imran jathol 1
news personality
15/07/2026
جاپان کی بلٹ ٹرینوں نے 60 سالوں کے دوران کسی بھی ٹرین حادثے کی وجہ سے ایک بھی مسافر کی ہلاکت یا زخمی ہوئے بغیر 10 ارب سے زیادہ مسافروں کو اپنی منزل تک پہنچایا ہے۔
جب سے پہلی 'شنکانسین' (Shinkansen) ٹوکیو اولمپکس سے محض نو دن پہلے، 1 اکتوبر 1964ء کو ٹوکیو اسٹیشن سے روانہ ہوئی، یہ نیٹ ورک دنیا کے وسیع ترین اور سب سے زیادہ استعمال ہونے والے تیز رفتار ریل نظاموں میں سے ایک بن چکا ہے۔ ٹرینیں معمول کے مطابق 300 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زائد کی رفتار سے چلتی ہیں، جو جاپان کے بڑے شہروں کے درمیان روزانہ، مسلسل چھ دہائیوں سے، دن میں کئی بار مسافروں کو لے کر جاتی ہیں۔ اور اس پورے عرصے میں، 10 ارب سے زیادہ انفرادی سفروں کے دوران، ایک بھی شخص ٹرین کے پٹری سے اترنے یا تصادم کے باعث ہلاک یا زخمی نہیں ہوا۔
اگر اس کا موازنہ کیا جائے تو دنیا بھر کے دیگر تیز رفتار ریل نیٹ ورکس کو ہلاکت خیز حادثات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ جرمنی کے آئی سی ای (ICE) نیٹ ورک کو 1998ء کے ایشیڈے (Eschede) سانحے میں 101 افراد سے ہاتھ دھونا پڑا۔ اسپین کی تیز رفتار لائن پر 2013ء کے سانتیاگو ڈی کمپوسٹیلا (Santiago de Compostela) حادثے میں 79 افراد ہلاک ہوئے۔ چین کے سسٹم کو 2011ء میں ایک ہلاکت خیز تصادم کا سامنا کرنا پڑا۔ جاپان کی شنکانسین نے ان تمام ممالک کے برابر یا ان سے بڑے پیمانے پر کام کیا ہے لیکن اسے کبھی بھی اس جیسے کسی سانحے کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
یہ کوئی خوش قسمتی نہیں ہے۔ یہ دہائیوں کے سوچے سمجھے انجینئرنگ فیصلوں کا نتیجہ ہے۔ شنکانسین ٹرینیں خصوصی طور پر اپنے ہی مخصوص ٹریکس پر چلتی ہیں، جو پیدل چلنے والوں، کاروں اور سست رفتار ریل ٹریفک سے مکمل طور پر الگ تھلگ ہیں۔ ایک خودکار ٹرین کنٹرول سسٹم مسلسل رفتار کی نگرانی کرتا ہے اور اگر ٹرین محفوظ حد سے تجاوز کرے تو خود بخود بریک لگا دیتا ہے۔ ملک بھر میں نصب زلزلہ پیما آلات (Seismometers) زلزلے کے پہلے جھٹکے کو محسوس کر لیتے ہیں اور تیز جھٹکے آنے سے پہلے ہی متاثرہ علاقے کی ہر ٹرین کو چند سیکنڈوں میں روک سکتے ہیں۔
اس نظام کا عملی طور پر بھی امتحان ہو چکا ہے۔ 2011ء کے تباہ کن توہوکو (Tohoku) زلزلے اور سونامی کے دوران، چلنے والی ہر شنکانسین ٹرین خود بخود محفوظ طریقے سے رک گئی۔ کوئی بھی مسافر زخمی نہیں ہوا۔ نقصان صرف ان خالی ٹرینوں کو پہنچا جو دیکھ بھال کے یارڈز (Maintenance yards) میں کھڑی تھیں۔
جاپان کی بلٹ ٹرینوں نے 60 سالوں کے دوران کسی بھی ٹرین حادثے کی وجہ سے ایک بھی مسافر کی ہلاکت یا زخمی ہوئے بغیر 10 ارب سے زیادہ مسافروں کو اپنی منزل تک پہنچایا ہے۔
ہم اپنی زندگی میں دوسروں پر انحصار کرتے رہے، مقابلہ کرنے کی ہمت ہی نہیں کی، اور شرمندگی نے ہمیں جھکا دیا۔ ایسے غلامانہ زندگی پر افسوس ہے 😊۔
بریکنگ نیوز
امریکی ڈیپارٹمنٹ آف وار نے اپنی پریس بریفننگ میں کہا ہے کہ ایران پر حملے کے لیئے 100 کے قریب طیارے استعمال ہوئے جو مختلف ریاستوں سے اڑے ہیں
اب دنیا بتائے اگر ایران جوابی کارروائیوں میں ان ممالک کو ٹارگٹ نہ کرے جن سے حملہ آور طیارے اڑ کر آئیں ہیں تو کیا کرے۔
ایک ایسا حملہ جس میں ایران کی تقریبا ساری نیشنل قیادت شہید کر دی گئی ہے
100 کے امریکی طیارے زمینی بیسز اور بحری بیڑوں سے اڑے۔۔
ایران دفاع میں ایسے بیسز کو ٹارگٹ کرنے میں حق بجانب رہے گا
منقول
