Family Entertainment Center

Family Entertainment Center

Share

Complete Family channel

آپ سب دوستوں کا بہت شکریہ جو پوسٹس کو لائک اور کمنٹ کر کے حوصلہ بڑھاتے ہیں - آپ سب دوستوں کو بھی ضرور اس پیج پہ انوائٹ کریں یا کم سے کم ایک بار اپنی وال پہ پیج کو ضرور شئیر کر دیں -
بہت شکریہ آپ سب دوستوں کا - سلامت رہیں ، مسکراتے رہیں اور مسکراہٹیں بانٹتے رہیں
Thank you very much
ایڈمن :

21/09/2026

کیا پولیس کو بغیر وارنٹ کسی کے گھر میں داخل ہونے کا حق ہے؟
آپ کی اس واقعے کے بارے میں کیا رائے ہے؟

...🤲🫤🤲

19/09/2026

نادان لوگوں کے فیصلے ایسے ہی ہوتے ہیں
جان بچانے کے لیے کشتی بنانے کی بجائے کرسی بنا لیتے ہیں اور پھر نجات کا ذریعہ دیکھتے ہیں۔

18/09/2026

دل چاہتا ہے جب مروں تو میرے بیٹے بیٹیاں میری میت کو ہاتھ بھی نہ لگائیں بہو نے بیٹے کے ساتھ مل کر بوڑھی ساس کو دھکے دے کر گھر سے نکال دیا اس بوڑھی خاتون کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں ، دونوں بیٹے والد کے بنائے عالیشان گھر میں رہتے ہیں اور اچھی نوکریاں کرتے ہیں ۔ خاوند کے انتقال کے بعد بھی زندگی اچھی گزر رہی تھی مگر پھر اس خاتون نے اپنے بیٹوں کو بیاہ دیا ، بڑی بہو ائیرپورٹ پر انسپکٹر تھی ۔ چند ماہ تو ادب آداب میں گزرے پھر بات بات پر لڑائی جھگڑے شروع ہوگئے بزرگ خاتون کے بقول بہو نے میرا گھر اجاڑ دیا مجھے اپنے ہی گھر سے نکال دیا بہو غصے میں آتی تو کہتی تھی دفع ہو جاؤ اس گھر سے اور ہمیں سکون سے رہنے دو بیٹا بھی نکما نکلا ، رن مریدی میں اتنا گرا کہ ماں کا خیال نہ کیا اور بیوی کو ایک لفظ بھی نہ کہا اور بیوی کا ہی ساتھ دیتا تھا کئی ماہ پہلے گھر سے نکالی جانیوالی یہ خاتون اب لاہور کے ایک اولڈ ہوم میں سر چھپائے بیٹھی ہے خاتون کا کہنا ہے اپنے گھر میں عزت نہ ملی ، خون کے رشتے مٹی میں مل گئے مگر غیروں نے اپنوں سے زیادہ احترام اور محبت دی ہے ۔ افسوس اس بات کا ہے کہ بیٹے نہ لینے آئے اور نہ ایک بار ملنے آئے چلو بیٹے تو بیویوں کے پیچھے لگ گئے لیکن بیٹیاں تو میری اپنی تھیں انہوں نے بھی میرا مڑ کر نہ پوچھا جن بچوں کو میں نے محنت کر کے پال پوس کر بڑا کیا انہوں نے ہی مجھے گھر سے دھکے دے کر نکال دیا اور اپنی بیویوں کے ساتھ مگن ہو گئے میرا کیا قصور تھا میں نے تو اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دی تھی ان کا خیال بھی رکھا تھا لیکن میں ماں تھی بیوی تو دوبارہ مل جاتی ہے ماں تو نہیں ملتی آج میں اس اولڈ ہوم میں اپنے بچوں کی راہ تکتی ہوں لیکن پھر چپ کر جاتی ہوں اور صبر کر جاتی ہوں کیونکہ جنہوں نے مجھے گھر سے نکال دیا ہے وہ کیا میری فکر کریں گے اب تو دل چاہتا ہے جب مروں تو میرے بیٹے بیٹیاں میری میت کو ہاتھ بھی نہ لگائیں،آپ کیا کہیں گے اس ماں کی اولاد کے بارے میں کمنٹس میں بتائیں اور اپنے ماں باپ کا خیال رکھا کریں پلیز یہ زندگی میں صرف ایک بار ہی ملتے ہیں اور اپنے ماں باپ کی محبت میں فالو بھی کر لیں ،،،
