڑوں کو کہتے سنا ہوگا کہ اپنا قبلہ درست کرو وغیرہ۔۔۔ یعنی پہلا قبلہ قبر پرستی ، فرقہ واریت وغیرہ

اللہ نے خود اس آیت میں ان لوگوں کو جواب میں واضح کر دیا کہ مشرق اور مغرب (ساری زمین) اللہ کی ہے وہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جب انسان گمراہ ہوتا ہے تو اس کا اپنا ایک قبلہ ہوتا ہے
اور جب وہ ہدایت کی طرف لوٹتا ہے تو نادان لوگ کہتے ہیں کہ کس نے اسے اس قبلہ سے پھیر دیا جس پر وہ پہلے تھا جو یہ بات کہتے ہیں وہ بڑے نادان لوگ خود گمراہ ہوتے ہیں ۔۔۔

إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِّلْعَالَمِينَ

ترجمہ
بے شک سب سے پہلا گھر جو لوگوں کے لیے (عبادت گاہ کے طور پر) بنایا گیا، وہی ہے جو بکہ (مکہ) میں ہے، برکت والا اور جہانوں کے لیے ہدایت۔ (سورۃ آل عمران: 96)
تشریح
اگر اللہ خود فرما رہا ہے کہ زمین پر پہلا مرکز ہی بکہ (مکہ) ہے، تو پھر یہ قبلہ اول مسجد الاقصیٰ (یروشلم) کا نظریہ کہاں سے آیا؟ صاف ظاہر ہے کہ یہ ان روایات کا سہارا ہے جو قرآن کے بیان کردہ حقائق کو مسخ کرنے کے لیے گڑھی گئی ہیں۔
فکر کی بات ہے کہ علماء ایک طرف قرآن کی ان آیات کا ترجمہ کرتے ہیں اور دوسری طرف روایات کے سہارے اس میں ایسی تاویلیں ٹھونس دیتے ہیں جن سے دین ایک جغرافیائی نقشے کا نام بن کر رہ جاتا ہے۔ وہ آیت 142 میں "قبلتہم" کی تشریح میں تحریف کرتے ہوئے اسے ایک تاریخی واقعے میں بدل دیتے ہیں تاکہ اپنی بنائی ہوئی روایات کو بچا سکیں۔ قرآن کسی تاریخی قصے کا محتاج نہیں، بلکہ وہ اپنی وضاحت خود کرتا ہے۔ جس دن ہم نے قرآن کو روایات کی عینک اتار کر پڑھ لیا، اس دن یہ تمام "اختلافی قبلے" خود بخود ختم ہو جائیں گے۔

دعا🤲🤲🤲🤲🤲

اے ہمارے رب! ہمیں ان لوگوں کے شر سے بچا جو تیری آیات میں معنوی تحریف کر کے اپنی من مانی روایات کو دین کا نام دیتے ہیں۔ ہمارے دلوں اور دماغوں کو ان تمام تعصبات سے آزاد کر دے جو ہمیں تیری سیدھی راہ سے دور رکھتے ہیں۔ ہمیں اتنی بصیرت عطا فرما کہ ہم تیرے کلام کی گہرائی کو سمجھ سکیں اور کسی بھی روایت کو تیری کتاب پر ترجیح نہ دیں۔ اے اللہ! ہمیں حق پر ثابت قدم رکھ۔ آمین۔

23/06/2026

آج ہم ایک اور انتہائی اہم موضوع پر غور کریں گے جو ہر انسان کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے: دین میں کسی بھی قسم کی زبردستی کا نہ ہونا اور ہدایت کا راستہ بالکل واضح ہو جانا۔
اکثر لوگ اس بات میں الجھے رہتے ہیں کہ دین کو زبردستی منوایا جائے یا یہ کوئی داخلی تبدیلی کا نام ہے۔ آئیے قرآن کی روشنی میں اس کا مطالعہ کرتے ہیں۔

