Hania Ameen
My Name Hania Ameen. I am a Social Media influencer from Pakistan. Follow me Please.
سبھی کو لگتا ھے پاگل بنا گیا تھا مجھے
مگر اس کے چھوڑتے ھی شعور آ گیا تھا مجھے
میں سب کے سامنے تو ضبط کرکے بیٹھ گئی
مگر یہ غم ، اندر سے کھا گیا تھا مجھے
لوگ ڈرتے ہیں قاتل کی پرچھائی سے ہم نے قاتل کے دل میں بھی گھر کر لیا
۔
سادگی تو ہماری ذرا دیکھیے اعتبار آپ کے وعدے پر کر لیا
15/08/2026
نہ پوچھو حسن کی تعریف ھم سے
محبت جس سے ہو بس وہ حسیں ھے
04/08/2026
25/07/2026
Happy Birthday to Me..... 😊😊😊
15/07/2026
رہا گردشوں میں ہر دم میرے عشق کا ستارہ
کبھی ڈگمگائی کشتی کبھی کھو گیا کنارہ
یہ ہماری بد نصیبی جو نہیں تو اور کیا ہے
کہ اسی کے ہو گئے ہم جو نہ ہو سکا ہمارا
02/07/2026
بہت ہی مدت کے بعد کل جب
کتاب ماضی کو میں نے کھولا
بہت سے چہرے نظر میں اترے
بہت سے نا موں پہ دل پسیجا
اک ایسا صفہ بھی اس میں آیا
لکھا ہوا تھا جو آنسووں سے
کہ جسکا عنوان ہم سفرتھا
جو صفہ سب سے معتبر تھا
کچھ اور آنسو پھر اس پہ ٹپکے
پھر اس سے آگے میں پڑھ نہ پائی
کتاب ماضی کو بند کر کے
تمہاری یادوں میں کھو گئی میں
اگر تو ملتا تو کیسا ہوتا
انہی خیالوں میں سو گئی میں
28/06/2026
سال 2024 میں جب میں نانی کے گھر ایبٹ آباد گئی تو ناران، کاغان، بابو سر ٹاپ ، گلگت، چترال اور چلاسں سے لیکر چائینہ بارڈر تک گھومنے کا موقع ملا۔
الحمدللہ بہت خوبصورت سفر اور زندگی کا یادگار Trip تھا۔۔۔
26/06/2026
حسن جاناں کی تعریف ممکن نہیں
آفریں آفریں آفریں آفریں
تو بهی دیکھے اگر تو کہے ہم نشیں
آفریں آفریں آفریں آفریں
ایسا دیکها نہیں خوبصورت کوئی
جسم جیسے اجنتا کی مورت کوئی
جسم جیسے نگاہوں پہ جادو کوئی
جسم نغمہ کوئی جسم خوشبو کوئی
جسم جیسے مچلتی ہوئی راگنی
جسم جیسے مہکتی ہوئی چاندنی
جسم جیسے کہ کهلتا ہوا اک چمن
جسم جیسے کہ سورج کی پہلی کرن
جسم ترشا ہوا دل کش و دل نشیں
سندلیں سندلیں مرمریں مرمریں
حسن جاناں کی تعریف ممکن نہیں
آفریں آفریں آفریں آفریں
چہرہ اک پهول کی طرح شاداب ہے
چہرہ اس کا ہے یا کوئی مہتاب ہے
چہرہ جیسے غزل چہرہ جان غزل
چہرہ جیسے کلی چہرہ جیسےکنول
چہرہ جیسے تصور بهی تصویر بهی
چہرہ اک خواب بهی چہرہ تعبیر بهی
چہرہ کوئی الف لیلی کی داستاں
چہرہ اک پل یقیں چہرہ اک پل گماں
چہرہ جیسا کہ چہرہ کہیں بهی نہیں
ماہ رو ماہ رو مہ جبیں مہ جبیں
حسن جاناں کی تعریف ممکن نہیں
آفریں آفریں آفریں آفریں
آنکھیں دیکهیں تو میں دیکهتا رہ گیا
جام دو اور دونوں ہی دو آتشہ
آنکھیں یا مے کدے کے یہ دو باب ہیں
آنکھیں ان کو کہوں یا کہوں خواب ہیں
آنکھیں نیچی ہوئیں تو حیا بن گئیں
آنکھیں اونچی ہوئیں تو دعا بن گئیں
آنکھیں اٹھ کر جهکیں تو ادا بن گئیں
آنکھیں جهک کر اٹھیں تو قضا بن گئیں
آنکھیں جن میں ہیں قید آسمان و زمیں
نرگسیں نرگسیں سرمگیں سرمگیں
حسن جاناں کی تعریف ممکن نہیں
آفریں آفریں آفریں آفریں
زلف جاناں کی بهی لمبی ہے داستاں
زلف کی میرے دل پہ ہیں پرچھائیاں
زلف جیسے کہ امڈی ہوئی ہو گهٹا
زلف جیسے کہ ہو کوئی کالی بلا
زلف الجهے تو دنیا پریشان ہو
زلف سلجهے تو یہ زیست آسان ہو
زلف بکهرے، سیاہ رات چهانے لگے
زلف لہرائے تو رات جانے لگے
زلف زنجیر ہے پهر بهی کتنی حسیں
ریشمیں ریشمیں عنبریں عنبریں
حسن جاناں کی تعریف ممکن نہیں
آفریں آفریں آفریں آفریں
آفریں آفریں آفریں آفریں
(شاعر : جاوید اختر صاحب )
Category
Website
Address
Alerts
Be the first to know and let us send you an email when Hania Ameen posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.