دل چاہتا ہے جب مروں تو میرے بیٹے بیٹیاں میری میت کو ہاتھ بھی نہ لگائیں بہو نے بیٹے کے ساتھ مل کر بوڑھی ساس کو دھکے دے کر گھر سے نکال دیا اس بوڑھی خاتون کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں ، دونوں بیٹے والد کے بنائے عالیشان گھر میں رہتے ہیں اور اچھی نوکریاں کرتے ہیں ۔ خاوند کے انتقال کے بعد بھی زندگی اچھی گزر رہی تھی مگر پھر اس خاتون نے اپنے بیٹوں کو بیاہ دیا ، بڑی بہو ائیرپورٹ پر انسپکٹر تھی ۔ چند ماہ تو ادب آداب میں گزرے پھر بات بات پر لڑائی جھگڑے شروع ہوگئے بزرگ خاتون کے بقول بہو نے میرا گھر اجاڑ دیا مجھے اپنے ہی گھر سے نکال دیا بہو غصے میں آتی تو کہتی تھی دفع ہو جاؤ اس گھر سے اور ہمیں سکون سے رہنے دو بیٹا بھی نکما نکلا ، رن مریدی میں اتنا گرا کہ ماں کا خیال نہ کیا اور بیوی کو ایک لفظ بھی نہ کہا اور بیوی کا ہی ساتھ دیتا تھا کئی ماہ پہلے گھر سے نکالی جانیوالی یہ خاتون اب لاہور کے ایک اولڈ ہوم میں سر چھپائے بیٹھی ہے خاتون کا کہنا ہے اپنے گھر میں عزت نہ ملی ، خون کے رشتے مٹی میں مل گئے مگر غیروں نے اپنوں سے زیادہ احترام اور محبت دی ہے ۔ افسوس اس بات کا ہے کہ بیٹے نہ لینے آئے اور نہ ایک بار ملنے آئے چلو بیٹے تو بیویوں کے پیچھے لگ گئے لیکن بیٹیاں تو میری اپنی تھیں انہوں نے بھی میرا مڑ کر نہ پوچھا جن بچوں کو میں نے محنت کر کے پال پوس کر بڑا کیا انہوں نے ہی مجھے گھر سے دھکے دے کر نکال دیا اور اپنی بیویوں کے ساتھ مگن ہو گئے میرا کیا قصور تھا میں نے تو اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دی تھی ان کا خیال بھی رکھا تھا لیکن میں ماں تھی بیوی تو دوبارہ مل جاتی ہے ماں تو نہیں ملتی آج میں اس اولڈ ہوم میں اپنے بچوں کی راہ تکتی ہوں لیکن پھر چپ کر جاتی ہوں اور صبر کر جاتی ہوں کیونکہ جنہوں نے مجھے گھر سے نکال دیا ہے وہ کیا میری فکر کریں گے اب تو دل چاہتا ہے جب مروں تو میرے بیٹے بیٹیاں میری میت کو ہاتھ بھی نہ لگائیں،آپ کیا کہیں گے اس ماں کی اولاد کے بارے میں کمنٹس میں بتائیں اور اپنے ماں باپ کا خیال رکھا کریں پلیز یہ زندگی میں صرف ایک بار ہی ملتے ہیں اور اپنے ماں باپ کی محبت میں فالو بھی کر لیں ،،،
Irfan Irfi Ahmed
P