عربی آیت
لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ ۖ قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ ۚ فَمَن يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِن بِاللَّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَىٰ لَا انفِصَامَ لَهَا ۗ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
اردو ترجمہ
دین (کو قبول کروانے) میں کوئی زبردستی نہیں ہے، تحقیق ہدایت گمراہی سے الگ ہو کر واضح ہو چکی ہے، پس جو کوئی طاغوت کا انکار کرے اور اللہ پر ایمان لائے تو اس نے ایک ایسا مضبوط کڑا تھام لیا جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں، اور اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔ (سورۃ البقرہ: 256)
تشریح
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایک بنیادی قاعدہ دیا ہے کہ دین میں جبر نہیں ہو سکتا۔ ہدایت کا راستہ (رشد) اور گمراہی کا راستہ (غی) دونوں اتنے واضح کر دیے گئے ہیں کہ اب کسی کو زبردستی ایمان میں لانے کی ضرورت نہیں ہے۔ جس نے اللہ کے سوا ہر اس نظام (طاغوت) کا انکار کیا جو انسانوں کو اللہ کی مرضی کے خلاف چلاتا ہے، اسی نے درحقیقت دین کو تھام لیا ہے۔

عربی آیت
وَقُلِ الْحَقُّ مِن رَّبِّكُمْ ۖ فَمَن شَاءَ فَلْيُؤْمِن وَمَن شَاءَ فَلْيَكْفُرْ
اردو ترجمہ
اور کہہ دیجیے کہ (یہ) حق تمہارے رب کی طرف سے آ چکا ہے، پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے انکار کر دے۔ (سورۃ الکھف: 29)
تشریح
یہ آیت پچھلی بات کی تصدیق کرتی ہے کہ اللہ نے اپنی بات (حق) پہنچا دی ہے۔ اب یہ انسان کی اپنی مرضی ہے کہ وہ اسے تسلیم کر کے ایمان لائے یا اس سے منہ موڑ لے۔ یہاں کسی قسم کی جبری اطاعت کا تصور نہیں، کیونکہ ایمان تب ہی ایمان ہے جب وہ دل سے ہو اور مکمل شعور کے ساتھ ہو۔

عربی آیت
أَفَمَن يَمْشِي مُكِبًّا عَلَىٰ وَجْهِهِ أَهْدَىٰ أَمَّن يَمْشِي سَوِيًّا عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ
اردو ترجمہ
پھر کیا وہ شخص جو اوندھے منہ چل رہا ہو زیادہ ہدایت یافتہ ہے، یا وہ جو سیدھی راہ پر (سیدھا) چل رہا ہو؟ (سورۃ الملک: 22)

تشریح
یہ آیت ہمیں سمجھاتی ہے کہ ہدایت ایک طریقہ کار ہے۔ جو شخص حق کو چھوڑ کر اپنی من مانی یا طاغوتی نظاموں کی پیروی کرتا ہے، وہ اوندھے منہ چلنے والے کی طرح ہے یعنی اس کا مقصد اور راستہ دونوں غلط ہیں۔ اس کے برعکس، جس نے قرآن کی روشنی میں سیدھا راستہ (صراطِ مستقیم) چن لیا، وہی حقیقت میں ہدایت پر ہے۔

عربی آیت
قَدْ جَاءَكُم بَصَائِرُ مِن رَّبِّكُمْ ۖ فَمَنْ أَبْصَرَ فَلِنَفْسِهِ ۖ وَمَنْ عَمِيَ فَعَلَيْهَا ۚ وَمَا أَنَا عَلَيْكُم بِحَفِيظٍ
اردو ترجمہ
تحقیق تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے بصیرتیں آ چکی ہیں، پس جس نے (انہیں) دیکھ لیا (تو) اپنے ہی فائدے کے لیے، اور جس نے اندھا پن اختیار کیا تو (اس کا نقصان) اسی پر ہے، اور میں تمہارے اوپر نگران نہیں ہوں۔ (سورۃ الانعام: 104)

تشریح
یہ آیت اس گفتگو کا نچوڑ ہے کہ اللہ نے قرآن کے ذریعے بصیرتیں (آنکھیں کھولنے والی حقیقتیں) دے دی ہیں۔ اب اگر کوئی حق کو دیکھ کر بھی اندھا بنتا ہے، تو اس کا وبال اسی پر ہے۔ اللہ کا رسول یا دین کا مبلغ کسی پر زبردستی کرنے کے لیے نہیں، بلکہ صرف حق واضح کرنے کے لیے ہے۔

دعا
اے ہمارے پروردگار! ہمیں وہ بصیرت عطا فرما کہ ہم حق اور گمراہی کے فرق کو تیری کتاب کی روشنی میں دیکھ سکیں۔ ہمارے دلوں کو اتنا مضبوط کر دے کہ ہم طاغوت کا انکار کر کے تیری رسی کو مضبوطی سے تھام لیں۔ اے اللہ! ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما جو تیری ہدایت کو اپنی آنکھوں کا نور سمجھتے ہیں اور سیدھے راستے پر ثابت قدم رہتے ہیں۔ ہمیں اپنی زندگی کے ہر فیصلے میں تیری کتاب کو میزان بنانے کی توفیق عطا فرما۔ آمین

