Naat.e.Pak

Naat.e.Pak

Share

Allah aur us k naabi ko yaad karte raho sab kam asan ho jane gay��

21/07/2026

اللہ کے سوا کسی کو مت پکارو میرے اس پیج کو زیادہ سے زیادہ فالو شیئر کریں اور اور لائک کریں تاکہ میں زیادہ ایسی پوسٹ لگاؤں جس سے ہمیں دین کو سمجھنے کی اور صحیح راستے پہ چلنے کی اللہ توفیق عطا فرمائے

14/07/2026

مولانا فضل الرحمان صاحب، شہداء کی قربانیوں کو دنیاوی تنخواہ کے پیمانے سے تولنا انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔ ہمارے فوجی جب سرحدوں پر اپنی جانیں دیتے ہیں، تو وہ کسی تنخواہ کے لیے نہیں، بلکہ اپنے وطن کے تقدس اور عوام کی حفاظت کے لیے لڑتے ہیں۔
​شہادت کا رتبہ ایک عظیم اعزاز ہے جسے دنیاوی تنخواہ سے جوڑنا ان تمام خاندانوں کی توہین ہے جن کے بیٹوں نے اس ملک پر اپنی جانیں قربان کی ہیں۔ سیاست اپنی جگہ، لیکن ہمارے شہداء کی قربانیوں کا احترام ہم سب پر لازم ہے۔ سیاسی اختلافات کو شہداء کی تکریم سے نہ ملایا جائے۔ ہمیں اپنے محافظوں کی قربانیوں پر فخر ہے اور ہم ایسی بیہودہ باتوں کو ہرگز برداشت نہیں کریں گے۔
​پاکستان زندہ باد! 🇵🇰❤
​

06/07/2026

یا نبی مجھ پہ بھی

04/07/2026

بیٹے کو بغیر کفن دفنانے پہنچنے والے دکھی باپ نے اپنی دردناک داستان بیان کردی

کرائے کا ٹوٹا پھوٹا مکان، پانی کا بھی انتظام نہیں، حالات اتنے برے ہیں کہ کبھی کام لگتا ہے تو روٹی ملتی ہے ورنہ نہیں؛ بوڑھا باپ اردوپوائنٹ کو دل کا احوال بتاتے ہوئے آبدیدہ

ملتان (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 جون 2026ء) اولیاء کی سرزمین ملتان سے غربت، بے بسی اور انسانیت کا دل دہلا دینے والا ایک ایسا ہولناک واقعہ سامنے آیا ہے جس نے پورے معاشرے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا، ایک مجبور اور انتہائی غریب باپ اپنے جواں سال بیٹے کی موت کے بعد غربت کے باعث اس کے لیے کفن تک نہ خرید سکا اور لاش کو چادر میں لپیٹ کر قبرستان لے جانے پر مجبور ہو گیا۔
اردو پوائنٹ سے گفتگو کرتے ہوئے دل شکستہ باپ نے بتایا کہ اس کا بیٹا غربت اور کسمپرسی کی حالت میں فوت ہو گیا تھا اور لاش ایک سے دو دن تک گھر میں ہی پڑی رہی کیونکہ ان کے پاس تدفین کے لیے ایک روپیہ بھی نہیں تھا، جب تپش کی وجہ سے میت سے بو آنا شروع ہوئی تو اہل محلہ نے اعتراض کیا کہ یہاں شدید بدبو آ رہی ہے، اس کی وجہ کیا ہے؟ محلہ داروں نے صورتحال دیکھ کر پولیس کو بلا لیا، موقع پر پہنچنے والے تھانیدار نے جب گھر کی حالت اور میت کو دیکھا تو محلے داروں کو جھڑکتے ہوئے کہا کہ "کیا تمہیں کسی کو موت یاد نہیں؟" وہ تھانیدار ہمدردی کے تحت 3 سے 4 بار ہمارے گھر آیا

مجبور باپ نے بتایا کہ جب کوئی راستہ نہ بچا تو میں نے بیٹے کی میت کو ایک عام چادر میں لپیٹا اور اسے اٹھا کر سیدھا جنازہ گاہ لے گیا، وہاں جب مولوی صاحب کو بلایا گیا تو انہوں نے کہا میں اس کو غسل دے کر کفن پہنا دوں گا، لیکن میرے پاس کفن خریدنے کے لیے پیسے ہی نہیں تھے، بعد ازاں میرے ایک بھانجے کو اطلاع دے کر بلایا گیا، جس نے اپنے پاس سے کفن کا بندوبست کرکے منگوایا، اس کے بعد میت کو غسل دیا گیا اور تدفین کا انتظام ممکن ہو سکا۔
اپنے گھر کے چولہے اور زندگی کی تلخ حقیقت بیان کرتے ہوئے بوڑھے باپ نے کہا کہ ہمارے حالات انتہائی برے ہیں، ہم ریڑھی پر کباڑ اکٹھا کرنے کا کام کرتے ہیں، یہ ایک ہوائی روزی ہے، کبھی کام لگ جائے تو چند پیسے مل جاتے ہیں اور جس دن کام نہ لگے، اس دن ہمیں اور بچوں کو فاقے کاٹنے پڑتے ہیں، ہم کرائے کے مکان میں رہتے ہیں جس کا ماہانہ کرایہ 4 ہزار روپے ہے، جو ہماری اوقات سے باہر ہے، گھر میں پینے کے پانی کا بھی کوئی انتظام نہیں، ہمیں روزانہ باہر دور دراز علاقوں سے پانی بھر کر لانا پڑتا ہے۔