18/09/2026

تقسیمِ ہند کا المیہ اور 75 سال بعد ملن: مسلمان خاندان کا بھارتی سکھ بھائی کرتارپور کے مقام پر بہن سے لپٹ کر رو پڑا

تقسیمِ ہند 1947ء کے دوران بے شمار خاندانوں کی تباہی اور بچھڑنے کی داستانوں میں سے ایک روح فرسا واقعہ جالندھر کے ایک مسلمان خاندان کا ہے۔ ہجرت کے وقت امرجیت سنگھ کے والدین اپنے چند ماہ کے بیٹے اور ایک بیٹی کو بھارت میں ہی چھوڑ کر پاکستان آنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ بھارت میں ایک سکھ خاندان نے اس ننھے بچے کو گود لیا اور اس کی پرورش کر کے اس کا نام امرجیت سنگھ رکھا۔ دوسری جانب پاکستان میں ان کی والدہ اپنے بچھڑے بچوں کی یاد میں تڑپتی رہیں۔

کئی دہائیوں بعد ایک خاندانی دوست کی مدد سے امرجیت کا سراغ ملا، جس کے بعد ستمبر 2022ء میں 75 سال بعد امرجیت سنگھ ویزا حاصل کر کے گوردوارہ دربار صاحب کرتارپور پہنچے۔ وہاں فیصل آباد سے آئی ان کی 65 سالہ بہن کلثوم اختر سے ان کی جذباتی ملاقات ہوئی۔ دونوں بہن بھائی ایک دوسرے کو دیکھتے ہی گلے مل کر زار و قطار رو پڑے اور 75 سال کی دوری اور والدین کی یادیں تازہ کیں۔
The Express Tribune / Express News / NDTV (PTI News Service)

18/09/2026

منڈی بہاوالدین بُلہڑ گاؤں کے یہ پانچ بھائی قتل ہو چکے ہیں، لیکن جس زمین کے ٹکڑے سے پھپھرا اور بُلہڑ دو خاندانوں کی یہ دُشمنی شروع ہوئی تھی، وہ زمین کا ٹکڑا کوئی بھی ساتھ لے کے نہیں گیا! پھپھرا خاندان کے افراد بھی اس دشمنی کی بھیینٹ چڑھ چکے ہیں! اللہ پاک سب کی مغفرت فرمائے،

زمین کے ٹکڑے کی وجہ سے کئی افراد قتل
زمین کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے یا جائیداد کی خاطر اپنوں کا خون بہا دینا ہمارے معاشرے کا ایک دردناک المیہ ہے۔
زمین کا یہ چند گز کا ٹکڑا، جو انسان کو ایک دن اسی مٹی میں مل جانا ہے، آج اِسی کی ہوس نے کتنے ہی انسانوں کو جیتے جی مٹی تلے سلا دیا ہے۔خون کے رشتے، جو محبت اور بھائی چارے کی بنیاد پر قائم ہوتے ہیں، جائیداد کی خاطر ہونے والے جھگڑوں میں پل بھر میں دشمنی اور لاشوں میں بدل جاتے ہیں۔قاتل ہو یا مقتول، دونوں کا تعلق اسی سماج سے ہوتا ہے، مگر لالچ کی اندھی آندھی میں کوئی اپنی دنیا اجاڑ لیتا ہے تو کوئی اپنی عاقبت خراب کر بیٹھتا ہے۔مٹی کا یہ ٹکڑا یہیں دھر کا دھر رہ جائے گا، مگر زمین کے لیے اپنوں کا خون بہانے والے انسان اپنے ہاتھوں اپنے سکون اور انسانیت کا جنازہ نکال دیتے ہیں۔اگر لوگ صبر، قانون اور انصاف کا راستہ اختیار کریں، تو زمین کے تنازعات کی وجہ سے ہونے والے ان ہولناک قتل و غارت سے کتنے ہی گھر اجڑنے سے بچ سکتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ مرحومین کی مغفرت فرمائے ۔۔آمین