23/06/2026

ہمارے بچپن میں ایک ٹی وی شو لگتا تھا
جس کا نام تھا طارق عزیز شو
طارق عزیز صاحب بہت ہی عظیم انسان تھے اور سچے انسان تھے۔۔۔
مجھے ان کی ایک بات آج بھی یاد ہے جو وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ ہمارے بچوں کو گمراہ کیا جارہا ہے دین سے دور کیا جا رہا ہے
قرآن پاک کی عربی تو مولوی پڑھا رہا ہے لیکن ترجمہ نہیں پڑھا رہا یعنی الله پاک کے احکامات سے دور رکھا جا رہا ہے
آج جب معاشرے کی طرف دیکھتا ہوں تو واقعی ہماری نسلیں برباد ہو چکی ہیں ۔۔۔

آج کا ہمارا مطالعہ قرآن مجید کی اس بنیادی حقیقت پر مرکوز ہے کہ ۔۔قرآن انسان کے لیے ہدایت کیسے بنتا ہے؟
اکثر ہم قرآن تو پڑھتے ہیں، مگر اس سے وہ ہدایت نہیں پا سکتے جس کا اللہ نے وعدہ کیا ہے۔ آج ہم دیکھیں گے کہ قرآن خود اپنے آپ کو کیسے سمجھنے کا حکم دیتا ہے اور وہ کون سا راستہ ہے جس پر چل کر ہم اللہ کے کلام کے حقیقی مفہوم تک پہنچ سکتے ہیں۔
آئیے، سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 2 سے اس سفر کا آغاز کرتے ہیں۔

ہدایت کا حصول
عربی آیت
ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ ۛ فِيهِ ۛ هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ
اردو ترجمہ
یہ وہ کتاب ہے جس میں کسی شک کی کوئی گنجائش نہیں، یہ تقویٰ اختیار کرنے والوں کے لیے ہدایت ہے۔
تشریح و تفسیر (قرآن کی روشنی میں)
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ہدایت کے لیے ایک اہم شرط رکھی ہے—"متقین"۔ اب سوال یہ ہے کہ متقی کون ہے اور اسے ہدایت کیسے ملتی ہے؟ قرآن خود بتاتا ہے کہ تقویٰ دراصل حق کو قبول کرنے کی ایک کیفیت کا نام ہے۔

ہدایت پانے والوں کی پہچان
عربی آیت
إِنَّمَا يَسْتَجِيبُ الَّذِينَ يَسْمَعُونَ ۘ وَالْمَوْتَىٰ يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ ثُمَّ إِلَيْهِ يُرْجَعُونَ
اردو ترجمہ
بات صرف یہ ہے کہ وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو (حق کو) سنتے ہیں، اور مردوں کو تو اللہ ہی اٹھائے گا۔(سورۃ الانعام: 36)
تشریح
یہاں سننے سے مراد کانوں سے آواز کا ٹکرانا نہیں، بلکہ حق کو دل میں جگہ دینا ہے۔ جو لوگ تعصبات کی قبروں میں دفن ہو چکے ہوں، ان کے لیے ہدایت تب تک ممکن نہیں جب تک وہ اپنی ضد چھوڑ کر حق سننے کے لیے تیار نہ ہوں۔ قرآن واضح کر رہا ہے کہ ہدایت کا تعلق عقل سے زیادہ نیت اور قبولیت سے ہے۔

قرآن کو سمجھنے کا معیار (فرقان)👇👇👇
عربی آیت
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَتَّقُوا اللَّهَ يَجْعَل لَّكُمْ فُرْقَانًا وَيُكَفِّرْ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ۗ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ
اردو ترجمہ
اے ایمان والو! اگر تم تقویٰ اختیار کرو گے تو اللہ تمہارے لیے (حق و باطل میں) فرق کرنے والی صلاحیت (فرقان) پیدا کر دے گا اور تم سے تمہاری برائیاں دور کر دے گا اور تمہیں معاف کر دے گا۔ اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔ (سورۃ الانفال: 29)
تشریح۔۔
اس آیت سے یہ راز کھلتا ہے کہ قرآن کا وسیع علم کیسے حاصل ہوگا؟ اللہ فرماتا ہے کہ اگر تم اللہ کے ڈر (تقویٰ) کے ساتھ قرآن پڑھو گے، تو میں تمہیں "فرقان" دوں گا۔ فرقان کا مطلب ہے ایسی بصیرت جس سے انسان حق اور باطل کو پہچان لے۔ یعنی قرآن کو سمجھنے کے لیے کسی اور کی تفسیر کے بجائے، اللہ سے تقویٰ مانگنا زیادہ ضروری ہے۔ جب دل صاف ہوگا، تو قرآن کی آیات خود ایک دوسرے کی تفسیر بن جائیں گی۔

