Saeed akhter

Saeed akhter

Share

education

27/07/2026

عنوان: ملاوٹ اور دھوکہ دہی — قرآن و سنت کی روشنی میں
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو تجارت اور لین دین میں سچائی، ایمانداری اور شفافیت کی سخت تاکید کرتا ہے۔ اشیائے خوردونوش یا کسی بھی چیز میں ملاوٹ کرنا اخلاقی اور شرعی لحاظ سے شدید گناہ ہے۔
۱. قرآن مجید کی تعلیمات:
اللہ تعالیٰ نے ناپ تول میں کمی اور دھوکہ دہی کرنے والوں کے بارے میں شدید وعید نازل فرمائی ہے:
"وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَ"
"ہلاکت اور تباہی ہے ناپ تول میں کمی (اور دھوکہ) کرنے والوں کے لیے۔"
(سورۃ المطففین: ۱)
ایک اور مقام پر ارشاد ہے:
"وَأَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيزَانَ بِالْقِسْطِ"
"اور ناپ اور تول انصاف کے ساتھ پورا پورا کرو۔"
(سورۃ الانعام: ۱۵۲)
۲. احادیثِ مبارکہ (سنتِ نبویؐ):
ملاوٹ کرنے والا ہم میں سے نہیں:
رسول اللہ ﷺ کا گزر غلے کے ایک ڈھیر سے ہوا، آپؐ نے اپنا ہاتھ اس میں ڈالا تو انگلیوں میں تری محسوس ہوئی۔ آپؐ نے دریافت فرمایا: "اے غلے کے مالک! یہ کیا ہے؟" اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس پر بارش ہو گئی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
"مَنْ غَشَّنَا فَلَیْسَ مِنَّا"
"جس نے ملاوٹ (دھوکہ) کی، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔"
(صحیح مسلم: ۱۰۲)
عیب چھپا کر بیچنا حرام ہے:
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں کہ وہ کوئی ایسی چیز بیچے جس میں کوئی عیب ہو، الا یہ کہ وہ اس عیب کو (خریدار پر) واضح کر دے۔"
(سنن ابن ماجہ: ۲۲۴۶)
سچے تاجر کا مقام:
آپ ﷺ نے سچی اور امانت دارانہ تجارت کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے فرمایا:
"سچا اور امانت دار تاجر (قیامت کے دن) انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا۔"
(سنن ترمذی: ۱۲۰۹)
خلاصہ و پیغام:
ملاوٹ صرف مالی دھوکہ دہی نہیں بلکہ انسانوں کی صحت اور زندگیوں سے کھلواڑ بھی ہے۔ حلال روزی میں برکت ہے اور حرام کا انجام دنیا اور آخرت دونوں میں تباہی ہے۔ آؤ مل کر عہد کریں کہ ہم ہر قسم کی ملاوٹ اور دھوکہ دہی سے پاک سچی اور حلال تجارت کو فروغ دیں گے۔

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Attock?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Website

Address

Dhoke Rehman Abad P/o Khunda Teh Jand
Attock
43300