Vloging Muhammad Ismail Qadri
Love Pakistan
حب اہل بیت حدیث پاک کی روشنی میں
*صحيح البخاري # ٥٩٩٤*
*Sahih Bukhari # 5994*
عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ ، قَالَ : *كُنْتُ شَاهِدًا لِابْنِ عُمَرَ ، وَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ دَمِ الْبَعُوضِ ، فَقَالَ : مِمَّنْ أَنْتَ ؟ فَقَالَ : مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ ، قَالَ : انْظُرُوا إِلَى هَذَا يَسْأَلُنِي عَنْ دم البعوض وَقَدْ قَتَلُوا ابْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَسَمِعْتُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : «هُمَا رَيْحَانَتَايَ مِنَ الدُّنْيَا» .*
Narrated Ibn Abi Nu'm: *I was present with Ibn 'Umarؓ when a man asked him about the blood of a mosquito. Ibn 'Umarؓ asked, "Where are you from?" The man replied, "From the people of Iraq." Ibn 'Umarؓ said, "Look at this person! He asks me about the blood of a mosquito, yet they have killed the son of the Prophet (ﷺ), whereas I heard the Prophet (ﷺ) saying, «They (Al-Hassanؓ and Al-Hussainؓ) are my two sweet basils (rayhanat) in this world.»"*
ابن ابی نعم نے کہا: *میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر تھا کہ ایک شخص نے ان سے مچھر کے خون کے بارے میں (طہارت کا مسئلہ) پوچھا۔ حضرت ابن عمرؓ نے پوچھا: ”تم کہاں کے رہنے والے ہو؟“ اس نے کہا: ”اهلِ عراق میں سے ہوں۔“ حضرت ابن عمرؓ نے (لوگوں سے) فرمایا: ”ذرا اس شخص کو دیکھو! یہ مجھ سے مچھر کے خون کا مسئلہ پوچھتا ہے حالانکہ ان لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جگر گوشے (نواسے) کو شہید کر دیا، اور میں نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: «وہ دونوں (حسنؓ اور حسینؓ) دنیا میں میرے دو خوشبودار پھول (ریحان) ہیں»۔“*
_*(افسوس کہ آج بعض نادان لوگ نبی کریم ﷺ کے ان دونوں پھولوں، حسن اور حسین رضی اللہ عنہما، کے دشمنوں کے افعال کی تاویل کرتے نظر آتے ہیں جبکہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تو اس علاقے کے لوگوں سے ہی نالاں نظر آتے ہیں جہاں سانحۂ کربلا پیش آیا۔ ایمان کا کمترین درجہ یہ ہے کہ انسان سانحۂ کربلا کے ذمہ داروں کو دل سے برا جانے، چہ جائیکہ ان کے فعلِ شنیع کی تاویل کرتا پھرے۔ اس امت کے اکابر علماء جن میں امام احمد بن حنبل بھی شامل ہیں، یزید کو اس جرم کا ذمہ دار ٹھہراتے تھے اور اسے فاسق و گمراہ کہتے تھے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہمیں ظالموں کی وکالت کے جرم سے بچائے اور اپنے حبیب ﷺ کے ان مبارک پھولوں کی سچی اور والہانہ محبت ہمارے دلوں میں قائم رکھے۔ آمین۔)*_ طالب دعا: محمد اسماعیل قادری
آو حدیث پاک سے استفادہ حاصل کریں
*صحيح مسلم # ٧٤٣٢*
*Sahih Muslim # 7432*
حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ: *كَانَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ فِي إِبِلِهِ فَجَاءَهُ ابْنُهُ عُمَرُ ، فَلَمَّا رَآهُ سَعْدٌ قَالَ : أَعُوذُ بِاللهِ مِنْ شَرِّ هَذَا الرَّاكِبِ ، فَنَزَلَ ، فَقَالَ لَهُ: أَنَزَلْتَ فِي إِبِلِكَ وَغَنَمِكَ وَتَرَكْتَ النَّاسَ يَتَنَازَعُونَ الْمُلْكَ بَيْنَهُمْ ، فَضَرَبَ سَعْدٌ فِي صَدْرِهِ فَقَالَ : اسْكُتْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْعَبْدَ التَّقِيَّ الْغَنِيَّ الْخَفِيَّ» .*