آیت۔۔۔
أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ ۚ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِندِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا

اردو ترجمہ
کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے؟ اگر یہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو وہ اس میں بہت سا اختلاف پاتے۔ (سورۃ النساء: 82)

تشریح
یہ آیت قرآن کے مطالعے کا سب سے اہم اصول بیان کرتی ہے۔ اگر ہمیں کسی آیت میں ابہام لگے، تو ہمیں کسی انسانی رائے کی طرف بھاگنے کے بجائے قرآن کے اندر ہی غور کرنا چاہیے۔ قرآن خود اپنے آپ کو واضح کرتا ہے اور اس میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ اصل علم وہی ہے جو قرآن کے تمام حصوں کو جوڑ کر حاصل کیا جائے۔

دعا🤲🤲🤲🤲

اے ہمارے رب! ہمیں اپنی اس کتاب کو صحیح معنوں میں سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما۔ ہمارے دلوں کو تعصب اور ضد سے پاک کر دے تاکہ ہم صرف تیری بات کو حق سمجھ کر قبول کر سکیں۔ ہمیں وہ "فرقان" عطا کر جس کے ذریعے ہم تیری مرضی کو پہچان سکیں۔ اے اللہ! ہم تیری ہی طرف سے ہدایت مانگتے ہیں، ہماری رہنمائی فرما۔ آمین۔

08/04/2026

سورہ العلق (96)، آیت نمبر 16

​عربی آیت

​نَاصِيَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ

​لفظ بہ لفظ معنی
عربی لفظ اردو معنی
نَاصِيَةٍ پیشانی (ماتھے کے بال)
كَاذِبَةٍ جو جھوٹی ہے
خَاطِئَةٍ جو خطا کار ہے

ترجمہ اردو۔۔۔👇👇👇
ایسی پیشانی جو جھوٹی (اور) سخت خطا کار ہے۔

تشریح و تفسیر 👇👇👇

پیشانی (نَاصِيَةٍ) کی حقیقت:۔۔

قرآن میں ناصیہ یا پیشانی کا ذکر اس مقام کے طور پر کیا گیا ہے جہاں سے انسان فیصلے کرتا ہے یا جہاں سے اس کی سوچ و فکر کا مرکز وابستہ ہے۔ یہ انسان کے تکبر اور سرکشی کی علامت بھی ہے۔

​جھٹلانے کا انجام:۔۔۔۔

یہ آیت اس شخص کی طرف اشارہ کرتی ہے جو حق کی دعوت اور اللہ کے پیغام کو جھٹلاتا ہے (جیسا کہ اس سے پہلی آیات میں ذکر ہوا)۔ جب انسان حق کو جان لینے کے بعد بھی اسے تسلیم نہیں کرتا، تو اس کی سوچ (پیشانی) کاجذبہ (جھوٹی) ہو جاتی ہے۔

​خطا کاری (خاطِئَة):۔۔

یہاں خطا کاری سے مراد محض بھول چوک نہیں، بلکہ جان بوجھ کر حق کے راستے سے ہٹنا اور اللہ کے احکامات کی نافرمانی پر اصرار کرنا ہے۔

​ذلت کا نشان..

اللہ کے قانون میں جو شخص حق کو روکنے کی کوشش کرتا ہے، وہ اپنی اسی پیشانی یا سوچ کی وجہ سے ذلت اور پکڑ کا مستحق ٹھہرتا ہے۔ یہ آیت واضح کرتی ہے کہ انسان کے افعال اس کی باطنی سچائی یا جھوٹ کا عکاس ہوتے ہیں، اور سرکش انسان کی علامت اس کا حق سے انکار کرنا ہے۔

07/02/2026

سورہ الحجرات (آیت: 2)