03/07/2026

وقت اور احساس کے بدلتے رنگ
بیتے لمحوں کی حقیقت: ریت کی طرح ہاتھ سے پھسلتے ہوئے وقت کو تو واپس لایا جا سکتا ہے، لیکن کھوئے ہوئے مان اور محبت کو دوبارہ پانا ناممکن ہوتا ہے۔ضرورت پر خاموشی: جب دل کو سب سے زیادہ کسی کے ساتھ کی ضرورت ہو اور وہ میسر نہ ہو، تو بعد میں آنے والے لفظ اور دلاسے صرف ایک رسمی کارروائی لگتے ہیں۔احساس کا جنازہ: کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ جب چاہیں گے واپس آ کر رشتہ وہیں سے جوڑ لیں گے، مگر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ انتظار بھی ایک وقت کے بعد دم توڑ دیتا ہے۔رشتوں کا مان اور وقت کی ڈوربے معنی موجودگی: وقت پر نہ آنے والا مخلص ترین انسان بھی بعد میں ایک بوجھ محسوس ہونے لگتا ہے کیونکہ اس کا ساتھ اپنی افادیت کھو چکا ہوتا ہے۔سبق کی تلخی: یہ تصویر ہمیں سکھاتی ہے کہ زندگی میں کاندھا تبھی قیمتی ہوتا ہے جب آنکھ سے آنسو بہہ رہا ہو، طوفان گزر جانے کے بعد چھتری کی کوئی ضرورت نہیں رہتی۔دل کا فیصلہ: جو لوگ آپ کے برے وقت میں دور کھڑے تماشا دیکھتے ہیں، اچھے وقت میں ان کی سب سے اگلی صف میں موجودگی آپ کے دل کو کبھی خوشی نہیں دے سکتی۔اگر آپ اس پیغام کو کسی خاص پس منظر میں استعمال کرنا چاہتے ہیں، تو مجھے بتائیں:

03/07/2026

معروف مذہبی اسکالر مولانا ناصر مدنی کی طبیعت نماز جمعہ کے خطبے کے دوران اچانک خراب ہوگئی، جس کے بعد وہ بے ہوش ہو کر گر پڑے، انہیں کارڈیولوجی ہسپتال ملتان منتقل کر دیا گیا ۔

ذرائع کے مطابق جہانیاں میں خطاب کے دوران مولانا ناصر مدنی کو دل کا دورہ پڑا، جس پر سیکیورٹی اہلکاروں نے فوری طور پر انہیں تحصیل ہیڈ کوارٹر (ٹی ایچ کیو) اسپتال منتقل کیا، جہاں ڈاکٹروں نے ابتدائی طبی امداد فراہم کی۔

ڈاکٹروں کی ہدایت پر مولانا ناصر مدنی کو مزید علاج کے لیے ملتان کے کارڈیالوجی اسپتال منتقل کردیا گیا، جہاں ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم ان کا علاج کر رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق مولانا ناصر مدنی کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، جبکہ اسپتال میں انہیں مسلسل طبی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔

دوسری جانب مولانا ناصر مدنی کے اہل خانہ اور مذہبی حلقوں نے عوام سے ان کی جلد صحت یابی کے لیے خصوصی دعا کی اپیل کی ہے۔

03/07/2026

شدید ترین گرمی اور 44 ڈگری سینٹی گریڈ کے جھلسا دینے والے درجہ حرارت کے باوجود، دنیا بھر سے آئے ہوئے ہزاروں زائرین اور مسلمانوں نے مسجد الحرام، مکہ مکرمہ میں انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ نمازِ جمعہ ادا کی۔ تپتی دھوپ کے اس ماحول میں بھی اللہ کے گھر کے مسافروں کے جذبوں اور ایمان میں کوئی کمی نہیں دیکھی گئی، اور انہوں نے کعبۃ اللہ کے سائے تلے گریہ و زاری کے ساتھ خصوصی دعائیں مانگیں۔
اس موقع پر انتظامیہ کی جانب سے مسلمانوں کو گرمی کی شدت سے بچانے کے لیے صحنوں میں ٹھنڈے پانی کے فوارے چلائے گئے اور آبِ زمزم کی چوبیس گھنٹے فراہمی سمیت تمام تر انتظامات کو یقینی بنایا گیا تاکہ سب سکون کے ساتھ عبادات ادا کر سکیں۔

03/07/2026

ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای فروری 2026 میں ایک فضائی حملے میں جاں بحق ہو گئے تھے۔ان کے انتقال کے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر منتخب کیا گیا ہے۔جنازے اور تدفین کا سرکاری شیڈول (جولائی 2026):آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات اور جنازے کے جلوسوں کا باقاعدہ آغاز جولائی کے پہلے ہفتے سے ہو رہا ہے، جو مختلف شہروں اور ممالک سے گزرے گا:تہران (4 اور 5 جولائی): مرکزی جنازہ اور بڑے عوامی اجتماعات تہران کی گرینڈ مصلیٰ (مرکزی مسجد) میں ہوں گے جہاں عوام اور عالمی رہنما الوداع کہیں گے۔قم (7 جولائی): جنازے کا جلوس ایران کے اہم مذہبی مرکز "قم" لایا جائے گا جہاں علماء اور عوام خراجِ عقیدت پیش کریں گے۔عراق (8 جولائی): جلوس کو عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا لے جایا جائے گا جہاں روضہِ امام علیؑ پر خصوصی مذہبی رسومات ادا ہوں گی۔مشہد (9 جولائی): یہ ان کا آبائی شہر ہے، جہاں حرمِ امام رضاؑ کے احاطے میں ان کی حتمی تدفین کی جائے گی

Category

Telephone

Address

Jhelum Dina
Jhelum
49600