عامر بن سعد نے حدیث بیان کی۔ انھوں نے کہا: *حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اپنے اونٹوں کے پاس تھے کہ ان کا بیٹا عمر (بن سعد) ان کے پاس آیا۔ جب حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے اسے دیکھا تو کہا، ”میں اس سوار کے شر سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں۔“ وہ اترا اور ان سے کہنے لگا، ”آپ اپنے اونٹوں اور بکریوں کے پاس رہائش پذیر ہو گئے ہیں اور لوگوں کو چھوڑ دیا ہے کہ وہ سلطنت کے بارے میں باہم لڑ رہے ہیں (یعنی آپ بھی اپناحصہ مانگیں)۔“ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے اس کے سینے پر ضرب لگائی اور کہا، ”خاموش رہو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: «بے شک اللہ تعالی اس بندے سے محبت رکھتا ہے جو متقی (پرہیزگار)، مخلوق سے بے نیاز اور پوشیدہ حال (یا گوشہ نشین) ہو»۔“*
_*(آپ ﷺ کا یہ فرمان حبِ دنیا کے فتنوں سے ایمان کی حفاظت کا بہترین ضابطہ ہے۔ 'متقی' شخص ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچتا ہے۔ 'غنی' وہ ہے جس کا دل اللہ ﷻ کے سوا ہر کسی سے بے نیاز ہو جائے؛ وہ لوگوں کے سامنے لجاجت نہیں کرتا بلکہ صرف اپنے رب کی طرف متوجہ رہتا ہے۔ 'خفی' وہ ہے جو اپنی نیکی اور ذات کی شہرت سے بچے اور پوشیدہ و گمنام رہنا پسند کرے۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ میں سے تھے، جنہوں نے پوری زندگی جہاد میں گزاری، لیکن جب اقتدار پر جھگڑا شروع ہوا تو اس فرمانِ رسول ﷺ کی روشنی میں گوشہ نشین ہو گئے۔ افسوس کہ ان کے بیٹے عمر بن سعد نے باپ کی اس غیبی نصیحت کو پسِ پشت ڈال دیا اور یزید کے قرب اور رے کی حکومت کے لالچ میں کربلا میں امام حسین رضی اللہ عنہ کے خلاف یزیدی لشکر کی سپہ سالاری قبول کر لی۔ تاریخ گواہ ہے کہ وہ دنیاوی سلطنت بھی اسے نہ ملی اور وہ دنیا و آخرت دونوں میں ذلیل ہو کر انہی لوگوں کے ہاتھوں قتل ہوا جن کی خوشنودی کے لیے اس نے خاندانِ رسول ﷺ پر ظلم ڈھائے تھے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہمیں اور ہماری اولادوں کو دنیا کی طلب میں ذلیل ہونے سے بچائے اور اپنے حبیب ﷺ کی سنت پر کامل توکل نصیب فرمائے۔ آمین۔)*_ طالب دعا: محمد اسماعیل قادری
محرم کے روزے اور تہجد کی فضیلت حدیث پاک کی روشنی میں
*صحيح مسلم # ٢٧٥٥*
*Sahih Muslim # 2755*
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: *قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَفْضَلُ الصِّيَامِ بَعْدَ رَمَضَانَ شَهْرُ اللهِ الْمُحَرَّمُ، وَأَفْضَلُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْفَرِيضَةِ صَلَاةُ اللَّيْلِ» .*
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ *رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رمضان کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے "محرم" کے ہیں اور فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز رات کی نماز (تہجد) ہے۔*
_*(آپ ﷺ نے سال کے تمام مہینوں میں سے صرف محرم کو "اللہ کا مہینہ" فرما کر اس کی خاص حرمت و تقدس کو واضح فرمایا۔ فقہاء و شارحین کے مطابق اس کے روزوں کی فضیلت صرف نو اور دس محرم تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ عام حکم ہے؛ اس پورے مہینے میں کثرت سے روزے رکھنا مستحب ہے، بالخصوص محرم کے سوموار، جمعرات اور ایامِ بیض یعنی 13، 14، 15 محرم کے روزے رکھنے سے سنتِ دائمہ اور شہرُ اللہ دونوں کا اجر جمع ہو کر دوگنا ہو جاتا ہے۔ اسی طرح فرض نماز کے بعد تہجد اللہ کے نزدیک تمام نوافل سے بڑھ کر مقبولیت رکھتا ہے کیونکہ یہ نیند کو توڑ کر تنہائی میں اخلاص کے ساتھ قیام بالقرآن ہے۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہمیں ان مبارک مواقع سے مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین)*_