18/09/2026

سوشل میڈیا پر بیان کی گئی معلومات کے مطابق، اس شخص کی پہلے سے دو شادیاں ہیں، جبکہ اس کے ساتھ بیٹھی ہوئی خوبصورت لڑکی نے مبینہ طور پر خود اس شخص سے شادی کی خواہش ظاہر کی اور کہا کہ وہ اسے بہت پسند کرتی ہیں۔

اس شخص کے مطابق اس نے لڑکی کو یہ بھی بتایا کہ وہ پہلے سے دو شادی شدہ ہے، حالات بھی بہت سادہ ہیں اور اگر وہ ان حالات میں رہ سکتی ہیں تو ہی یہ فیصلہ کریں۔

مگر لڑکی کا جواب تھا کہ "آپ جس حال میں رکھیں گے، میں رہ لوں گی، لیکن شادی آپ ہی سے کرنی ہے۔"

اب ذرا اس معاملے کو صرف خوبصورتی اور پیسے کے زاویے سے نہیں بلکہ انسانی پسند اور جذبات کے زاویے سے دیکھیں۔

اس شخص کا رہن سہن، لباس اور مالی حالات دیکھ کر یہ کہنا مشکل ہے کہ لڑکی نے صرف دولت یا آسائش کی وجہ سے یہ فیصلہ کیا ہوگا۔

آپ کے خیال میں لڑکی کے اس فیصلے کی وجہ کیا ہے؟

ایک بات تو واضح ہے کہ لڑکی کا یہ فیصلہ نارمل نہیں ہے۔ اور یہ صرف ایک انفرادی عمل ہی کہلائیگا۔ اس کو اصول نہیں مانا جا سکتا۔

اس لیے یہ کہنا غلط ہوگا کہ لڑکیاں شادی کرتے وقت شوہر کی مالی حیثیت، شکل و صورت، یا دیگر عادات نہیں دیکھتیں۔

لیکن ایسی بہت سی شادیاں ہوتی بھی ہیں۔ خاص طور پر ارینج میرج میں تو لڑکیوں کا اعتراض ہی یہ ہوتا ہے کہ انکی پسند کی شادی نہین ہو رہی۔ ۔ ۔

لیکن جب ایک لڑکی اپنی پسند سے ایسا دولہا پسند کرے جو پہلے سے دو بیویوں کا شوہر ہو۔ ۔ جس کا رہن سہن مناسب سا ہو، بلکہ کافی حد تک غریبانہ ہو۔ ۔ اور جو شکل و صورت سے بھی اس لڑکی کا میچ نہ ہو ۔ ۔تو پھر کونسی وجوہات باقی رہ جاتی ہیں؟

آپکے مشاہدے میں ایسی کوئی شادی ہے؟l

18/09/2026

کوہاٹ: پولیس لائن دھماکے میں 15 پولیس اہلکار سمیت 21 افراد شہید، 81 زخمی، شہداء میں 2 ایس پی، 2 انسپکٹر اور 4 سب انسپکٹر شامل
اللّه پاک سب کی شہادت قبول کرے اور گھر والو کو صبر دے