عربی لفظ اردو معنی
يَا أَيُّهَا اے
الَّذِينَ وہ لوگ جو / جو کہ
آمَنُوا ایمان لائے
لَا تَرْفَعُوا تم بلند نہ کرو / اونچی نہ کرو
أَصْوَاتَكُمْ اپنی آوازیں
فَوْقَ اوپر / پر
صَوْتِ آواز
النَّبِيِّ نبی (خبر دینے والے)
وَلَا تَجْهَرُوا اور نہ تم پکار کر بولو / زور سے بولو
لَهُ ان کے لیے / ان سے
بِالْقَوْلِ بات کے ساتھ / کلام میں
كَجَهْرِ جیسے پکارنا / جیسے زور سے بولنا
بَعْضِكُمْ تم میں سے بعض کا (ایک دوسرے کا)
لِبَعْضٍ بعض کے لیے (ایک دوسرے سے)
أَن تَحْبَطَ کہ کہیں ضائع نہ ہو جائیں
أَعْمَالُكُمْ تمہارے اعمال
وَأَنْتُمْ اور تم
لَا تَشْعُرُونَ تم شعور نہیں رکھتے / تمہیں خبر نہ ہو

سورہ الحجرات (آیت: 2)
​يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ
​محمد شیخ کے مطابق ترجمہ:
​"اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اپنی آوازوں کو النبی (اللہ کی طرف سے خبر دینے والے) کی آواز سے بلند نہ کرو، اور نہ ان سے بات کرتے ہوئے اس طرح چلا کر (زور سے) بولو جیسے تم ایک دوسرے سے (آپس میں) چلا کر بولتے ہو، (ایسا نہ ہو) کہ تمہارے اعمال ضائع (اکارت) ہو جائیں اور تمہیں اس کا شعور (احساس) بھی نہ ہو۔

29/10/2025

عنوان 👇

میں خدا سے لڑ نہیں رہا۔۔۔ بس سمجھنے کی کوشش میں ہوں

🌿

میں بس یہ سمجھنے میں لگا ہوں
کہ جو چیزیں ٹوٹتی ہیں،
وہ ہمیں مضبوط کیوں بنا دیتی ہیں۔

میں پوچھتا نہیں کہ “کیوں میرے ساتھ؟”
میں صرف دیکھ رہا ہوں
کہ مجھے کس طرف لے جایا جا رہا ہے۔

کبھی دعا دیر سے پوری ہوتی ہے،
کبھی خواہش کا جنازہ اٹھ جاتا ہے۔
لیکن میں پھر بھی رکا نہیں…
کیونکہ میرے اور رب کے درمیان
خاموشی بھی ایک رابطہ ہے۔

جو دکھ آج میرا ہے،
کل شاید میرا راستہ بن جائے۔
اور تب مجھے سمجھ آئے
کہ رب نے کوئی غلطی نہیں کی تھی…
میں ہی جلدی میں تھا۔
Hashtags:

29/10/2025

آج کا دجالی دور — اصل مسئلہ کہاں سے شروع ہوا؟

ہم قرآن کو مانتے تو ہیں…
لیکن سمجھ کر نہیں پڑھتے۔
اللہ نے یہ کتاب ہمارے لئے نازل کی تھی،
مگر ہم نے اسے بس عالموں اور مولویوں کی تحویل میں دے دیا۔

بازاروں میں بھی قرآن ملتا ہے،
لیکن عقلوں میں اس کی روشنی کم ہوتی جا رہی ہے۔
کسی نے ڈرایا کہ:
ڈائریکٹ قرآن پڑھو گے تو گمراہ ہو جاؤ گے
یوں لوگوں نے کتابِ ہدایت سے ہی دوری اختیار کر لی۔

جب انسان حق سے دور ہوتا ہے
تو باطل اسے فوراً گھیر لیتا ہے۔
خواہش خدا بن جاتی ہے
اور شیطان اس خواہش کو راستہ بنا دیتا ہے۔

کیا تم نے اسے دیکھا جس نے اپنی خواہش کو اپنا خدا بنا لیا؟”
(سورۃ الجاثیہ 45:23)

یہی سے دجالی فتنہ پیدا ہوا۔
علم ختم…
جہالت کا دور شروع۔
اور شیطان کا نظام مضبوط ہوتا گیا۔

فتنہ کیسے بڑھا؟

آج سوشل میڈیا ہر گھر میں ہے،
اور ہر خواہش ایک سوائپ پر۔
لوگ دوسری زندگیوں سے مقابلہ کرتے کرتے
اپنی زندگی بھول گئے ہیں۔

دنیا کی زندگی تو صرف کھیل اور تماشہ ہے”
(سورۃ الانعام 6:32)