طالب دعا *::* محمد اسماعیل قادری
آو حدیث پاک سے رہنمائی حاصل کریں
*صحيح البخاري # ٢٢٢٧*
*Sahih Bukhari # 2227*
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، *عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : «قَالَ اللهُ: ثَلَاثَةٌ أَنَا خَصْمُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، رَجُلٌ أَعْطَى بِي ثُمَّ غَدَرَ ، وَرَجُلٌ بَاعَ حُرًّا فَأَكَلَ ثَمَنَهُ ، وَرَجُلٌ اسْتَأْجَرَ أَجِيرًا فَاسْتَوْفَى مِنْهُ وَلَمْ يُعْطِ أَجْرَهُ» .*
Narrated Abu Hurairaؓ that *the Prophet ﷺ said: Allah says, “I will be the Adversary of three (types of persons) on the Day of Resurrection: -1. One who makes a covenant in My Name and then proves treacherous; -2. One who sells a free person and consumes the price; -3. And one who employs a labourer, receives the full work done by him, but does not pay him his wages.”*
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ *رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، "تین طرح کے لوگ ایسے ہیں جن کے خلاف قیامت کے دن میں (جل جلالہ) مدعی بنوں گا: وہ شخص جس نے میرے نام پر عہد کیا اور پھر توڑ دیا؛ وہ شخص جس نے کسی آزاد انسان کو بیچ کر اس کی قیمت کھائی؛ اور وہ شخص جس نے کوئی مزدور اجرت پر رکھا، اس سے پوری طرح کام لیا، لیکن اس کی مزدوری نہیں دی۔"*
_*(یہ فرمان مبارک معاشرتی ظلم کی تین ہولناک شکلوں میں ظالم کے دردناک انجام کو بیان کرتا ہے، کیونکہ جس بدبخت کے خلاف خود اللہﷻ مدعی بن جائے، اس کی بربادی و ہلاکت یقینی ہے۔ پہلا اور تیسرا گناہ یعنی اللہ کا نام لے کر دھوکہ دینا، اور کسی کی محنت اور مزدوری ہڑپ کر لینا تو سب سمجھتے ہیں مگر کئی لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ آزاد کو غلام بنانے والا ظلم شاید ختم ہو گیا ہے۔ حقیقت میں اس گناہ کی جدید شکل انسانی اسمگلنگ، اغوا اور بیگار کیمپ وغیرہ ہے۔ اور اگر ایسے ظالم دنیاوی سزا سے بچ بھی جائیں تو آخرت میں کائنات کا مالک خود ان کے خلاف مقدمہ لڑے گا۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہمیں نیتوں کے کھوٹ اور حقوق العباد کی پامالی سے اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین)*_ طالب دعا: محمد اسماعیل قادری
حق مہر اور قرض کے بارے حدیث پاک سے رہنمائی حاصل کریں
*مجمع الزوائد # ٦٦٥٤*
*Majma al-Zawa'id # 6654*
عَنْ مَيْمُونٍ الْكُرْدِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: *سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَيُّمَا رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى مَا قَلَّ مِنَ الْمَهْرِ أَوْ كَثُرَ لَيْسَ فِي نَفْسِهِ أَنْ يُؤَدِّيَ إِلَيْهَا حَقَّهَا، خَدَعَهَا، فَمَاتَ وَلَمْ يُؤَدِّ إِلَيْهَا حَقَّهَا لَقِيَ اللهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهُوَ زَانٍ ؛ وَأَيُّمَا رَجُلٍ اسْتَدَانَ دَيْنًا لَا يُرِيدُ أَنْ يُؤَدِّيَ إِلَى صَاحِبِهِ حَقَّهُ أَخَذَ مَالَهُ، فَمَاتَ وَلَمْ يُؤَدِّ إِلَيْهِ دَيْنَهُ لَقِيَ اللهَ وَهُوَ سَارِقٌ»