18/09/2026

اچانک آنے والے شد۔۔ید سمندری طوفان نے ہر طرف تبا۔ہی مچا دی تھی۔ سڑکیں ملبے سے بھری تھیں، درخت اور بجلی کے کھمبے گر چکے تھے اور بڑی تعداد میں لوگ بنیادی ضروریات سے محروم ہو چکے تھے۔ ایسے ہی حالات میں ایک خاتون پولیس اہلکار امدادی کارروائیوں میں مصروف تھیں کہ اچانک انہیں ایک بچے کے مسلسل رونے کی آواز سنائی دی۔
وہ کچھ دیر پہلے ہی لوگوں کی مدد اور ملبہ ہٹانے کے کام میں مصروف تھیں لیکن بچے کے رونے نے ان کی توجہ اپنی جانب کھینچ لی۔ وہ آواز کا تعاقب کرتے ہوئے ایک خاندان تک پہنچیں اور بچے کی والدہ سے پوچھا کہ کیا مسئلہ ہے؟ خاتون نے بتایا کہ بچہ بھوکا ہے اور طوفان کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال میں اسے مناسب خوراک نہیں مل سکی۔ تقریباً چار ماہ کا یہ بچہ 24 سے 48 گھنٹے تک مناسب خوراک سے محروم رہا تھا۔
پولیس اہلکار اریزبیتھ ڈیونیسیو ایمبروسیو خود بھی ایک ماں تھیں اور اپنے ایک سالہ بچے کو دودھ پلا رہی تھیں۔انہوں نے بچے کی والدہ سے اجازت مانگی کہ اگر وہ چاہیں تو وہ بچے کو اپنا دودھ پلا سکتی ہیں۔ اجازت ملنے کے بعد انہوں نے بچے کو گود میں لیا اور اسے اپنا دودھ پلایا۔ رپورٹس کے مطابق بچے نے دودھ پینا شروع کیا تو اس کا رونا تھم گیا اور وہ پرسکون ہوگیا۔
اس کے بعد وہ دوبارہ اپنی ڈیوٹی پر واپس چلی گئیں۔ انہوں نے خاندان سے بچے کا نام یا دیگر تفصیلات تک نہیں پوچھیں کیونکہ ان کی توجہ اس وقت صرف بچے کو پرسکون کرنے اور اسے وہ چیز فراہم کرنے پر تھی جس کی اسے فوری ضرورت تھی۔
یہ واقعہ میکسیکو کے شہر اکاپولکو میں سمندری طوفان اوٹس کے گزرنے کے بعد اکتوبر 2023 میں پیش آیا تھا۔ اوٹس 25 اکتوبر 2023 کو اکاپولکو سے ٹکرایا اور کیٹیگری پانچ کے انتہائی شد۔۔ید طوفان کے طور پر بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ ایمبروسیو میکسیکو سٹی پولیس کے اس دستے کا حصہ تھیں جسے متاثرہ علاقے میں امدادی اور تلاش و بچاؤ کی سرگرمیوں کے لیے بھیجا گیا تھا۔
بعد میں جب وہ میکسیکو سٹی واپس پہنچیں تو ان کے افسران نے اس واقعے کے بارے میں ان سے بات کی۔ 6 نومبر 2023 کو میکسیکو سٹی کے محکمہ برائے شہری تحفظ کے سربراہ پابلو وازکیز نے اعلان کیا کہ اریزبیتھ ڈیونیسیو ایمبروسیو کو ان کی خدمات کے اعتراف میں پولیس فرسٹ سے سب آفیسر کے عہدے پر ترقی دی گئی ہے۔
تدوین
ادیب یوسفزئی