شہرت چاہیے…
دولت چاہیے…
اور وہ بھی فوراً۔
محنت کے بغیر، ایمان کے بغیر۔

جب دل میں اللہ کی جگہ خالی ہو
تو شیطان آکر بیٹھ جاتا ہے۔
اور پھر:

دوسروں کا حق کھانا بھی جرم نہیں لگتا

عزتیں پامال کرنا طاقت سمجھا جاتا ہے

ظلم روکنے والے کم اور دیکھنے والے زیادہ

گناہ معمول، نیکی عجیب لگتی ہے

وہ دنیا کی قیمت پر آخرت بیچ دیتے ہیں”
(سورۃ البقرہ 2:86)

سب سے بڑا المیہ: سچ کی آواز دبانا

جو قرآن کی طرف واپس بلائے
اسے چپ کرایا جاتا ہے۔
کیونکہ سچ ان خواہشوں کے بت توڑ دیتا ہے
جو لوگوں نے دل میں بنا رکھے ہیں۔

وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو بجھا دیں
مگر اللہ اپنے نور کو پورا کر کے رہے گا”
(سورۃ الصف 61:8)

یہی دجالی نظام کی جڑ ہے:
حق چھپاؤ، باطل کو چمکاؤ۔

انجام کیا ہے؟

زندگی ختم بھی ہوگی
اور اللہ کے سامنے کھڑا ہونا بھی پڑے گا۔

جو دنیا میں اندھا رہا
وہ آخرت میں بھی اندھا اٹھایا جائے گا
(سورۃ الاسراء 17:72)

یہ دنیا تھوڑی ہے
آخرت ہمیشہ ہے۔
جو ہمیشہ والی برباد کرے…
وہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔

نجات کہاں ہے؟ (حل)

قرآن کو سمجھ کر پڑھنا شروع کرو

نماز چھوڑنا نہیں

رزق کو اللہ کا حق سمجھو

سچ کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ

اپنی خواہش کو کنٹرول کرو، اپنا خدا نہ بناؤ

جو میری یاد سے منہ موڑے گا
اس کی زندگی تنگ کر دی جائے گی
(سورۃ طہٰ 20:124)

راجع ہونا ہے تو اسی کتاب کی طرف جہاں سے ہم بھٹک گئے تھے۔
ہدایت ہمیشہ سے یہیں پڑی ہوئی ہے…
بس کھول کر دیکھنے کی دیر ہے۔

26/10/2025

25/10/2025

پیور دینِ اسلام

فتنوں کے طوفان میں حق کی پہچان

آج لوگ مسجدوں میں بھیڑ کی طرح موجود ہیں، مگر دلوں میں اللہ کا خوف کم ہوتا جاتا ہے۔
عبادات بڑھ گئیں، مگر عبودیت گم ہو گئی۔
اسلام زبانوں پر ہے، مگر کردار زندگی سے غائب۔

یہ وہ دور ہے جس کے بارے میں قرآن نے پہلے ہی متنبہ کر دیا تھا:

> “وَمَا أَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ”
اکثر لوگ، چاہے تم کتنی محنت کر لو، ایمان لانے والے نہیں ہوتے۔
— سورہ یوسف: 103

آج اسلام دکان بن گیا ہے،
اور دین کی بات ریٹنگ اور شہرت کے ترازو میں تولی جاتی ہے۔

---

اسلام پر کاروبار — سب سے بڑا دھوکہ

اللّٰہ کے دین کو اپنی مرضی کے مطابق بیچنے والے…
حق کو چھپاتے ہیں، تاکہ ان کی کمائی اور پیروی کم نہ ہو:

> “وَلَا تَشْتَرُوا بِآيَاتِي ثَمَنًا قَلِيلًا”
میری آیات کو تھوڑی قیمت پر نہ بیچو۔
— سورہ بقرہ: 41

یہ لوگ دین کی اصل نہیں پیش کرتے…
صرف وہ باتیں جو ان کے مفاد میں ہوں۔

امت ٹوٹ چکی ہے —
کوئی خود کو بڑا سنی، کوئی بڑا شیعہ،
کوئی اپنے استاد کو قرآن سے زیادہ مانتا ہے۔

اللہ نے تو صرف ایک ہی حکم دیا تھا:

> “وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا”
سب مل کر اللہ کی رسی (قرآن) کو مضبوطی سے تھام لو
اور تفرقہ نہ ڈالو۔
— سورہ آل عمران: 103