میمون الکردی اپنے والد (ابو میمون رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: *میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو کوئی شخص کسی عورت سے (حقِ) مہر مقرر کر کے نکاح کرے، خواہ وہ مہر تھوڑا ہو یا زیادہ، جبکہ اس کے دل میں اس کا وہ حق (مہر) ادا کرنے کی نیت ہی نہ ہو، اس نے اسے دھوکا دیا، پھر وہ اس حال میں مر جائے کہ اس کا حق ادا نہ کیا ہو، تو وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ وہ زانی ہو گا؛ اور جو کوئی شخص کسی سے قرض لے اور اس کے مالک کو اس کا حق لوٹانے کا ارادہ نہ رکھتے ہوئے اس کا مال لے لے، پھر وہ اس حال میں مر جائے کہ اس کا قرض ادا نہ کیا ہو، تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ وہ چور ہو گا۔“*
_*(شریعت نے نکاح کے مہر کو عورت کا محفوظ قانونی و شرعی حق بنایا ہے۔ اگر کوئی شخص مہر محض عورت کو دھوکا دینے کے لیے مقرر کرے اور دل میں ادائیگی کی نیت نہ رکھتا ہو، تو اللہ کے ہاں وہ نکاح باطل تو نہیں ہوتا مگر نیت کے اس کھوٹ کی وجہ سے وہ شخص اخروی گناہ اور سزا میں زانی کی مانند قرار پاتا ہے کیونکہ اس نے عورت کا استحصال کیا۔ اسی طرح جو شخص واپسی کی نیت کے بغیر کسی سے قرض لیتا ہے، وہ غیب کے نظام میں چور کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔ محدثین کے مطابق یہ سخت الفاظ اس جرم کی ہولناکی کو ظاہر کرنے کے لیے ہیں، جو ثابت کرتے ہیں کہ بندوں کے حقوق کے معاملات صرف ظاہری کاغذی کارروائی کا نام نہیں ہیں، بلکہ دلوں کے بھید جاننے والا رب نیتوں کے مطابق جزا و سزا کا فیصلہ فرماتا ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہمیں نیتوں کے کھوٹ، حقوق العباد کی پامالی، اور مہر و قرض کی نادہندگی سے پیدا ہونے والی اس اخروی رسوائی سے اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین۔)*_
طالب دعا: محمد اسماعیل قادری
خوشی اور غم کی صورت مومن مسلمان کی حالت یا کیفیت کیا ھونی چاھئے۔ آو حدیث پاک سے رہنمائی حاصل کریں
*السلسلة الصحيحة # ٣٢٨٠*
*As-Silsilah As-Sahihah # 3280*
عَنْ أَنْسِ بْنِ مَالِكٍ مَرفُوعاً: *«صَوتَانِ مَلْعُونَان ، صَوْتُ مِزْمَار عِنْد نِعمَةٍ ، وَ صَوت وَيْلٍ عِنْد مُصِيْبَة» .*
Narrated Anasؓ bin Malik, in *a report raised (to the Prophet ﷺ): "Two voices are cursed: the sound of a musical instrument (flute/pipe) at the time of a blessing; and the wailing sound (of woe) at the time of a calamity."*
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً *(نبی کریم ﷺ سے) روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”دو آوازیں ملعون (ملامت زدہ اور محرومِ رحمت) ہیں: نعمت کے وقت باجے (موسیقی) کی آواز؛ اور مصیبت کے وقت ہائے وائے (نوحہ و ماتم) کی آواز۔“*
_*(آپ ﷺ نے واضح فرمایا کہ جب اللہ کوئی نعمت، کامیابی یا خوشی عطا فرمائے تو اس کا شکر عاجزی اور بندگی سے ادا ہونا چاہیے، نہ کہ آلاتِ موسیقی، باجوں، ناچ گانے اور لایعنی اودھم کے ذریعے جو انسان کو صاحبِ نعمت ﷻ سے غافل کر دیں۔ اسی طرح جب کوئی مصیبت، صدمہ یا موت واقع ہو، تو صبر اور استرجاع یعنی "إِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ' کہنا مؤمن کا شیوہ ہونا چاہیے، نہ کہ جاہلیت کی طرح کپڑے پھاڑنا، منہ پیٹنا اور ہائے وائے کی صدائیں بلند کرنا۔ یہ فرمان ہمیں جذبات پر قابو پانے، شکر و صبر کا امتزاج بننے اور ہر حال میں اللہ کی رضا کے دائرے میں رہنے کی تاکید کرتا ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہمیں خوشیوں میں شکر گزار اور مصائب میں صابر رہنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہر قسم کی ملعون ایجادات و خرافات سے ہمارے ایمان کی حفاظت فرمائے۔ آمین۔)*_
طالب دعا: محمد اسماعیل قادری
Click here to claim your Sponsored Listing.