18/09/2026

*قبولیت کی دلیل : سبق آموز حکایت*

`مولانا رومی رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں` کہ ایک نیازمند کثرت سے ذکر الہی کرتا رہتا تھا، حتیٰ کہ ایک دن اس کے پرخلوص ذکر سے اس کے لب شیریں ہو گئے۔ پھر ایک دن شیطان نے اسے وسوسے میں مبتلا کر دیا کہ تو بے فائدہ ذکر کی کثرت کر رہا ہے ۔ تو `اللہ، اللہ` کرتا رہتا ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے لبیک کی آواز ایک بار بھی نہیں آتی اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی جواب ملتا ہے۔ پھر یک طرفہ محبت کی پینگ بڑھانے سے کیا فائدہ؟ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ تیرا ذکر الہی اللہ کے ہاں قبول نہیں ہو رہا۔
شیطان کی ان پر فریب باتوں سے اس صوفی نے ذکر کرنا چھوڑ دیا اور شکستہ دل و افسردہ ہو کر سو گیا۔ آنکھ سوئی اور قسمت جاگ گئی۔
عالم خواب میں دیکھا کہ حضرت خضر علیہ السلام تشریف لائے اور انہوں نے دریافت کیا : ”ذکر الہی سے غفلت کیوں کی؟ اے نیک بخت! تو نے ذکر حق کیوں چھوڑ دیا؟ آخر تو اس ذکر پاک سے پشیمان کیوں ہو گیا ہے؟“
اس نے کہا: ”بارگاہ الهی سے مجھے کوئی جواب ہی نہیں ملتا، اس سے دل میں خیال آیا کہ میرا ذکر قبول نہیں ہو رہا۔“
حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا : ”تمہارے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ پیغام بھیجوایا ہے کہ تمہارا اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول ہونا اور پہلی دفعہ اللہ کہنا قبول ہوتا ہے، تب دوسری بار تجھے اللہ کہنے کی توفیق ملتی ہے۔ تمہارے دل میں یہ سوز و گداز، میری چاہت، محبت اور تڑپ ہے، یہی تمہارے ذکر کی قبولیت کی نشانی ہے۔“
اے بندے! میری محبت میں تیری یہ تدبیریں اور منتیں؛ سب ہماری طرف سے جذب و کشش کا ہی عکس ہیں۔
اے بندے! تیرا اخوف اور میری ذات سے تیرا عشق ہی میرا انعام ہے اور میری ہی مہربانی و محبت کی کشش ہے کہ تیری ہر بار "یا اللہ" کی پکار میں میری لبیک شامل ہوتا ہے۔ تمہارے ذکر کی قبولیت کی نشانی یہی ہے کہ تمہیں ذکر حق میں مشغول کر دیا ہے۔
جان جاہل زریں دعا جز دور نیست
زائمہ یارب گفتنش دستور نیست
ترجمہ: ایک جاہل و غافل ذکر حق اور دعا مانگنے کی توفیق سے محروم رہتا ہے
مولانا رومی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ عزوجل کے ذکر کا اجر خود اسی ذکر میں ہی پوشیدہ ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے ذکر اور اپنی یاد کی توفیق اسی کو عطا فرماتے ہیں، جس سے خوش ہوتے ہیں، اور یہی اس کی قبولیت کی دلیل ہے۔
حکایت رومی

17/09/2026

صدر ایوب کی والدہ کو ان سے تین شکایات تھیں
ایک یہ کہ پریذیڈنٹ ہاؤس کی موٹر کاریں جب کسی کام پر گاؤں میں آتی ہیں تو یہاں کی چھوٹی چھوٹی سڑکوں پر وہ بڑی تیز رفتاری سے چلتی ہیں جس سے لوگوں کی جان و مال کو خطرہ لاحق ہوتا ہے- دوسری شکایت یہ تھی کہ گاؤں کے کئی لڑکے کالج کی تعلیم ختم کر کے گھروں میں بیکار بیٹھے ہیں، ان کو نوکری کیوں نہیں ملتی؟ اگر نوکری نہیں ملنی تھی تو کالجوں میں پڑھایا کیوں گیا؟
بڑی بی کو تیسری شکایت یہ تھی کہ میری زمین کا پٹواری ہر فصل کے موقع پر پچاس روپے فصلانہ وصول کر کے خوش رہا کرتا تھا ، اب وہ سو روپے مانگتا ہے، کہتا ہے کہ تمہارا بیٹا اب پاکستان کا حکمران ہو گیا ہے ، اس لیے پچاس روپے کا نذرانہ بہت کم ہے۔ بڑی بی کو گلہ تھا کہ ایوب خان کی حکومت میں رشوت کا ریٹ ڈبل کیوں ہو گیا ہے.
(قدرت الله شہاب : " شہاب نامہ")

ایک اور روایت کے مطابق ایوب خان نے والدہ سے کہا کہ پٹواری سے بگاڑنا نہیں چاہئیے، جو مانگے دے دیا کریں.

Category

Website

Address

Karachi