مگر ہم نے قرآن چھوڑ کر ناموں اور گروہوں کی رسی تھام لی۔

---

فتنہ: جب دل گناہ کو دین سمجھ لے

آج برائی کو ٹرینڈ بنا کر اپنے یوٹیوب چینلز پر پیش کیا جاتا ہے اور نیکی کو “قدامت پرستی” کہا جاتا ہے۔
حق کا مذاق اُڑایا جاتا ہے،
باطل کو تہذیب کا نام دیا جاتا ہے۔

> “فَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ أَعْمَالَهُمْ”
شیطان نے ان کے اعمال ان کی نظروں میں خوبصورت بنا دیے۔
— سورہ النمل: 24

پہلے لوگ گمراہی سے ڈرتے تھے،
آج گمراہی فخر سمجھ لی گئی ہے۔

---

دین کی اصل — سادگی اور سچائی

بندگی صرف اللہ کے لیے

فیصلہ صرف قرآن کی روشنی میں

اخلاق محمد ﷺ کی سنت کے مطابق

بغیر دکھاوے کی عبادت

ہر انسان کی عزت

> “إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللّٰهِ الْإِسْلَامُ”
اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے۔
— سورہ آل عمران: 19

اسلام میں پیچیدگی نہیں، ہم نے مشکل بنا رکھا ہے۔

---

بہتری کہاں سے شروع ہو؟

اصلاح فیس بک پوسٹ سے نہیں،
خود سے شروع ہوتی ہے۔

دل صاف کر لو

عمل میں سچائی لے آؤ

قرآن کو روز کی زندگی میں اتارو

دین کو سیاست اور بازار کا غلام نہ بناؤ

کسی پر کفر کا حکم لگانے سے پہلے اپنی نیت دیکھو

اسلام کے دشمن باہر نہیں —
اندر بیٹھے ہوئے ہیں۔

---

آخری بات

یہ دنیا دھوکہ ہے۔
جو اصل ہے… وہ یقین ہے، ایمان ہے، عمل ہے۔

> “قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ”
ایمان والے کامیاب ہو گئے۔
— سورہ المؤمنون: 1

جس نے خالص اسلام پا لیا،
وہ قیمتی بن گیا…
چاہے دنیا اسے نہ پہچانے۔

25/10/2025

علم و دولت اور اخلاقیات

ہم جانتے ہیں کہ دولت (مال و ثروت) اور علم (تعلیم) دونوں کا حصول برا نہیں، بلکہ اکثر اوقات ضروری اور مفید ہیں۔ مگر وقتی تناظر میں ایک تضاد دیکھنے کو ملتا ہے: انسان تعلیم حاصل کر لیتا ہے، دولت اکٹھی کر لیتا ہے، مگر اخلاقیات — ایمانداری، اعتدال، رحم، انصاف — وہ کم رہ جاتی ہیں۔ نتیجہ؟ دولت اور علم تو ہیں، مگر اندرونی قوت، کردار کی عظمت اور عملی نیکیاں نہیں۔
یہ وہ کیفیت ہے جسے قرآنی انداز میں “وسوسہ”، “گرنا” یا “ختم ہو جانا” کہا گیا ہے۔

---

دولت، علم اور اخلاقیات — داخلی تضاد

جب دولت بے تحاشا ہو اور علم بھی دستیاب ہو، مگر اخلاقیات ضعیف ہوں، تو چند خطرناک نتائج سامنے آتے ہیں:

انسان اپنے علم سے غرور کرے، اپنی دولت سے تکبر کرے، جبکہ اپنے کردار کی کمزوریوں پر کور دار رہے۔

علم و دولت کو صرف ذاتی فائدے، یا دکھانے کے لیے وسائل بنائے جائیں — دوسروں کی بھلائی، سماجی ذمہ داری یا اخلاق پرستی پیچھے رہ جائیں۔

دولت کو حاصل کرنا ہی مقصد بن جائے، اور اخلاقیات اسی وجہ سے قربان کی جائیں کہ “پانسہ پلٹ جائے” یا “نام بن جائے”۔

علم صرف نصوص کا علم بن جائے، عملی زندگی میں اس کا عکس نہ ہو — یوں انسان “جانتا” ضرور ہے، مگر “عمل” نہیں کرتا۔

یہ کیفیت قرآن نے واضح الفاظ میں نشاندہی کی ہے:
مثلاً سورۃ ہُمَزَة کی آیت:

> «وَالَّذِي جَمَعَ مَالًا وَعَدَّدَهُ» (104:2) — “اور وہ جس نے مال جمع کیا اور اُسے گن گن کر رکھا۔”
یہاں واضح ہے: صرف مال جمع کرنا اور گننا، اخلاقی شعور کے بغیر، ایک خطرناک سمت ہے۔

اور سورۃ التَکَاثُر:

> «أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ» (102:1) — “کیا تمہیں تکاثر نے (دھیان سے) ہٹا دیا؟”
یعنی دولت و شمار کا مقابلہ انسان کو اپنی سمت سے بھٹکا سکتا ہے۔

---

قرآن کی رہنمائی — دولت اور اخلاقیات کا تعلق

اب تھوڑا ٹھہر کے دیکھیں کہ قرآن نے دولت، علم اور اخلاقیات کے درمیان کیا تعلق بیان کیا ہے:

دولت اللہ کی نعمت ہے، مگر وہ خود اخلاقی اور روحانی طور پر ذمہ داری کے ساتھ ملا ہے۔

تعلیم یعنی علم بھی اہم ہے، جیسے سورۃ سورۃ العلق کی پہلی آیات: «اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ… عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ» — علم کا بنیادی تصور پیش کیا گیا ہے۔

اخلاقیات یعنی اچھے کردار، عدل، ہمدردی — یہ وہ بنیاد ہے جس پر دولت اور علم کی برکت قائم رہتی ہے۔ مثال کے طور پر: «إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ…»

لہٰذا جب علم و دولت ہوں مگر اخلاقیات نہ ہوں — تو وہ وزن سے خالی ہو جاتا ہے؛ بوجھ بن سکتا ہے نہ کہ نعمت۔

---

اس حالت کے خطرات

ذیل میں چند خطرات ہیں جن کی نشاندہی قرآن اور تدبر نے کی ہے، جب اخلاقیات کم ہوں:

1. گرنا و زوال: دولت کو ہی اپنا مقصد سمجھ لینا، انسان کو آخرت کی حقائق سے دور کر دیتا ہے۔ سورۃ التکاثر (102:1-8) میں یہ بات واضح ہے کہ انسان دنیا کی جمع پونچھ میں اتنا مشغول ہوجاتا ہے کہ قبر اور آخرت بھول جاتا ہے۔

2. غرور و تکبر: دولت اور علم کا غلط استعمال انسان کو یہ سوچنے پر مجبور کرسکتا ہے کہ “میں سب پر بہتر ہوں” — مگر قرآن کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا تکبر کرنے والوں کو۔

3. ناانصافی و ظلم: علم و دولت ملنے کے باوجود اگر انسان عدل، رحم، سچائی کو چھوڑ دے، تو وہ دولت و علم اپنے لیے نقصان بن سکتے ہیں۔ مثلاً: «وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ»

4. روحانی خستگی: دولت کے پیچھے بھاگتے وقت انسان اپنا اندرونی تعلق اللہ سے کمزور کر سکتا ہے، علم صرف سطحی رہ سکتا ہے، اور اخلاقیات کمزور پڑ سکتی ہیں۔

---

اخلاقیات کو مرکزی مقام دینا — رہنمائی

کچھ رہنمائی ہے جو ہم اپنے الفاظ میں سوچ سکتے ہیں:

علم حاصل کرنا اچھا ہے، مگر اس کا مقصد خود کو تبدیل کرنا ہونا چاہیے، نہ صرف دوسروں پر غالب ہونا۔

دولت کمانا اچھا ہے، مگر اس کا استعمال انصاف، ہمدردی، اعتدال کے ساتھ ہونا چاہیے — خود غرضی کے ساتھ نہیں۔

جب دولت اور علم دونوں ساتھ ہوں، تو اخلاقیات کو پسندیدہ مقام دینا ضروری ہے — ورنہ دولت بوجھ بن جائے گی، علم صرف فخر کی چیز بن جائے گی۔

مسلسل یہ خود سے سوال کرنا چاہیے: “کیا میرا علم اور میرا مال مجھے اللہ کے قریب لے جا رہا ہے؟ یا مجھے اپنی طرف کھینچ رہا ہے؟”

کردار کی تعمیر کو مالیاتی کامیابی اور علمی کامیابی سے کم نہ سمجھو؛ کیونکہ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ اصل کامیابی وہ ہے جو آخرت تک لنگر انداز ہو۔

#علم #دولت #اخلاقیات #فیسبک

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Kot Addu?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Website

Address

Kot Addu