ٹکر کارلسن ، جو پہلے فاکس نیوز سے وابستہ تھے اور اب بطور فری لانس صحافی کام کرتے ہیں ، نے چونکا دینے والا انکشاف کیا ہے۔ اس کے مطابق سعودیہ اور قطر نے اپنے ممالک میں موساد کے ایجنٹوں کو پکڑا ہے جو تخریبی کاروائیوں میں ملوث تھے۔
اگرچہ بڑے میڈیا ہاؤسز میں یہ خبر نہیں آ رہی لیکن مجھے یہ درست لگتی ہے۔ بہتر ہے بندہ وضاحت کرتا چلے کہ کس بنیاد پہ وہ کسی خبر کو لیتا ہے ، تو سورس سے زیادہ بندہ یہ دیکھتا ہے کہ آیا یہ خبر گزشتہ خبروں کے تسلسل میں ہے ، فرد یا ملک کی پالیسی اور اس کے مفادات کا تقاضا واقعی یہی تھا ؟
اسی وجہ سے نیویارک ٹائمز کی خبر کہ ایم بی ایس ڈبل گیم کر رہا تھا اور اندر خانے امریکہ کو ایران پہ حملہ کے لئے اکساُ رہا تھا ، پہ بندہ مشکوک تھا حالانکہ نیویارک ٹائمز بہت بڑا سورس ہے لیکن 2017 سے ایم بی ایس کی طرف سے صرف امریکہ پہ انحصار کی بجائے روس چین امریکہ کے درمیان اتنے لمبے عرصے سے چلی آرہی ری بیلنسنگ کی پالیسی کے یہ خلاف تھی اور جن دنوں کے بارے میں یہ دعویٰ کیا جارہا تھا ان دنوں تو ایم بی ایس باقاعدہ طور پہ امارات اسرائیل نیکسس پہ کریک ڈاؤن میں مصروف تھا اور اسرائیلی میڈیا ایم بی ایس پہ گرج برس رہا تھا تو ایسا کیوں کرتا وہ ؟
اسی طرح جمال خشوگی والے معاملہ پہ امریکی پریس کے شور کو میں نے کبھی آزادی صحافت کی کاز نہیں سمجھا تھا ، میری رائے میں امریکی اسٹیبلشمنٹ اسے خطرناک سمجھ رہی تھی اور اس کی غلطی سے فائدہ اٹھانے کے چکر میں تھی۔ ایم بی ایس کی ٹرمپ کے ساتھ دوستی کے پیچھے بھی میرا یہی خیال تھا کہ چونکہ ٹرمپ اس وقت اسٹیبلشمنٹ کے دباؤ میں نہیں آیا تو یہی چیز انکی غیر معمولی دوستی کا سبب بنی۔
اور پھر بائیڈن نے آتے ہی جس طرح ایم بی ایس پہ چڑھائی کی اور ایم بی ایس نے جس سرد مہری کا رویہ امریکہ کے ساتھ رکھا اور یوکرائن وار پہ تیل کے معاملے میں امریکہ کی بجائے روس کا ساتھ دیا اس نے بندہ کے تجزیہ کی تصدیق کی۔
کل ہی قطر کی گیس تنصیبات اور سعودیہ کی پٹرولیم تنصیبات پہ حملہ ہوا تھا جس کا ایران نے اپنے ملوث ہونے کا انکار کیا تھا اور اب سعودیہ میں امریکی سفارت خانے پہ حملہ ،
بندہ کی نظر میں امریکہ اور اسرائیل اس دلدل سے نکل کر عربوں کو پھنسانا چاہ رہے ہیں تاکہ یہ عرب ایران جنگ بن جائے اور وہ دور بیٹھے عربوں کے محافظ بنے رہیں۔
دیکھنا یہ ہے کہ قطر اور سعودیہ یہ گولی نگلتے ہیں یا نہیں ؟
بحرین اور امارات البتہ اسرائیل کے ساتھ ہی ہیں اور رہینگے
کنفرمیشن بزریعہ سیٹیلائٹ امیجری۔ کویت کی امریکی ملٹری بیس پر تین لینڈ بیسڈ لانگ رینج ریڈار تباہ
03/03/2026
بندے کا کانفیڈنس کمال تھا، اور ہونا بھی چاہیے تھا۔
الجزیرہ کو DGISPR کا دیا گیا انٹرویو
الجزیرہ نے سوال کیا کہ آپ کیا سمجھتے ہیں اگر ایران کے بعد اگلا ہدف پاکستان ہوا تو ؟؟؟ ....ڈی جی آئی ایس پی آر:
پاکستان کے عسکری اداروں میں اس بات کی کوئی پریشانی نہیں کہ اگلا ہدف پاکستان ہوگا یا نہیں، کیونکہ پاکستان اور دیگر ممالک میں فرق ہے ہم ایک تسلیم شدہ ایٹمی طاقت ہیں۔ دنیا کو کبھی تجربہ نہیں ہوا کہ وہ کسی ایٹمی طاقت کو آزمائے، اگر ایسا کچھ ہوا تو دنیا میں وہ ہوگا جس کا تصور شاید اب تک کسی نے نہیں کیا ہوگا۔ اس کے ایسے نتائج ہوں گے جو شاید دنیا برداشت نہ کرسکے۔ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں دوبارہ کہتا ہوں ایٹمی طاقت سے ٹکرانا بہت بڑی حماقت اور ناقابل تصور عمل ہوگا
Category
Website
Address
Bahawalpur
Alerts
Be the first to know and let us send you an email when imran jathol 1 posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.